مقبول خبریں
یو کے آئی ایم شعبہ خواتین کا کمیونیٹیز خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا خوبصورت جذبہ
بھارتی ہائی کمیشن کے باہر کشمیریوں کا احتجاجی مظاہرہ،لندن کی فضا آزادی کے نعروں سے گونج اٹھی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
پھر ہم نے وہ چراغ ہوا کو تھما دیا!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
قائد اعظم کا ماہ پیدائش بھی اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت باسعادت بھی ،دسمبر ، ہم پاکستانیوں کے لیے ہوا کے خوشگوار جھونکے سے کسی طور بھی کم نہیں۔نئے سال کی آمد بھی اور سردی کے عروج کی ابتدا بھی۔جدھر دیکھو، فضا میں آگ تاپنے کے لیے جلائی جانے والی لکڑی کا دھواں، کہیں ہلکی اور کہیں گہری دھند، گرم انڈے اور گرما گرم مونگ پھلیاں بیچنے والوں کی مزے دار آوازیں، اوپن ائر ٹی سٹالوں میں بننے والی دودھ پتی کی والہانہ خوشبو، بھاری بھرکم رضائیاں اور موٹی موٹی جیکٹیں،دسمبر کی تو بات ہی نرالی ہے۔سارے پاکستان میں خوشی کی ایک نئی سی لہر دوڑ جاتی ہے۔ سکول کالج جانے والے بچوں کو ملنے والی دس بارہ دن کی چھٹیاں سارے منظر کو اور بھی رنگین کر دیتی ہیں۔لوگ شمالی علاقوں میں جا کر برف باری دیکھنے کے لیے سارا سال اسی دسمبر کا انتظار کرتے تھے۔تاہم خوشیوں بھرے اس موسم کی اوٹ سے دکھوں کی خون آلود چادر میں لپٹے کچھ منظر اچک اچک کر یوں نظروں کے سامنے آتے رہتے ہیں کہ ساری خوشیاں آبدیدہ ہوجاتی ہیں۔کبھی سقوط ڈھاکہ کا منظر تو کبھی ایودھیا کی صدیوں پرانی مسجد کے ڈھائے جانے کی تصویر اور پھر آرمی پبلک سکول پشاور میں بزدل جلادوں کے ہاتھوں ذبح ہونے والے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ معصوم بچوں اور ان کی بے گناہ ٹیچرز کی دلخراش چیخیں، ساری خوشیاں غم کی سیاہ چادر میں لپٹ جاتی ہیں۔سنا ہے مسکراہٹ کے رنگوںکی طرح آنسوئوں کی اپنی خوشبو بھی ہوتی ہے،ہمارے ارد گرد پھیلے دسمبر کی ساری مسکراہٹ آنسوئوں کی اسی خوشبو میں دب جاتی ہے۔ سقوط ڈھاکہ بلاشبہ ایک سانحے سے کم نہیں لیکن اس سانحے کی شدت محض یہ سوچ کر معمولی سی کم ہوجاتی ہے کہ چلو اسی بہانے دنیا کے نقشے پر ایک مسلمان مملکت کا اضافہ ہوا ۔ اگرپاکستان سے الگ ہونے والا یہ حصہ ہندو سازشوں کا شکار ہوکر کسی غیر مسلم ریاست کا روپ دھار لیتا تو یقینا یہ تقسیم سارے عالم اسلام کے لیے ہمیشہ کا زخم بن جاتی۔لیکن بابری مسجد کی شہادت ایک ایسا سانحہ ہے جس کی اذیت کبھی بھی آسانی سے کم نہیں ہوسکے گی۔ یاد رہے کہ 6دسمبر 1992کو بھارت کے انتہا پسند ہندوئوں نے 1528میں شہنشاہ بابر کے حکم پر ایودھیا میں بنائی جانے والی بابری مسجد کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ منہدم کردیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اتر پردیش میں اس سے بڑی اور عالیشان مسجد اور کوئی بھی نہیں تھی۔بابری مسجد کی شہادت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے کسی المیے سے کم نہیں تھی لیکن دنیا بھر میں باہمی اختلافات اور نفرتوں کے مارے ہوئے مسلمان اس ظلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کرسکے۔تاہم بھارت میں بسنے والے مسلمانوں نے اس انہدام کے خلاف ہر ممکن انداز میں مزاحمت کی۔کئی مقامات پر ہندو مسلم فسادات بھی ہوئے، بہت سے مسلمان مارے بھی گئے مگر سب کا سب بے سود۔بھارت کے انتہا پسند ہندوئوں نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی مہم کا آغاز کردیا جس سے حالات اور بھی بگڑ گئے۔وہ دن اور آج کا دن، بالخصوص مودی سرکار کی سرپرستی میں، وہاں کے انتہا پسند ہندو جب چاہتے ہیں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے ایشو کو ایک دم سے زندہ کردیتے ہیں اور مودی سرکار اس حوالے سے ہونے والی ہنگامہ آرائی کو اپنے سیا سی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیتی ہے۔اسی ہفتے کی بات ہے وشوا ہندو پرشاد نامی تنظیم کے انتہا پسندوں نے دہلی کے رام لیلیٰ میدان میں ایک بہت بڑی ریلی کا اہتمام کیا جس میں ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے حق میں نعرے لگائے گئے، مسلمانوں کو گالیاں دی گئیں اور کچھ مسلح انتہا پسندوں نے آس پاس واقع مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش بھی کرنے کی کوشش کی۔مختصر یہ کہ ہر سال دسمبر کے مہینے میں وہاں کے مسلمانوں کو اسی خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن حیرت کا باعث یہ بات بھی ہے کہ مسلمان اقلیت کے ساتھ بھارت میں ہونے والی اس زیادتی کے باوجود، امریکا نے اپنے دیرینہ حلیف بھارت کا نام مذہبی انتہا پسندی کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی بجائے پاکستان کا نام ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کردیا۔ پاکستان میں ہندو عیسائی سکھ سب ہی انتہائی مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ پاکستان تو اقلیتوں کے حوالے سے اتنا محفوظ ملک ہے کہ یہاں ہر سال ہزاروں کے حساب سے سکھ برادری کے لوگ اپنے گوردواروں پر حاضری کے لیے اس یقین اور اعتماد سے آتے ہیں جو انہیں اپنے ملک بھارت میں بھی میسر نہیں ہوتا۔جہاں تک عیسائی برادری کا تعلق ہے، عیسائیوں کو بھی یہاں بھرپور حقوق حاصل ہیں۔ شہری آبادیوں میں انتہائی پرائم لوکیشن پر واقع گرجا گھر عیسائیوں کو ملنے والی آذادی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہر سال کرسمس کے موقع پر عیسائی ملازمین کو خصوصی چھٹیاں بھی ملتی ہیں اور ایڈوانس تنخواہ بھی۔ان کے گرجا گھروں کو سرکاری طور پر بھرپور سیکیورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے،سرکاری ملازمتوں میں بھی اقلیتوں کے لیے کوٹہ مخصوص ہے لیکن امریکا صاحب بہادر نے ان تمام حقائق کو سرے سے نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو اقلیتوں کے حوالے سے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل کردیا۔وقت مرہم ہوتا ہے، زخموں کو بھر دیتا ہے، زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ، پاکستان اوربنگلہ دیش کی قربتیں بھی بڑھ جائیں گی، بابری مسجد کا معاملہ بھی بالآخر کسی نہ کسی حل کو پہنچ جائے گا ،اقلیتوں کے حوالے سے امریکا کی بنائی ہوئی خطرناک ممالک کی فہرستیں بھی بے حیثیت ہوجائیں گی لیکن سانحہ اے پی ایس میں جن مائوں کی گودیں اجڑ یں، جن والدین نے اپنے بچوں کے کٹے ہوئیگلے دیکھے، جن بہنوں نے اپنے معصوم بھائیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشوں کو کفن میں لپٹا دیکھا، ان کی تو روحیں تک خون آلود ہوگئیں، رو رو کر ان کی آنکھیں بنجر ہوگئیں ،سوال یہ ہے کہ کیا وقت کے پاس روح کے گھائو مندمل کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ کیا وقت کے پاس کوئی ایسا مرہم بھی ہوتا ہے جس سے بنجر آنکھیں پھر سے آباد ہوجائیں؟؟؟