مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
معاف کردینا ایک بڑائی ہے، چھوٹا آدمی معاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، بڑے آدمی کی ایک بڑی پہچان یہ بھی ہے کہ اس میں معاف کرنے کا بڑا حوصلہ ہوتا ہے لیکن دشمن کو بھول جانے والا آدمی نہ تو بڑا ہوتا ہے نہ ہی چھوٹا بلکہ صرف اور صرف احمق اور
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پاکستان سے لے کر برطانیہ تک جہاں جہاں کشمیری یا پھر کشمیریوں سے محبت کرنے والے آباد ہیں، انہوں نے اس سال بھی 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا، بلکہ اس بار تو اٹلی میں بھی کشمیریوں کی صدائے احتجاج ایسی گونجی کہ دنیا حیران رہ گئی۔اٹلی کے شہر میلان
ضروری اعلان: قانون اور انصاف تلاش گمشدہ
سنا ہے جنگل کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا یہ خیال تو تھا معروف شاعرہ زہرہ نگاہ کا، مگر انسان وہ معاشرتی حیوان ہے جس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا شاید اسی بناء پر یہ انسانی معاشرہ جنگل سے بھی بدتر ہوچکا ہے، جہاں
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
قائد اعظم کا ماہ پیدائش بھی اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت بھی ،دسمبر ، ہم پاکستانیوں کے لیے ہوا کے خوشگوار جھونکے سے کسی طور بھی کم نہیں۔نئے سال کی آمد بھی اور سردی کے عروج کی ابتدا بھی۔جدھر دیکھو، فضا میں آگ تاپنے
کتاب سے موبائل ایپ تک (عارف محمود کسانہ)
اس حقیقت سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ انسانی ترقی اس علم کے مرہون منت ہے جو کتابوں سے نسل در نسل چلا۔ اہل مغرب اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں یورپ کو تاریک دور سے ان کتابوں نے نکالا جو مسلمان سائنس دانوں اور اہل علم نے لکھی تھیں۔ یورپی اقوام نے اس
پاکستان کی صورتحال اور تارکین وطن
میرا تعلق کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے بچپن میں جب آنکھ کھولی اور ہوش سنبھالا تو اپنے ارد گرد سرسبز و شاداب درختوں کی ہریالی، گھر میں ایک چھوٹا سا کنبہ گائوں کے سیدھے سادھے لوگ تھے۔ بارشی پانی سے کھیتی باڑی لوگوں کا زریعہ معاش تھا دو وقت کی روکھی سوکھی
مرغی آنڈے!!!
یہ وہ صدا ہے جو ہمارے گاوں میں انڈے خریدنے والا لگاتا تھا اور جس جس کے گھر کوئی آنڈہ برا ئےفروخت ہوتا وہ اپنے بچوں کے ہاتھ یا خود آکر اس انڈہ بیوپاری کو دے دیتا جو ہمارے قریبی قصبہ مامونکانجن سے ساییکل پہ آیا کرتا تھا۔ آس کے پاس ایک خاص قسم
تم آگ کا دریا ،میں سمندر کی ہوا ہوں!!!!!!!!!
اسے قسمت کی خرابی کہیے یا پھر مقدر کا لکھا کہ کچھ صورتوں میں سب کچھ اچھا کرنے کے بعد بھی ہماری اچھائی یا پھر حسن سلوک کو ستائش اور پذیرائی نہیں ملتی۔Do good Have goodجیسے مقبول عام مقولے بے جان اور بے حیثیت سے دکھائی دینے لگتے ہیں، ’نیکی کر دریا میں ڈال‘ والا
عمران خان کا اصلی یو ٹرن
وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان کی زندگی کا اصلی یوٹرن وہ ہے، جسکی طرف اسکے مخالفین نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا وہ ہے انکا ایک پلے بواےٓ شہرت کے حامل شخص ہونے سے ایک عاشقِ رسول ہونے کا یو ٹرن۔ اسکے علاوہ کیٓ ایسی باتین جن کو ان کے مخالفین یوٹرن کا نام
محبت کے سفر میں راستے پُرخار ہوتے ہیں!!!!
یہ ستمبر1978 کی بات ہے، مرار جی ڈیسائی تب بھارت کے وزیر اعظم تھے اور جناب اٹل بہاری واجپائی وزیر خارجہ ۔افغانستان میں حفیظ للہ امین کی حکومت تھی، واجپائی صاحب افغانستان کے دورے پر گئے تو حفیظ اللہ امین نے انہیں ایک ایسا مشورہ دیا کہ واجپائی صاحب بھی حیران اور ششدر
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
جب کرائیسز مینیجمنٹ کے لیے وسائل کے ساتھ ساتھ صلاحیتوں کا بھی فقدان ہو تو انتہائی پر امن احتجاجی مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک بلوے میں بدل جاتے ہیں۔لاکھوں کروڑوں کی املاک برباد ہوجاتی ہیں، لوگ مارے بھی جاتے ہیں اور زخمی بھی ہوتے ہیں۔ ۔ پھر یہ
آپ بھی تعصب سے آزاد ہوں
اللہ کی شان جمہوریت کے استاد اب وہ کہلانے لگے ہیں جنہوں نے آمریت کی در در کی خاک چھانی . یہ جو در در کی خاک چھان کر بھی سبق حاصل نہیں کرتے, یہی لیڈر کے سر میں خاک ڈالنے کی وجہ بنتے ہیں اور باعث شرمندگی بھی .... ہم نے مانا
آزادی کشمیر کی خواہش بھی گناہ ہے کیا ؟؟؟؟؟
آزادی کی خواہش اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے دعا اور جدوجہد اگر دہشت گردی ہے تو یقین رکھیے کہ مقبوضہ کشمیر میں دودھ پیتے معصوم بچوں سے لے کر گھروں میں روٹی ہنڈیا کرنے والی عورتوں تک ہر ایک دہشت گرد ہے۔تحریک آزادی ء کشمیر اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے بعد
دو سو ارب ڈالرز کی کہانی
وزیرخزانہ اسد عمر کے منہ سے یہ سن کر ایک دھچکا لگا کہ سوئس بینکوں کے دو سو ارب ڈالرز کی کہانی اب ختم ہی سمجھیں ۔ارشد شریف نے اسد عمر سے پوچھا کہ ان دو سو ارب ڈالرز کا کیا بنا‘ جو سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے تھے؟ اسد عمر نے ایک قہقہہ مارا
زمین پر دیوار چین
جب بھی سی پیک منصوبے کی بات ہوتی ہے، نہ جانے کیوں ہمارے چند تجزیہ کار ہماری قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ جیسے ماضی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر پاک و ہند کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا تھا اسی طرح اس سی پیک منصوبے
میاں جی کی لڑکیاں
میاں جی کو فکر تھی تو صرف اور صرف ان چھ جوان جہان لڑکیوں کی جن کی حفاظت میاںجی کے لیے اپنی زندگی سے بھی کہیں زیادہ اہم تھی۔ سارا شہر آگ کی لپیٹ میں تھا، ہندو انتہا پسند سار ا دن گلیوں میں لمبے لمبے چھرے لہراتے مسلمانوں کی تلاش میں پاگل کتوں
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
یہ کہاوت اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا، لیکن یہ سچائی بھی اپنی جگہ ہمیشہ سے قائم دائم ہے کہ ڈرایا صرف اسی کو جاتا ہے جو ڈرنا چاہتا ہے۔ہمار ا ارادہ، ہماری ہمت اور ہمارا حوصلہ غیر متزلزل ہو تو یقین کیجیے زندگی کے کسی بھی
میں اور عمران خان
عمران خان کے سیاست میں آنے سے پہلے سن1990میں گورنمنٹ کالج میں فنڈ ریزنگ کیلئے عمران کے آنے کی نوید سنی تو میں بھی ان پرستاروں میں سے ایک ہوں جو عمران خان کو بچپن ہی سے اپنا ہیرو تصور کرتا تھا کیونکہ میں خود کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا اور میری ٹیم کنگز کرکٹ
محبت، عادت یاضرورت
زندگی میں ہر کام مالی منفعت کے لیے نہیں کیا جاتا ،بہت سے کام دل کے سکون اور روح کی کی طمانیت کے لیے بھی کیے جاتے ہیں لیکن تعریف اور ستائش کی خواہش ہر حال میں انسانی جبلت کا حصہ رہتی ہے۔مالک تھپکی نہ دے، کمر پر دھیرے دھیرے نہ سہلائے تو