مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمیر سنٹر میں عیدکے حوالہ سے پوٹھواری محفل شعر خوانی اور سیف الملوک کا انعقاد
معروف قلمکار اورصحافی عارف محمود کسانہ کی بچوں کیلئے ’’ سبق آموز کہانیاں2‘‘مارکیٹ میں آگئی
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کی صورتحال اور تارکین وطن
میرا تعلق کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے بچپن میں جب آنکھ کھولی اور ہوش سنبھالا تو اپنے ارد گرد سرسبز و شاداب درختوں کی ہریالی، گھر میں ایک چھوٹا سا کنبہ گائوں کے سیدھے سادھے لوگ تھے۔ بارشی پانی سے کھیتی باڑی لوگوں کا زریعہ معاش تھا دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی ملتی تھی اجکل کے دور کی طرح کھانے پینے کے لمبے لمبے دسترخوان نہیں تھے نہ اتنی سوچ وفکر تھی نہ بڑے بڑے خواب اور نہ ہی مستقبل کی کوئی پلاننگ تھی بچپن میں ہی ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ انجانے میں برطانیہ پہنچ گئے محنت مزدوری سے نئی زندگی کا سفر شروع کیا حالات کی سختیاں کو برداشت کیا اپنی زندگی کی ضرویات اپنی جگہہ تھی کنبے قبیلے اور والدین کو آسودہ حال بنانے کی ذمہ داری اوّلین ترجیح بن گئی تھی اپنا وطن چھوڑنے والوں کی میری طرح کی ایسی ہی بے شمار کہانیاں اور داستانیں ہیں اپنوں سے دوریاں اور پردیس کی زندگی کی سختیاں اپنی جگہہ سہی لیکن برطانیہ میں انسان کی محنت کا پھل برابر ملتا ہے ریاست ماں ہوتی ہے محنت جاری رکھی اپنی اور خاندان کی معاشی فکروں سے آزاد ہوچکے ہیں کاروبار اور اولاد کی نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے نوازا ہوا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو وہ پیار کرنے والے سیدھے سادے گاوں کے لوگ اب اس دنیا میں باقی نہیں رہے ہیں۔پردیس بھی سزا کی طرح ہے نہ والدین کی قبروں پر بروقت پہنچ کر دو مٹھی مٹی ڈال سکتے ہیں نہ بیماری میں دم دلاسہ دے سکتے ہیں۔ اب زندگی ایسی نہج پر پہنچ چکی ہے کہ دوسروں کے کام آنے اور ان کی مدد کی فکریں رات کو سونے نہیں دیتی ۔دل اور دماغ میں طرح طرح کے جزبات اور احساسات ابھرتے ہیں کیا کچھ ایسا کریں کہ میری کشمیر دھرتی ماں کے بچے در بدر نہ ہوں ۔ مائوں بہنوں کی عصمت دری نہ ہو کسی ماں بہن کا سہاگ نہ آجڑے۔ کشمیر کا کیا بنے گا کشمیر میں معصوم لوگ کب تک جانیں قربان کرتے رہیں گئے لائن آف کنٹرول پر کب تک خوف کے سائے منڈلاتے رہیں گے اور لائن آف کنٹرول پر آباد دونوں اطراف میں کشمیری بلاخوف وخطر سو سکیں گئے۔ کیا پاکستان ہندوستان کو قائل کرلے گا کہ کشمیر میں لاشیں نہ گرائے معصوم لوگوں کو شہید نہ کرے ہم کیا ایسا کریں کہ اقوام عالم پاکستان کی بات سن کر کوئی کردار کشمیر کے مسئلے پر ادا کریں کیا کشمیر میں استصواب رائے ہوگا ہم کبھی اس قابل ہونگے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے مل سکیں گے کشمیری قوم جس طرح مختلف راستوں، خیالات اور نظریات کی ڈگر پر چل رہی ہے کیا یہ ہماری تحریک کے لئے نقصان دہ نہیں ہے کیا پاکستان اس قابل ہوجائے گا کہ یہاں کرپشن اور بدعنوانی نہ ہو۔ کیا پاکستان کبھی ایک فلاحی مملکت بن پائے گا کون سا لیڈر ایسا ہوگا جو اس ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالے گا غریب کو اس کی آجرت اس کی محنت کے مطابق ملے گئی غریب کو علاج معالجے کی سہولتیں مفت میں میّسر ہونگئیں بچے سکولوں میں مفت تعلیم حاصل کر پائیں گئے ریاست پاکستان غریب کو ترقی یافتہ ممالک کی طرح اپنی گود میں لے گئی انصاف کا دور دورہ ہوگا نوجوانوں کو ملک کے اندر ہی نوکریاں ملیں گئیں اور میرے ملک کا نوجوان دوبئی، سعودی عرب اور گلف ممالک میں جاکر دربدر نوکریوں کے لئے دھکے نہیں کھائے گا افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی پاکستان اور آزاد کشمیر میں تعلیم نوجوانوں کی ترجیح نہیں ہے وہ باہر جاکر نوکریاں حاصل کرنا چاہتے ہیں چونکہ ملک میں نوکریاں نہیں ملتی کب تک ہمارے ملک کا ٹیلنٹ ملک سے ناہمواریوں اور اقرباء پروری کی وجہ سے ملک سے راہ فرار اختیار کرتا رہے گا کل تک میری طرح کروڑوں تارکین وطن پاکستان کے کرپٹ نظام، وڈیروں، جاگیرداروں اور اشرافیہ سے دلبرداشتہ ہوکر پاکستان کی جانب مڑ کر دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے چونکہ پچھلے ستر سالوں سے ہم نے جمہوریت، مارشل لاءوں سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں اور نجانے کون کون سے نظام حکومت کے تجربات کرلیے ہیں ہر دور ہنگامہ خیز، افراتفری اور ہلچل والا تھا جو پاکستان کی ترقی کی ترقی میں رکاوٹ ریا حالات بد سے بدتر ہوتے گئے پاکستان کے حالات دگرگوں ہوتے گئے ایک آیا دوسرا آیا وہ دعوئے کرتے چلے گئے قابل شرم فعل تو یہ ہے کہ ٹیکس چوری کے پیسوں سے اندرون اور بیرون ملک جا ئیدادیں بناتے رہے امیر امیر تر ہوتا اور غریب غریب تر ہوتا گیا حکمران کوئی ہو جو ملک کے لئے اچھا کرے گا ہماری وفاداریاں اسی کے ساتھ ہیں تارکین وطن صرف یہ چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے عوام خوشحال ہو غربت ختم ہو نئے وزیراعظم عمران خان جس طرح کے دعوئے کر رہے ہیں اگر وہ کسی حدتک اس میں کامیاب ہوگئے تو یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگئی تارکین وطن کی بڑی اکثریت وزیراعظم پر اعتماد کرتی ہے وہ مسلم دنیا میں واحد حکمران ہیں جو تعلیم کو عام کرنا چاہتے ہیں آج مغربی دنیا اسی لئے کامیاب ہے کہ جب ہم مقبرے بنانے میں مصروف تھے وہ سائینسی ایجادات میں مصروف تھے ڈر یہ ہے کہ اگر ہماری پاک افواج نے موجودہ وزیراعظم کا ساتھ نہ دیا تو ناکام ہو جائے گا مدینہ کی ریاست کا خواب دکھانا، سعودی آئل ریفائنری کا پاکستان آنا، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے بڑے پیمانے پر عوام کی پزیرائی وزیراعظم ہاوس کو انٹرنیشنل ریسرچ یونیورسٹی میں تبدیل کرنا ۔ بے گھر افراد کے لئے گھر تعمیر کرنے جیسے منصوبے بڑے بڑے کام ہیں جن کی تکمیل میں قوم کو موجودہ وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہئے نظریات اپنے اپنے پارٹی اپنی اپنی ہونی چاہیے لیکن وفاداری ملک کے ساتھ رکھنی چاہیئے جو ملک اور قوم کے لئے اچھا کام کرے اس کا ساتھ دینا چاہئے عمران خان پوری قوم کا وزیر اعظم ہے تارکین وطن ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار ہیں حکومت برطانیہ سے برٹش ائیر ویز کا اجراء بھی اس بات کا غمازی ہے کہ حکومت برطانیہ بھی عمران خان پر اعتماد کررہی ہے سعودی عرب، ملائشیا، متحدہ عرب امارات کا پاکستان کی مدد کرنا بھی بہت اہم ہے یہ نئی لیڈرشپ پر بھرپور اعتماد ہے ،ان لوگوں کی سپورٹ اور حمایت ملک کے اندر اور باہر پاکستانیوں کو ترک کرنی پڑے گئی جن لوگوں نے ریاستی اداروں کو بدنام کیا ہے اور ان کی مخالفت کی۔