مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
موذی سرکار
سب نے بہت روکا کہ اسی برس کی عمر میں اکیلے کسی دوسرے ملک کا سفر کرناعقلمندی نہیں مگر چوہدری صاحب کسی طور قائل نہ ہوئے، کہتے تھے کہ ہندوستان دوسرا ملک نہیں،میں وہاں پیدا ہوا، پلا بڑھا، تعلیم حاصل کی، میرے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی قبریں وہاں ہیں، وہ دوسرا
وہ بچے جو جھلمل کرتے تارے تھے !!!
’ ایک بچہ جس کی عمر پانچ سال ہے، خاکی رنگ کا شلوار قمیض پہنے ہوئے ہے، پائوں میں نیلے رنگ کی چپل ہے، اپنا نام عبدللہ بتاتا ہے، آج صبح سے لاپتہ ہے، جن صاحب کو ملے مسجد اللہ والی پہنچا کر ثواب دارین حاصل کریں‘۔ عصر کی آذان کے بعد اور مغرب
مسلمانوں کے گرد دائرہ
دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ملکوں کے بلاک بن رہے ہیں، گروہ بندیاں ہورہی ہیں،ہم خیال لکیر کے ایک طرف اور باقی سب کے سب لکیر کے اس پار۔لیکن اب کے بار یہ تقسیم کچھ اس انداز میں ہورہی ہے کہ آسانی سے سمجھنا ممکن نظر نہیں آتا کہ
ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئی
ا مریکی اشرافیہ اور یورپی ممالک کی سول سو سا ئٹی اس حقیقت کو ا چھی طرح جا نتی ہیں کہ ا مریکی حکومت کی مسلط کردہ جنگ’’وار آن ٹیرر‘‘در اصل امریکہ کا ترا شا ہو اوہ مصنو عی غبارہ ہے جسے بے پناہ وسائل اورگوئبلز آف جر منی کی روح سے کشید کئے ہو
مسائل کی دلدل
دن کے ڈیڑھ بجے کا وقت تھا۔ میں اپنے ایک دوست سے ملنے ان کے دفتر پہنچا تو ہر طرف سناٹا تھا۔دوپہر کے کھانے اور نماز کے وقفے کے باعث اکثر کمرے خالی تھے۔میرے دوست ایک سرکاری افسر تھے اور میرا ان کے دفتر میں آنا جانا رہتا تھا۔ وہاں کام کرنے والے اکثر ملازمین
زوال در زوال
زوال کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں، معاشی زوال، سیاسی زوال، معاشرتی زوال اور اخلاقی زوال، یہ تمام اقسام یکجا ہوجائیں تو قومی اور انفرادی سطح پر تباہی اور بربادی کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا۔حکمران اپنی تگ و دو سے قوم کو معاشی زوال سے تو
امن کی خواہش، عزت کے ساتھ
بھارتی وزیر دفاع محترم منوہر پاریکر کے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے حوالے سے حالیہ بیان نے پاکستان کے اس موئقف کی بھرپور تائید کردی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء ملوث ہے۔ معلوم نہیں یہ بیان محترم منوہرپاریکرکی معصومیت
دہشت گردی کا تدارک
شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سرکاری سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی سب ہی نے یک آواز ہوکر پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی پے بہ پے وارداتوں میںبھارتی ایجنسی راء کے ملوث ہونے کو تسلیم کیا۔ نہ
نلترائر کریش
۹ مئی کو گلگت کے علاقے نلتر میں ہونے والے ہیلی کاپٹر حادثے پر ساری قوم رنجیدہ بھی ہے اور سوگوار بھی۔اس حادثے میں ۷ افراد جان سے گئے اور باقی سترہ افراد شدید زخمی ہوئے۔اس حادثے میں پاکستانی قوم اپنے دو انتہائی مشاق ہوابازوں سے بھی محروم ہوئی
حد ادب
میز پر چائے کی پیالی ، انگلیوں میں سلگتا سگریٹ، بکھرے بال اور ماتھے پر دانشوری کی خود ساختہ لکیریں، ، یہ سب کچھ ہو اور موضوع گفتگو فوج کا تقدس نہ ہو تو منظر مکمل نہیں ہوتا۔ویسے بھی بلند وبالا عمارتوں پر پتھر پھینکنا، سمندر کو خالی بوتلوں اور ڈسپوزیبل گلاسوں سے
بیس روپے کی جرسی
تھوڑی دیر کو سہی ، قسور کی دنیا تو بدلی۔ بازار سے بیس روپے کی پرانی جرسی خریدی ، نہ جانے کس امید پر اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک کونے میں کھڑکھڑاہٹ سی محسوس ہوئی ، چند ہی لمحوں میں ایک بڑا سا غیر ملکی نوٹ نظروں کے سامنے تھا۔ قسور
قتل عام
تربت میں بیس مزدوروں کا بہیمانہ قتل اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنما محمد قمرالزماں کو دی جانے والی سزائے موت،۱۲۔ اپریل کا دن ، ظلم اور سفاکی پر مبنی ان دو واقعات کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ تربت میں ایک زیر تعمیر پل کی تعمیر میں
شرمناک انجام سے بے خبر معصوم مسلمان
جوائنٹ فورسز سٹاف کالج ، امریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔امریکی فوجی افسروں اور ان سویلینز کے لیے کہ جو فوج کے مختلف شعبوں سے منسلک ہوتے ہیں،اس ادارے کے زیر اہتمام ، نہایت تواتر سے تربیتی کورسز کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔مئی2012 کی بات ہے، پینٹاگون میں امریکی فوجی افسروں
اگر مہمان بقاء اور سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے تو . . . .
انجان سرزمینوں کی جانب ہجرت، ہمیشہ سے انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ رہاہے۔ لوگ اپنے بھرے پرے گھر،سنبھلے ہوئے کاروبار، زمین جائیداد، کھیت کھلیان چھوڑ کر، ایسی منزلوں کی جانب سفر کو مجبور ہوجاتے ہیں کہ جہاں کسی کو بھی ان کے شاندارماضی کی خبر نہیں ہوتی۔زندگی کا ایک نئے سرے سے آغاز
ایک دن منصورہ میں
یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر انتظام ایوان اقبال میں سالانہ سہ روزہ کانفرنس جاری تھی،جناب رفیق احمد تارڑ، قائم مقام گورنر پنجاب رانا محمد اقبال، سندھ سے غوث علی شاہ صاحب، علامہ اقبال کے ایک پوتے اور ملتان سے تحریک پاکستان کے نامور محقق جناب حمید رضا صدیقی، وہاں
دھرتی کے اس پار مسافر
برطانیہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں کہ جو وہاں جا کر محنت مزدوری کرتے ہیں، ٹیکسی چلاتے ہیں،گیس سٹیشن پر گاڑیاں بھر تے ہیں، ریستورانوں میں صفائی ستھرائی کا کام بھی کرتے ہیں،بے شمار ایسے بھی ہیں جن کے آباؤ اجداد کئی دہائیاں پہلے انگلستان پہنچے، محنت
جگنوئوں کو راستوں کا علم ہونا چاہیے
اپنے پاکستانی دوست کی دعوت پر ایک چینی تاجر چند برس پہلے پاکستان آئے تو یہاں کی ترقی دیکھ کر بہت خوش ہوئے، نئی سڑکیں، نئے پل، شاپنگ مال، بزنس سینٹرز،فلک بوس عمارتیں،لش پش کرتی گاڑیاں اور بہت کچھ، ائر پورٹ سے گاڑی میں گھر کی طرف آتے ہوئے ،چینی
اس کے خلاف آواز کون اٹھائے گا
کسی بھی شخص کو اس کے کمترخاندانی پس منظر کی بنیاد پر حقیر جاننا ایک بدترین ناانصافی ہے۔اگر باپ بھیڑ بکریاں چراتا تھا یا پھر جوتے ٹانکنے کی مزدوری کرتا تھا اور اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کوئی بڑا افسر ، سیاستدان یا پھر حکمران بن گیا تو ہمیں اس غریب باپ کی عظمت
سمندر بھولتا بالکل نہیں ہے
سر!!!سمندر کتنا گہرا ہوتا ہے،؟؟؟ میں نے ایک بار اپنے ایک ٹیچر سے سوال کیا، تب شاید میں چوتھی جماعت میں تھا اور اتفاق سے چند روز پہلے ہی کراچی میں ساحل سمندر بھی دیکھ کر آیا تھا۔میرے ٹیچر نے بہت معصوم سا جواب دیا، سمندر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ تم جیسے ایک ہزار