مقبول خبریں
ڈیبی ابراھم کیساتھ ناروا سلوک سے بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ بے نقاب
مہنگائی کی ذمے دار عمران خان حکومت ہے ،شہباز شریف
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کی ڈیبی ابراھام کے ہندوستان میں داخلے پر پابندی کی شدید مذمت
آتش فشاں
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
آتش فشاں
’’ مقبوضہ کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں سناٹے کی حکمرانی ہے۔ہاتھوں میں بندوقیں، چہرے پر سیاہ رومال، جدھر دیکھو مورچہ زن قابض بھارتی فوجی،لوگ سہمے ہوئے انداز میں گھروں کی کھڑکیوں سے اپنی زمین پر قابض دندناتے بھارتی فوجیوں کو چھپ چھپ کے دیکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی
کشمیر کے لئے پاکستان کے اہداف ؟؟؟
5 فروری ہر سال پاکستان کی عوام، حکومت، سیاسی اور عسکری قیادت یوم یکجہتی کشمیر اس تجدید عہد کے ساتھ مناتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے گئی ۔ اس سال یوم یکجہتی کشمیر اس اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ چونکہ 5
’’ان جانے اور ان دیکھے‘‘
راچڈیل میں کشمیریوں کی تعداد پندرہ ہزار کے قریب ہے لیکن مردم شماری میں یہ تعداد ایک ہزار سے کچھ اوپر نظر آتی ہے۔ یہی ہال درجنوں دوسرے شہروں میں ہے جہاں برطانوی کشمیریوں کی خاصی تعداد آباد ہے۔ کشمیری کمیونٹی نظر نہیں آتی اس لیے برطانوی معاشرے میں کمیونٹ ی کو درپیش مسائل بھی اوجھل رہتے
بلقیس بانو زندہ کیوں؟؟؟؟؟
کیا آپ جانتے ہیں بلقیس بانو کے ساتھ کیا ہوا؟؟؟بھارت میں شہریت کے حوالے سے نئی قانون سازی کے بعد سے بلقیس بانو کی داستان الم ایک بار پھر کثرت سے سننے میں آرہی ہے۔1992میں گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے وقت بلقیس بانو کی عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس کے
2019 بھی نفاذ قومی زبان کے بغیر ہی بیت گیا!
ماہ و سال تیزی سے گزر رہے ہیں اور کتنے کام ہیں جو ہنوز تشنہ تکمیل ہیں۔ آپ میں سے ہر ایک نے گزشتہ سال کے لیے کتنے منصوبے بنائے ہوں گے، کتنے خواب سجائے ہوں گے۔ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کتنے جتن کیے ہوں گے۔ یہ سلسلہ کب سے جاری
محبت کے سفر میں آگ بھی گلزار ہوتی ہے
حال ہی میں لیفٹننٹ جنرل(ر)ہرچرن سنگھ جیت پاناگ نے اپنے ایک مضمون میں انڈین آرمی کے افسروں اور جوانوں کو ایک قیمتی مشورہ دیتے ہوئے کہا، ’’یہ جو سوشل میڈیا پر روحانی بابے اور گُرو اپنے کارنامے سنا سنا کر آپ کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،
یہ رنگ جو مہکے تو ہوا پھول بنے گی!!!!!!!!
لال رنگ ہمارے معاشرے میں خوشی اور مسرت کی علامت سمجھا جاتا ہے، شادی میں دلہن کا لباس ہو یا پھر مہمانوں کے لیے بچھائے گئے قالین، یا پھر آنے والوں پر گلاب کی پتیوں کی بارش،لال رنگ کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔مگر بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں یہ لال
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
’’ انڈین سپریم کورٹ کے ایک سابق جج مسٹر مرکنڈے کاجو نے کچھ عرصے قبل ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ایک دندان شکن بیان دیاتو بھارت کے ہندو انتہا پسند حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ انہوں نے کہا، ’’میں گائے کا بچہ نہیں ہوں اور نہ
بلیک ڈے۔ وائیٹ ڈے
جاپان ، تائیوان، سائوتھ کوریا،ویت نام، ہانگ کانگ، سنگاپور،تھائی لینڈ، منیامار،کمبوڈیا اور چین جیسے بہت سے ممالک ہیں جہاں ہر سال 14مارچ کا دن وائٹ ڈے White Dayکے طور پر منایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ وائٹ ڈے اصل میں 14فروری کو منائے جانے والے ویلینٹائن ڈے کا جواب ہوتا ہے۔ویلنٹائن
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ آجکل چین کے دورے پر ہیں۔گلف نیوز نے اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کے یہ دو سب سے نمایاں چہرے اگرچہ الگ الگ دنوں پر چین پہنچے لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔
ہمارا کام تو بس چراغ جلانا ہے
دیار غیر میں آباد امیگرینٹس کی زندگی میں بہت سے مواقع آتے ہیں جب انفرادی کی بجائے اجتماعی مفادات کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کامیابی کی صورت میں پوری کمیونٹی کو فائدہ ہو۔ میرا وکالت کے پیشے سے تعلق کوئی سترہ سال سے ہے اورالفرڈ سے تعلق کوئی سولہ سال سے۔ جب میں ولایت
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
جھنڈا، پرچم، علم،کسی بھی قوم کے لیے جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ جس جھنڈے کو ہم آنکھوں سے لگاتے ہیں، سرپر رکھتے ہی، سینے پہ سجاتے ہیں اس جھنڈے کو جلایا جائے اور پیروںکے نیچے روندا جائے تو یہ بات کسی سے بھی محب وطن کے لیے برداشت کرنا ممکن
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
گذشتہ دو تین ہفتوں سے ہمارا محکمہ پولیس ایک عجیب سی قومی جذباتیت کا نشانہ دکھائی دے رہا ہے۔سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف لعنت ملامت کا ایک ایساطوفان ہے جو کسی طور تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ برا بھلا کہنے سے شروع ہونے والا یہ نامناسب سا سلسلہ، معذرت کے ساتھ،ماں بہن
سری نگر سے تھوڑی دور!!!!!!
یہ خیال بذات خود ایک سنگین غلط فہمی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر، صرف وادیء کشمیر میںمحض جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں تک محدود رہے گی ۔بلکہ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ کشمیر کے معاملے میں عالمی بے حسی تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی قوت عطا کرنے کا باعث بنے گی۔کشمیری
Projection بمقابلہ Content
پاکستان فلم انڈسٹری کے وہ دن کبھی بھولے نہیں جا سکتے جب فلموں کی سلور جوبلی ہوتی تھی،بڑے نام وحید مراد،محمد علی،ندیم،زیبا اور ایسے بہت سے میگا سٹارز تھے جنہوں نے معیاری کام کیا بلکہ پڑوسی ملک بھارت کو مجبور کیا کہ وہ Contentپہ زیادہ محنت کرے لیکن آہستہ آہستہ Content پیچھے رہ گیا اور
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
مظفر نگر اتر پردیش سے منتخب ہونے والے ایم ایل اے مسٹر وکرم سیانی نے اپنی ایک حالیہ تقریر میںکم ظرفی، تنگ نظری اور انتہا پسندی کا جو بھیانک ترین نمونہ پیش کیا ہے، شاید اس زمانہ جدید میں اس کی دوسری مثال آسانی سے دستیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے بی جے
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
چند روز پہلے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مجبور اور نہتے لوگوں پر جس بے رحمی اور بے دردی سے کلسٹر بموں کی بارش برسائی، دنیا بھر میں ابھی تک اس کے خلاف مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔انگریزی زبان میں کلسٹر بموں کے لیے Cluster Munitionsکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔دنیا
کشمیر بزور شمشیر ؟؟؟؟؟؟
وادی کشمیر کی خوبصورتی کا تذکرہ تو بہت ہو چکا لیکن آج بات صرف موجودہ صورتحال کی جائے گی،کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ساٹھ یا ستر اسلامی ممالک اور ان کی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف صاحب اب تک مذمتی بیان تو ریکارڈ کروا چکے ہیں لیکن
پاکستان کشمیر میں بھارت کی ’’آبادیاتی دہشت گردی‘‘ کے جواب میں کیا کرسکتا ہے
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے جواب میں بہت کچھ کر سکتا ہے اگر وہ سنجیدہ ہو اور بھارت کے ساتھ اس معاملے میں اُس کی ’’انڈرسٹینڈنگ‘‘ نہ ہو۔ آجتک مسلئہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کشمیر پرپالیسی اپنی مفاداتی سیاست کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ اس مسلئہ کے حل کی جانب کبھی