مقبول خبریں
پاکستانی و کشمیری برطانوی شہریوں کا تمام شعبہ جات میں نمایاں مقام باعث فخر ہے:افضل خان
عمران خان خود اپنی پارٹی کیلئے باعثِ شرمندگی ہے : ڈاکٹر اشرف ،ملک ریاض،شاکرقریشی
پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل سوکا فیڈریشن کا قیام، ٹرنک والا فیملی کو خراج تحسین
وزارتِ عظمیٰ کے بعد نواز شریف مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی فارغ
بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، تعلیمی ادارے بند
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
اوورسیز پاکستانیز ویلفیر کونسل کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر پر کار ریلی کا انعقاد
راجہ نجابت اور ان کی ٹیم کامسئلہ کشمیرپر متحرک کردار قابل ستائش ہے: سٹوورٹ اینڈریو
عمران خان مارگریٹ اور میں
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
قتل عام
تربت میں بیس مزدوروں کا بہیمانہ قتل اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنما محمد قمرالزماں کو دی جانے والی سزائے موت،۱۲۔ اپریل کا دن ، ظلم اور سفاکی پر مبنی ان دو واقعات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ تربت میں ایک زیر تعمیر پل کی تعمیر میں
شرمناک انجام سے بے خبر معصوم مسلمان
جوائنٹ فورسز سٹاف کالج ، امریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔امریکی فوجی افسروں اور ان سویلینز کے لیے کہ جو فوج کے مختلف شعبوں سے منسلک ہوتے ہیں،اس ادارے کے زیر اہتمام ، نہایت تواتر سے تربیتی کورسز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔مئی2012 کی بات ہے، پینٹاگون میں امریکی فوجی افسروں
اگر مہمان بقاء اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے تو . . . .
انجان سرزمینوں کی جانب ہجرت، ہمیشہ سے انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ رہاہے۔ لوگ اپنے بھرے پرے گھر،سنبھلے ہوئے کاروبار، زمین جائیداد، کھیت کھلیان چھوڑ کر، ایسی منزلوں کی جانب سفر کو مجبور ہوجاتے ہیں کہ جہاں کسی کو بھی ان کے شاندارماضی کی خبر نہیں ہوتی۔زندگی کا ایک نئے سرے سے آغاز
ایک دن منصورہ میں
یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر انتظام ایوان اقبال میں سالانہ سہ روزہ کانفرنس جاری تھی،جناب رفیق احمد تارڑ، قائم مقام گورنر پنجاب رانا محمد اقبال، سندھ سے غوث علی شاہ صاحب، علامہ اقبال کے ایک پوتے اور ملتان سے تحریک پاکستان کے نامور محقق جناب حمید رضا صدیقی، وہاں
دھرتی کے اس پار مسافر
برطانیہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں کہ جو وہاں جا کر محنت مزدوری کرتے ہیں، ٹیکسی چلاتے ہیں،گیس سٹیشن پر گاڑیاں بھر تے ہیں، ریستورانوں میں صفائی ستھرائی کا کام بھی کرتے ہیں،بے شمار ایسے بھی ہیں جن کے آباؤ اجداد کئی دہائیاں پہلے انگلستان پہنچے، محنت
جگنوئوں کو راستوں کا علم ہونا چاہیے
اپنے پاکستانی دوست کی دعوت پر ایک چینی تاجر چند برس پہلے پاکستان آئے تو یہاں کی ترقی دیکھ کر بہت خوش ہوئے، نئی سڑکیں، نئے پل، شاپنگ مال، بزنس سینٹرز،فلک بوس عمارتیں،لش پش کرتی گاڑیاں اور بہت کچھ، ائر پورٹ سے گاڑی میں گھر کی طرف آتے ہوئے ،چینی
اس کے خلاف آواز کون اٹھائے گا
کسی بھی شخص کو اس کے کمترخاندانی پس منظر کی بنیاد پر حقیر جاننا ایک بدترین ناانصافی ہے۔اگر باپ بھیڑ بکریاں چراتا تھا یا پھر جوتے ٹانکنے کی مزدوری کرتا تھا اور اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کوئی بڑا افسر ، سیاستدان یا پھر حکمران بن گیا تو ہمیں اس غریب باپ کی عظمت
سمندر بھولتا بالکل نہیں ہے
سر!!!سمندر کتنا گہرا ہوتا ہے،؟؟؟ میں نے ایک بار اپنے ایک ٹیچر سے سوال کیا، تب شاید میں چوتھی جماعت میں تھا اور اتفاق سے چند روز پہلے ہی کراچی میں ساحل سمندر بھی دیکھ کر آیا تھا۔میرے ٹیچر نے بہت معصوم سا جواب دیا، سمندر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ تم جیسے ایک ہزار
ایک نیا انقلاب فرانس
’ اپنی لڑکیوں کو سنبھال کر کیوں نہیں رکھتے؟ اگر تم انہیں توجہ دوگے تو کسی کو ان پر بری نظر ڈالنے کی ہمت نہیں ہوگی،‘ جج صاحب نے اپنی عدالت میں پیش ہونے والے ادھیڑ عمر شخص کی سرزنش کرتے ہوئے کہا۔ اس شخص کی سات لڑکیوں میں سے دو اپنے اپنے آشناؤں
سوال نفرت،جواب نفرت
آپ کو معلوم ہے بھارت کا سب سے دیانتدار سیاستدان کون ہے؟؟؟؟؟ مئی ۲۰۱۳ میں پورے ہندوستان میں ایک این جی او نے اس حوالے سے رائے شماری کروائی تو ہر طرف سے ایک ہی نام سامنے آیا، مس ممتا بنرجی۔ بھارت کی اس دیانتدار ترین سیاستدان نے ساری زندگی مذہب اور عقیدے کی قید
آخری کالم
اگر زبان سے ادا ہونے والے ہر لفظ کو آخری لفظ اور اور قلم سے لکھے جانے والے ہر حرف کو آخری حرف سمجھنے لگیں تو ہم سچ بولنے اور سچ لکھنے پر مجبور ہوجائیںگے، سچائی ہماری جبلت بن جائے گی، اور پھر یہ جبلت ہمیں حق پرست بھی بنا
بریکنگ نیوز
بابا!! فائرنگ والے انکل اب ہمارے سکول میں بھی آئیں گے؟ گھر سے سکول کے لیے نکلتے ہوئے میرے چھوٹے بیٹے نے اچانک سے سوال کر دیا۔مجھے اس دھند آلود موسم میں ایک دم سے پسینہ آگیا۔ میں کیا جواب دیتا، میرے پاس کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ میں نے اس کے کوٹ کا کالر
ملالہ نام کی لڑکی......
چینی انرجی سیور،امریکی بادام،جاپانی گاڑیاں اور بھارتی پان اور چھالیہ،پاکستان میں سب ملتا ہے،سب بکتا ہے،حد تو یہ ہے کہ اب تو بھارتی دوائیں بھی پاکستان میڈیسن مارکیٹ پر چوری چھپے راج کر رہی ہیں۔لوگ پوچھتے ہیں پاکستان کیا بناتا ہے؟ میں کہتا ہوں منصوبے اور صرف منصوبے،ڈیموں کے منصوبے،غربت دور کرنے کے منصوبے،آبادی کنٹرول
ہم آدمی تمہارے جیسے …
’وفا کرو گے وفا کرینگے ، جفا کرو گے جفا کرینگے ، ستم کرو گے ستم کرینگے ، کرم کرو گے کرم کرینگے ، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کروگے وہ ہم کرینگے ‘۔ زمانہ طالب علمی میں برصغیر کے معروف براڈ کاسٹر ضیاء محی الدین کی آواز میں یہ مشہور زمانہ نظم
بس ذرا چین تک.....
’’لاہور سے بنکاک چار گھنٹے،اتنی ہی دیر بنکاک میںعارضی قیام اور پھر شنگھائی تک کا سفر مزید چار گھنٹے،مجھے چین کے معروف کاروباری شہر پی دو YIWUپہنچناتھا۔YIWUسنہ2000سے پہلے ایک دیہات تھا،مگر پھر چین نے اس دیہات کو چائنہ پراڈکٹس کی ہول سیل مارکیٹ میں بدل دیا۔اس شہر کی آبادی بارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے
ٹیکس چوری کا بڑھتا ہوا رجحان
میری ایک ہمشیرہ گزشتہ دس برس سے انگلستان میں رہ رہی ہے،نباتات کے شعبے میں پی ایچ ڈی ہے،پچھلے برس پاکستان آئی توکہنے لگی کہ اس کے پائوں میں چند ہفتوں سے شدید درد ہے،انگلستان میں ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا۔اسی دوران اسے دو ہفتے کیلئے پاکستان آنا پڑا۔ہم سب
تبدیلی ‘ مگر کیسے ؟؟
صحت،تعلیم،توانائی اور روز گار کسی بھی قوم کی زندگی میں چار مسائل حل ہو جائیں تو معاشی ترقی اور اقتصادی مضبوطی کیلئے نہ تو کوئی اضافی جدو جہد کرنا پڑتی ہے نہ کوئی کاوش،قومی ترقی کی ریل گاڑی کی نئی منزلوں کی جانب خود بخود دوڑتی چلی جاتی ہے،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ
ظلم کی وراثت
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے چند روز قبل نو منتخب افغانستان صدر جناب اشرف غنی سے کابل میں ملاقات کی اور انہیں وزیر اعظم پاکستان کاتہنیتی پیغام پہنچایا۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں صدر اشرف غنی کو افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے پاکستان کی طرف
اوورسیز پاکستانی
پاکستان کے افغانستان سے تعلقات ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت و احترام کا ایک مضبوط رشتہ استوار ہے لیکن بعض سیاسی اوتار چڑھائو کے باعث حکومتی سطح پر ان مضبوط روابط کو کمزور کرنے کی اندرونی و بیرونی سطح پر سازشوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری رہا