مقبول خبریں
پاکستان پریس کلب برطانیہ یارکشائیر ریجن کا سہیل وڑائچ کے اعزاز میں استقبالیہ
پاکستان اور بھارت میں واقعی برابری کہاں ؟ ایک طرف محبت دوسری طرف نفرت
پاکستانی نژاد پیشہ ورانہ ماہرین اور طلبہ جہاں بھی ہوں اقدار کی پاسداری کریں: نفیس زکریا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
قومی برطانوی انتخابات میں کشمیر دوست امیدواران کو ووٹ دینے بارے آگاہی میٹنگ
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
سہمے ہوئے لوگوںسے بھی خائف ہے زمانہ
’’ انڈین سپریم کورٹ کے ایک سابق جج مسٹر مرکنڈے کاجو نے کچھ عرصے قبل ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ایک دندان شکن بیان دیاتو بھارت کے ہندو انتہا پسند حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ انہوں نے کہا، ’’میں گائے کا بچہ نہیں ہوں اور نہ
بلیک ڈے۔ وائیٹ ڈے
جاپان ، تائیوان، سائوتھ کوریا،ویت نام، ہانگ کانگ، سنگاپور،تھائی لینڈ، منیامار،کمبوڈیا اور چین جیسے بہت سے ممالک ہیں جہاں ہر سال 14مارچ کا دن وائٹ ڈے White Dayکے طور پر منایا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ وائٹ ڈے اصل میں 14فروری کو منائے جانے والے ویلینٹائن ڈے کا جواب ہوتا ہے۔ویلنٹائن
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ آجکل چین کے دورے پر ہیں۔گلف نیوز نے اس دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کے یہ دو سب سے نمایاں چہرے اگرچہ الگ الگ دنوں پر چین پہنچے لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔
ہمارا کام تو بس چراغ جلانا ہے
دیار غیر میں آباد امیگرینٹس کی زندگی میں بہت سے مواقع آتے ہیں جب انفرادی کی بجائے اجتماعی مفادات کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کامیابی کی صورت میں پوری کمیونٹی کو فائدہ ہو۔ میرا وکالت کے پیشے سے تعلق کوئی سترہ سال سے ہے اورالفرڈ سے تعلق کوئی سولہ سال سے۔ جب میں ولایت
جب ریت پہ لکھو گے محبت کی کہانی!!!!!!!!!
جھنڈا، پرچم، علم،کسی بھی قوم کے لیے جان سے بھی زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ جس جھنڈے کو ہم آنکھوں سے لگاتے ہیں، سرپر رکھتے ہی، سینے پہ سجاتے ہیں اس جھنڈے کو جلایا جائے اور پیروںکے نیچے روندا جائے تو یہ بات کسی سے بھی محب وطن کے لیے برداشت کرنا ممکن
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
گذشتہ دو تین ہفتوں سے ہمارا محکمہ پولیس ایک عجیب سی قومی جذباتیت کا نشانہ دکھائی دے رہا ہے۔سوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف لعنت ملامت کا ایک ایساطوفان ہے جو کسی طور تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ برا بھلا کہنے سے شروع ہونے والا یہ نامناسب سا سلسلہ، معذرت کے ساتھ،ماں بہن
سری نگر سے تھوڑی دور!!!!!!
یہ خیال بذات خود ایک سنگین غلط فہمی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر، صرف وادیء کشمیر میںمحض جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں تک محدود رہے گی ۔بلکہ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ کشمیر کے معاملے میں عالمی بے حسی تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی قوت عطا کرنے کا باعث بنے گی۔کشمیری
Projection بمقابلہ Content
پاکستان فلم انڈسٹری کے وہ دن کبھی بھولے نہیں جا سکتے جب فلموں کی سلور جوبلی ہوتی تھی،بڑے نام وحید مراد،محمد علی،ندیم،زیبا اور ایسے بہت سے میگا سٹارز تھے جنہوں نے معیاری کام کیا بلکہ پڑوسی ملک بھارت کو مجبور کیا کہ وہ Contentپہ زیادہ محنت کرے لیکن آہستہ آہستہ Content پیچھے رہ گیا اور
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
مظفر نگر اتر پردیش سے منتخب ہونے والے ایم ایل اے مسٹر وکرم سیانی نے اپنی ایک حالیہ تقریر میںکم ظرفی، تنگ نظری اور انتہا پسندی کا جو بھیانک ترین نمونہ پیش کیا ہے، شاید اس زمانہ جدید میں اس کی دوسری مثال آسانی سے دستیاب نہ ہو سکے۔ انہوں نے بی جے
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
چند روز پہلے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مجبور اور نہتے لوگوں پر جس بے رحمی اور بے دردی سے کلسٹر بموں کی بارش برسائی، دنیا بھر میں ابھی تک اس کے خلاف مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔انگریزی زبان میں کلسٹر بموں کے لیے Cluster Munitionsکی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔دنیا
کشمیر بزور شمشیر ؟؟؟؟؟؟
وادی کشمیر کی خوبصورتی کا تذکرہ تو بہت ہو چکا لیکن آج بات صرف موجودہ صورتحال کی جائے گی،کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ساٹھ یا ستر اسلامی ممالک اور ان کی افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف صاحب اب تک مذمتی بیان تو ریکارڈ کروا چکے ہیں لیکن
پاکستان کشمیر میں بھارت کی ’’آبادیاتی دہشت گردی‘‘ کے جواب میں کیا کرسکتا ہے
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے جواب میں بہت کچھ کر سکتا ہے اگر وہ سنجیدہ ہو اور بھارت کے ساتھ اس معاملے میں اُس کی ’’انڈرسٹینڈنگ‘‘ نہ ہو۔ آجتک مسلئہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کشمیر پرپالیسی اپنی مفاداتی سیاست کے گرد ہی گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ اس مسلئہ کے حل کی جانب کبھی
HIS EXCELLENCY MR.PRIME MINISTER
پاکستان سے باہر، ہر پاکستانی بالکل اسی طرح اپنے ملک کا نمائیندہ ہوتا ہے جس طرح امریکا سے باہر امریکی اور چین سے باہر چینی۔ امریکا اور برطانیہ میں ایسے سینکڑوں پاکستانی تارکین وطن آباد ہیں جنہیں وہاں رہتے ہوئے تین چار دہائیاں بیت چکی ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
کمر سے ڈھلکتی ہوئی سبز رنگ کی ساڑھی، چہرے کو اوٹ میں لیے ہوئے لمبے لمبے سیاہ بال اور ہونٹوں پر سجی معصوم سی مسکراہٹ،یہ کسی فلمی اداکارہ کا تذکرہ نہیں ہورہا، یہ اس نامعلوم لڑکی کا قصہ ہے جس کی تلاش میں آج بھارتی سیکیورٹی ادارے در در کی
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
یہ کوئی زیادہ پرانی نہیں، پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے، ہمارے ہاں فن و ثقافت کے حوالے سے نہایت اعلیٰ درجے کا کام ہوا کرتا تھا، بہت سی یادگار فلمیں اور ان گنت ناقابل فراموش قسم کے گیت تخلیق ہوئے، پھر نہ جانے کس کی نظر لگی کہ ہم فنی تخلیقات کے حوالے
میرے سارے خواب سمندر جیسے ہیں
ظہار رائے کی آزادی یقینا بہت بڑی نعمت ہے اور پاکستان میں تو ویسے بھی اس نعمت کی ہر طرف بہتات دکھائی دیتی ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی کے نام پر جو کچھ منہ میں آئے بکتے چلے جانا، بہر حال ایک بڑی زیادتی ہے۔میں آج تک یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ پاکستان
بے نظیر بھٹو: چراغ بجھ گیا لیکن روشنی زندہ ہے
چونسٹھ سال پہلے، کراچی میں ، ذوالفقار علی بھٹو کے گھر میں پیدا ہونے والی ننھی شہزادی کی پیدایش پر جو جشن منایا گیا تھا اس کی شادمانیوں میں کسی کو علم نہ تھا کہ یہ شہزادی ، اپنے والد کو تختہ دار پر چڑھتے دیکھے گی اور پھر ان کی جانشین بن کر فوجی
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنا
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
ہر طرح کا بیج ہر طرح کی زمین میں نہیں بویا جاسکتا۔ ریگستان میں اگنے والے پودے میدانی علاقوں میں آسانی سے نہیں پلتے، اسی طرح پہاڑی علاقوں میں خوبانیوں، آڑوئوں اور سیبوں سے لدے درخت ہمیں خشک میدانی علاقوں میں کثرت سے کبھی دکھائی نہیں دے سکتے۔تاہم یہ خیال رہے کہ اگر