مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
مرغی آنڈے!!!
یہ وہ صدا ہے جو ہمارے گاوں میں انڈے خریدنے والا لگاتا تھا اور جس جس کے گھر کوئی آنڈہ برا ئےفروخت ہوتا وہ اپنے بچوں کے ہاتھ یا خود آکر اس انڈہ بیوپاری کو دے دیتا جو ہمارے قریبی قصبہ مامونکانجن سے ساییکل پہ آیا کرتا تھا۔ آس کے پاس ایک خاص قسم کا آلہ ہوتا تھا، جو اس نے لیمپ پا کے ٹو سگریٹ کی خالی ڈبیہ سے بنایا ہوتا تھا، جس کے ایک سرے پر انڈہ لگاگے اسے سورج کی طرف کرکے دیکھتا کہ انڈہ گلا ہوا تو نہیں۔ اس آلے سے پاس ہونے کے بعد انڈہ خریدتا ساییکل کے ڈنڈے سے بندھے ان سلے کپڑے کے جھولے میں رکھ لیتا جس میں پہلے سے ایسا کچھ رکھا ہوتا تھا کہ انڈے آپس میں ٹکرا کر ٹوٹنے سے محفوظ رہیں۔ سنا تھا کہ وہ اس قصبے کے ارد گرد کیٓ دیہات بشمول ہمارا گاوٓں پھیری لگا کر انڈے خریدتا پھر انکو لاہورجانے والی ریل گاڑی میں بِلٹی کرتا تھا کیونکہ وہاں دیسی انڈوں کی بڑی مانگ تھی۔ دیسی انڈوں سے وابستہ برسرِ روزگاریہ وہ شخص تھا جسے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا ہے اور ممکن ہے اب بھی بقیدِ حیات ہوں، کیونکہ ان کے ہم عمر لوگ ہمارے گاوٓں میں ابھی اچھی صحت میں موجود ہیں۔ سردیوں میں وہ انڈوں کے کاروبار سے منسلک رہتا اور گرمیوں میں مامونکانجن میں ہی وہ قلفی کی ریڑھی لگاتا تھا۔ اسکی قلفی ان تمام دیہات میں مشہور تھی جہاں سے وہ سردیوں میں انڈے خریدتا تھا۔ گرمیوں میں جب ہم کویٓ سودا سلف لانے مامونکانجن جاتے تو اس کی قلفی کھانا اچھی خاصی عیاشی ہوتی تھی۔ جب سے عمراں خان نے مرغی ڈاکٹراین پیش کیا ہے اس انقلابی سوچ نے پاکستان کے جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کی نیندیں اڑا کے رکھ دی ہیں۔ ان کو ڈر لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں محروم و بیروزگار طبقہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کر کے واقعی معاشی طور پر آزاد نہ ہو جا ئے ۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں ایسی بیشمار مثالیں ملتی ہیں جب ایک شخص نے اپنی کاروباری دانش اور محنت کو یکجا کرکے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا پھر ترقی کر کے اسی کو بڑا کرکے ہزاروں افراد کو روزگار مہیا کردیےٓ۔ مرغی سے ہی وابستہ ایک مثال امریکی کرنل سانڈرز کی ہے جس نے ۱۹۵۲ میں ایک معمولی سی رقم سے کینٹکی فراییڈ چکن نام سے مرغی فرایٓ کرکے بیچنا شروع کی جو اب دنیا بھر میں مقبول ہے، بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اشرافیہ کے ہاں تو کے ایف سی کھانا ان کے بڑے رتبے کی ایک علامت مانا جاتا ہے۔ یہی وہ بڑے رتبہ والے ہیں جو عام لوگوں کی معاشی آزادی سے خوفزدہ ہیں۔ اس میں جاگیردار اور سرمایہ دار دونوں شامل ہیں۔ پنجاب کے قایدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز بھی مرغ فروشی مٰیں ایک مقام رکھتے۔ انکے مخالفین کہتے ہیں کہ روزانہ مرغ کے بھاوٓ کا تعین بھی حمزہ شہباز کی کمپنی ہی طے کرتی ہے۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ جو کھدربافی میں مشہور ہے مرغبانی اور مرغوں کی خوراک پیدا کرنے میں بھی شہرت رکھتا ہے، جہاں سے ہر صبح انڈوں کی سینکڑوں پیٹیاں بذریعہ ریل لاہور پہنچا ئی جاتی ہیں۔ اب جب پاکستان مین بیروزگاری اور غربت کا گراف بہت بلندی پر ہے، تو یہ تمام سیاسی لیڈروں اور معاشی سوجھ بوچھ رکھنے والے افراد کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی نفسیات تبدیل کریں ، انہیں کچھ کرنے کا حوصلہ دیں اور انکی راہنمایٓ کریں تاکہ گداگری، چوری چکاری اور راہزنی کی بجاےٓ اپنا قانونی روزگار پیدا کریں۔ اور یہ باور کراییں کہ کو ئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ چھوٹے موٹے بلا سود قرض دے کر انہیں کسی مناسب کاروبار کیلئے ترغیب و تربیت دی جانی چا ہئے۔ ایک طرف تو ہم ایسے نبی کے امتی ہونے کا دعوی کرتے ہیں جس نے بھیک مانگنے والے صحابی کو انہی کے گھر کا سامان بیچ کر رسی اور کلہاڑا خرید کر دیا اور مشورہ دیا کہ لکڑیاں کاٹ کر رسی سے گانٹھ بنا کر بیچنا شروع کرے۔ دوسری طرف ہم چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے کے مشورے کا تمسخر اڑا رہے ہیں جس سے اس طبقے کہ حوصلہ شکنی کی جارہی ہے جس کیلیےٓ یہ مشورہ دیا گیا ہے اور وہ کچھ نا کچھ کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔ پاکستان جو غزا ئی قلت کے دہانے پہ کھڑا ہے وہاں مرغی، انڈہ، کٹا اور بچھڑا وغیرہ گندم سے کم اہم نہیں۔ گوشت کی مہنگا ئی کا رونا تو رویا جاتا ہے لیکن اگر انکی پیداوار بڑھانے کے طریقوں پہ غور کیا جا ئے تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر مرغی انڈہ کاروبار کو کسی بھی چھوٹے پیمانے پہ شروع کیےٓ جانے والے کاروبار کی طرح لیا جانا چا ہیےٓ جسے محنت اور لگن سے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھایا جا سکتا ہے۔ مامونکانجن میں قایم کھجور مارکہ صابن کے کارخانہ کا آغاز بھی کھلے آسمان تلے ایک کڑاہے میں صابن بنانے سے ہوا، جو اس کے بانی حاجی دین محمد مرحوم کی محنت اور جذبے سے علاقے کے سینکڑوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بنا۔ ہماری نفسیات کچھ ایسی ہے کہ ہم روزگار سے وابستہ شعبوں اور مختلف ذات کے لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انکا مذاق اڑاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آراییں برادری کے کاشتکار کو پیاز اگانے کے حوالے سے مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے جواب طلب بات یہ ہے کہ پیاز اگانے میں مذاق والی کونسی بات ہے؟۔ یہ ہماری خوراک کا ایک اہم جزو ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ پیاز اور دیگر سبزیاں ہر وہ شخص اگاتا ہے جس کے پاس کو ئی قطعہ اراضی ہوگا، پھر اس کو اراییں برادری کے ساتھ وابستہ کرکے گنواروں کی طرح ہنسنے سے کیا مطلب؟ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کسی اور پیشے یا کسی ذریعہٓ معاش کو اپنے پیشے سے گھٹیا ثابت کرنے کا رجحان ذرایع ابلاغ سے وابستہ افراد میں بھی پایا جاتا ہے جس کا میں نے پہلی بار مشاہدہ میں نے ۱۹۸۸ میں اسلام آباد میں کیا جب کسی اخبار کی بندش کے خلاف مظاہرہ کرنے والے صحافیوں نے احتجاجاً پکوڑے تل کے بیچے۔ اس سے میرے ذہن میں تو یہی تاثر ابھرا کہ پکوڑا فروشی ایک گھٹیا کام ہے جسے صحافیوں جیسے اعلی پیشہ سے وابستہ افراد کرنے پہ مجبور ہو رہے ہیں۔ حالانکہ ایک پکوڑا فروش اپنے رزقِ حلال سے اپنے خاندان کی کئی افسروں یا صحافیوں سے بہتر کفالت کرتا ہے۔ لہذا وہ وہ انتہا ئی قابلِ احترام اور مفید شہری ہے۔ ذرایع ابلاغ کو توایسی خود ساختہ کلاس سسٹم کے خلاف کام کرنا چاہیے جہاں کسی پیشے سے وابستہ افراد کو کمتر سمجھا جاتا ہو۔ اب جب پاکستان میں زیرِ کاشت رقبہ کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے بچانے کی اشد ضرورت ہے، وہیں پہ دیگر پیشوں کی حوصلہ افزایٓ اور ترویج کے ساتھ ساتھ نیےٓ پیشوں کی تخلیق بھی وقت کا تقاضا ہے۔ جس میں چھوٹے پیمانے پر مرغبانی، بھیڑ بکریوں اور گا ئے بھینسوں کی افزائش، گھریلو دستکاریاں، کمپیوٹر سافٹ وییر ڈیویلپمنٹ، اور دیگر خدمات کی بہم رسانی شامل ہے۔ ایسی پیشہ ور مشاورتی کمپنیوں کی بھی ضرورت ہے جو نیا کاروبار شروع کرنیوالوں کو تحقیق پر مبنی کاروباری مشورہ دے سکیں کہ وہ جو کاروبار سوچ رہے ہیں اسکی مارکیٹ ہے یا نہیں، اگر نہیں ہے تو کیسے مارکیٹ بنا ئی جا ئے۔ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں وہاں کاٹیج انڈسٹری کا اہم کردار ہے جس کی حوصلہ افزا ئی سرکاری سطح پر کی گئی۔ بنگلہ دیش ماڈل کا نام سن کر ایک خوف سا تو محسوس ہوتا ہے، لیکن ذرا احتیاط سے کام لیتے ہو ئے ان کی معاشی ترقی کا راز جاننے کی کوشش کرنے میں کو ئی حرج بھی نہیں۔ آخر انکا ٹکا ہمارے روپے سے بہت مضبوط ہے۔