مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کتاب سے موبائل ایپ تک (عارف محمود کسانہ)
اس حقیقت سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ انسانی ترقی اس علم کے مرہون منت ہے جو کتابوں سے نسل در نسل چلا۔ اہل مغرب اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں یورپ کو تاریک دور سے ان کتابوں نے نکالا جو مسلمان سائنس دانوں اور اہل علم نے لکھی تھیں۔ یورپی اقوام نے اس راز کو پالیا کہ ترقی اور خوش حالی علم کے بغیر ناممکن ہے اور کتاب ہی علم کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے۔ دودہائیاں قبل جب پاکستان سے سویڈن منتقل ہوا تو یہاں کے لوگوں کو مطالعہ کا دل دادہ پایا۔ بسوں، ٹرینوں، انتظار گاہوں غرض ہرجگہ کتاب ضرور ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ سویڈن ہی نہیں تمام یورپی باشندے کتابوں کے مطالعہ کے رسیا نظر آئے۔ یہ لوگ محو سفر ہوں یا کہیں بیٹھے ، اس قدر انہماک سے کتابوں کے مطالعہ میں مگن ہوتے ہیں جیسے یہ کسی امتحان کی تیاری کررہے ہوں ۔ اہل مغرب میں مطالعہ کا شوق بچپن سے پیدا کیا جاتا ہے جو عمر بھر ان کے ساتھ رہتا ہے۔ سائنسی ترقی اور انٹر نیٹ کی آمد نے دنیا کو بدل کررکھ دیا ہے اور وہی اہل یورپ جن کے ہاتھوں میں ہمیشہ کتاب ہوتی تھی لیکن اسمارٹ فون نے ان کے ہاتھوں سے کتاب چھڑا دی ہے۔ اب ہرکوئی اپنے ہاتھوں میں اسمارٹ فون لئے ہوتا ہے جو دور جدید کی اہم ایجاد ہے مگر اس کے باوجود ان لوگوں کے مطالعہ کا شوق کم نہیں ہوا ۔صرف فرق یہ ہوا کہ کتاب اوراق کی بجائے ایپ کی صورت میں اسمارٹ فون میں کتاب سما گئی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اشاعتی اداروں نے اپنی کتابوں کو جدید ڈھنگ سے پیش کرنا شروع کردیا ہے اور زمانے کے تقاضوں اور لوگوں کی دلچسپی کے پیش نظر اب کتابیں برقی انداز میں اور موبائل ایپ کی صورت میں دستیاب ہیں۔ بچے جدید ٹیکنالوجی سے بہت رغبت رکھتے ہیںاور ان ذرائع کو استعمال کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں جو نئے انداز سے پیش کئے جائیں۔کتاب کی افادیت اپنی جگہ ہے اور بچوں کا تعلق اس سے قائم رہنا چاہیے لیکن پھر بھی ان کے میلان کوروکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ اسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈنمارک میں مقیم ایک نوجوان اور ہونہار پاکستانی مدثر علی اور ان کے ساتھیوںنے بچوں اور والدین کے لئے ایک اہم موبائل ایپ تیار کی ہے۔ مدثر علی آئی ٹی کے ماہر ہیں اور کوپن ہیگن میں ایک بین الاقوامی ادارے میں اہم فرائض ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی’ سبق آموز کہانیاں ‘‘ کے لئے موبائل ایپ تیار کیا ہے۔ سبق آموز کہانیاں کو پاکستان کے سب سے بڑے،معتبر اور سرکاری اشاعتی ادارے ، نیشنل بک فانڈیشن اسلام آباد نے اسے شائع کی ہے ۔ اس کتاب کی پذیرائی اور مقبولیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے اس کتا ب کا پہلا ایڈیشن ختم ہونے کے بعد اب دوسرا ایڈیشن شائع ہوا ہے۔ مزید براں یہ اردو میں بچوں کے لئے لکھی جانے والی واحد کتاب ہے جس کے دنیا کے بہت سی زبانوں میں تراجم شائع ہوچکے ہیں۔سبق آموز کہانیاں اردو کے بعد انگریزی،عربی،فارسی، فرانسیسی، ہندی ،نارویجین اور بنگالی زبانوںمیں شائع ہوچکی ہیں۔ سندھی ، ڈینش، جرمن اور گوجری زبانوں میں ترجمہ مکمل ہوچکا ہے اور اشاعت کے مراحل میں ہے جبکہ جاپانی، سویڈش ، ہسپانوی ، پشتو ، چینی، روسی، اطالوی اور دیگر بہت سی زبانوں میں ترجمہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور امید ہے کہ جلد ہی سبق آموز کہانیاں ان زبانوں میں بھی دستیاب ہوگی جس سے دنیا بھر کے بچے فائدہ اٹھا سکیں۔ بہت سے مبصرین نے سولہ کہانیوں پر مشتمل ’’ سبق آموز کہانیاں‘‘ کو بچوں اور والدین کے لیے ایک علمی و معلوماتی خزانہ قرار دیتے ہوئے اسے کو سراہا ہے۔’’سبق آموز کہانیاں‘‘ ان سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے جو بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ دور جدید میں بچے اپنے دین وثقافت کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں ۔ بچوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوال آتے رہتے ہیں اور وہ ان کے جواب چاہتے ہیں۔ معصوم ذہنوں میں آنے والے سوال ہوتے تو بہت چھوٹے اور سادہ ہیں لیکن ان کے جواب بعض اوقات اتنے بھی آسان نہیں ہوتے ۔اس لیے ضرورت اس ا مر کی ہے کہ ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کے ایسے جواب دیئے جائیں تاکہ وہ مطمئن ہوجائیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور فہم کے مطابق ایسا جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی تسلی ہوجائے۔یہ کتاب لکھنے کا بڑامقصد یہ تھا کہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں ان کی تعلیم و تربیت اس اندازسے کی جائے کہ وہ سچے مسلمان، اچھے انسان، محب وطن اور باوقار شہری بنیں ۔ان کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے اطمینان کے ساتھ اپنے دین کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کریں۔ یہ کہانیاںاس انداز سے لکھی گئی ہیں کہ بچے انہیں دلچسپی سے پڑھیں ۔ سبق آموز کہانیاں اب Islamic Stories For Kids کے نام سے موبائل ایپ کی صورت میں ہر قسم کے اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لئے دستیاب ہے ۔اس موبائل ایپلیکیشن میں سبق آموز کہانیاں آٹھ زبانوں میں پڑھنے کی سہولت موجود ہے۔ بچے اور والدین اردو، انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، بنگالی، فرانسیسی اور نارویجین زبانوں میں تمام کہانیاں پڑھ سکتے ہیں۔ بچوں کی دینی تربیت اور اسلام کی بنیادی معلومات کے لئے یہ بہترین کوشش ہے جس سے بچے اور والدین ضرور فائدہ اٹھاسکیں گے۔ سبق آموز کہانیاں شائع ہونے کے بعد بچوں اور والدین کی جانب سے مزید سوالات اور اصرار نے مجھے سبق آموز کہانیاں کا دوسرا حصہ لکھنے پر آمادہ کیا اور مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت مسرت ہورہی ہے کہ الحمداللہ سبق آموز کہانیاں 2 مکمل ہوگئی ہے اور امید ہے کہ یہ بھی جلد ہی شائع ہوسکے گی۔ اس میں بیس کہانیاں شامل ہیں اور توقع ہے کہ سبق آموز کہانیاں کا دوسرا حصہ بھی بچوں اور والدین میں بہت مقبول ہوگا۔