مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
بٹ کوائین کے ساتھ ڈارک ویب پر بچوں کی نازیبا ویڈیوز کا کاروبار کرنے والا عالمی گروہ گرفتار
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
ظلم کی وراثت
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے چند روز قبل نو منتخب افغانستان صدر جناب اشرف غنی سے کابل میں ملاقات کی اور انہیں وزیر اعظم پاکستان کاتہنیتی پیغام پہنچایا۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں صدر اشرف غنی کو افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے پاکستان کی طرف
اوورسیز پاکستانی
پاکستان کے افغانستان سے تعلقات ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت و احترام کا ایک مضبوط رشتہ استوار ہے لیکن بعض سیاسی اوتار چڑھائو کے باعث حکومتی سطح پر ان مضبوط روابط کو کمزور کرنے کی اندرونی و بیرونی سطح پر سازشوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری رہا
ہوشمندی کے تقاضے
بھارتی وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اب اس قابل نہیں کہ بھارت سے کوئی روایتی جنگ لڑ سکے۔ان کی اس بیان کے ساتھ ہی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بھی ایک دم سے بڑھ گیا اور پاکستان سے تجارتی مراسم
سازشوں کے جال
امید اور یقین میں بہت فرق ہوتا ہے۔امیدمیں ہونے اور نہ ہونے،دونوں کا امکان ہوتا ہے جبکہ یقین کسی بھی قسم کے شبے سے پاک کیفیت کا نام ہے۔امید انسانوں سے وابستہ کی جاتی ہے جبکہ یقین اس سے کہیں بالا تر منز ل کا نام ہے۔یقین حصول منزل کی ضمانت ٹھہرتا ہے جبکہ امید
نیا پاکستان چاہیئے مگر کیسا ؟
سیاسی کارکن پیپلز پارٹی کا ہو، ن لیگ کا، پی ٹی آئی کا یا کسی اور جماعت کا ۔۔۔۔ ملک و قوم کا وفادار ہے، اسے ملک کا درد ہے ‘اسکی پارٹی دو چار سال کیلئے اقتدار میں آجائے تو وہ اسی زعم میں وقت گذار دیتا ہے کہ لوگ اسے ایم این اے
خان پر قادری کا ’’دم ‘‘ ہو چکا
’’ جو بھی گلو بٹ ملا اسے طالبان کے حوالے کر دیں گے ‘‘عمران خان کے اس جملے نے فوجی جوان ،ایک شہید کی ماں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔ ضرب عضب کے شہید کی ماں کی گرج کو پوری دنیا نے سنا ۔شہید کی ماں نے کہا کہ عمران خان کو علم
پاک فوج کے خلاف سازشیں
پاکستان دشمنی کے حوالے سے کچھ کتابیں بھی منظر عام پر آچکی اور آرہی ہیں، ان تمام کتابوں کے مصنفین کا تعلق یا تو امریکہ سے ہے یا وہ امریکہ میں قیام پذیر ہیں،پہلی کتاب کے مصنف عقیل شاہ ہیں اور کتاب کا نام’The Army And Democracy‘اس کتاب میں فاضل مصنف نے اس فلسفہ
کچھ بے رحم اور احسان فراموشوں کیلئے
یہ اسی رمضان کی بات ہے مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ رات کے ڈھائی بجے کے قریب موبائل کی گھنٹی نے مجھےایکدم چونکا دیا تھا، “سر آب کے ہاں سحری ختم ہونے میں کتنی دیر ہے؟‘مجھے لیفٹیننٹ یوسف کی اس معصومیت پر ذرا سی بھی حیرت نہیں ہوئی۔وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔اسے
سنار یا لوہار
گلورات سکون کی نیند سو رہا تھا کہ اسے اچانک پیٹ میں درد کی شدت نے جگا دیا معمولی گھریلو علاج معالجہ پر اکتفا کیا تو وقتی سکون میسر آیا اور پھر سہانے خوابوں کی دنیا میں کھو گیا صبح حسب معمول جاگ کر روز مرہ کے کام کاج شروع کر دیئے اگلی رات ایک
کشمیر براستہ غزہ
اپنی تکلیف اور اپنی مصیبت بھول کر مصیبتوں میں گھرے دوسرے انسانوں کا احساس کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،اس کام کے لئے بڑے حوصلے اور بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے حال ہی میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کیلئے ایک ملین امریکی ڈالر کی امداد کا جو
غزہ ہم شرمندہ ہیں
دنیا بھر کی مسلمان کمیونٹی ماہ رمضان کا آخری عشرہ انتہائی کرب کی حالت میں گزار رہی ہے او ر عید کی یہ خوشی دردمند اور اہل ایمان کیلئے بے حد پریشانی اور دکھ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کی وجہ فلسطین میں بے یارو مددگار مسلمانوں پر اسرائیل کی ظلم و بربریت ہے
قدیم ترین مسجد میں نیا ثقافتی مرکز
روس کے علاقے کازان میں ماہ رمضان کے دوران ایک نیا ثقافتی مرکز وجود میں آیا ہے۔ یہ شیگابتدین (شہاب الدّین) مردجانی سے منسوب ہے۔ مرکز بارے پیشکاری افطار کے وقت اسی مسجد میں ہوئی جو اس نامور تاتار دانشور اور عالم دین کے نام سے موسوم ہے۔
دنیا کوکنفیوژ کرنے والے کشمیریوں کا محاسبہ کب؟
تیرہ جولائی 1931ء کا دن کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ اس روز سرینگر کی سینٹرل جیل میں 22 مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ قرآن کی بے حرمتی پر کشمیر کے مسلمان سراپا احتجاج تھے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نوجوان نے مہاراجہ کے خلاف بغاوت کا
گلو . . . ان لندن
گزشتہ ماہ منہاج القرآن لاہور میں ریاستی دہشتگردی کے واقعہ نے قومی سطح پر جو نیا کردار متعارف کروایا ہے وہ ’’گلو بٹ ‘‘ ہے مولا جٹ فیم اس گلو کا گلستان سیاست سے تعلق ہے جو صرف پاکستان یا بھارت جیسے ممالک میں ہی پایا جاسکتا ہے جہاں کی عوام کو محض اس لیے
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم . . . .محترمہ فاطمہ جناح
اصول پسندی ، حب الوطنی ، غیرت مندی، حق گوئی ، بے باکی، عظم و ہمت ۔۔۔یہ ساری خوبیاں اس ہستی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جنہیں محترمہ فاطمہ جناح کہتے ہیں۔ قوم نے فاطمہ جناح کو ’’مادرِ ملت‘‘ اور ’’خاتون پاکستان‘‘ کا خطاب دیا۔ محترمہ 31جولائی1893ء کو کراچی میں پیدا ہوئی۔ آپ قائد اعظم
آمریت کے گھنائونے اثرات
5 جولائی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ہر سال 5 جولائی کا دن اپنے ساتھ ناخوشگوار یاد لے کر آتا ہے یہ وہ دن ہے جب پاکستان کی تاریخ کے سفاک ترین فوجی آمر ضیاء الحق نے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قومی
عبدالستار ایدھی : خدمت انسانی کی علامت
ایدھی فائونڈیشن دنیا بھر میں خدمت کے حوالے سے کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اس کے سربراہ عبدالستار ایدھی سادگی، محبت، خلوص اور وفا کا جیتا جاگتا پیکر ہیں۔ انکی خصوصی ہدایات پر ایدھی فائونڈیشن کا ہر ملازم سادگی اور انسانیت سے فطری محبت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ امسال رمضان المبارک کیلئے
سجاد کریم اوریورپین پارلیمنٹ کی صدارت
جون 2004 میں سجاد کریم نامی پاکستانی نژاد یورپین پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہؤا توبر طانیہ بھر میں مجموعی طور پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ مختلف آراء آئیں مثلا اہل پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ پہلا پاکستانی پہلا مسلمان یورپی پارلیمنٹ میں داخل ہو رہا ہے یہ بھی کہا گیا
ماحولیاتی آلودگی کے خوفناک حقائق
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 5جون کو ماحولیاتی آلودگی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے خوفناک حقائق سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ انسانی صحت کیلئے کھلی فضاء اور صاف ہوا میں سانس لینا بہت ضروری ہے ۔ لیکن اس ترقی یافتہ اور سائٹیفک دور میں انسان کو نہ