مقبول خبریں
سردار آفتاب ، راجہ ارشد اور مسعود عالم شامی کی طرف سے پوٹھواری محفل کا انعقاد
مارجری حسین کی لکھی کتاب کی تقریب رونمائی،شرکا نے کتاب کو تاریخ ساز کارنامہ قرار دیا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عمران خان کا اصلی یو ٹرن
وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان کی زندگی کا اصلی یوٹرن وہ ہے، جسکی طرف اسکے مخالفین نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا وہ ہے انکا ایک پلے بواےٓ شہرت کے حامل شخص ہونے سے ایک عاشقِ رسول ہونے کا یو ٹرن۔ اسکے علاوہ کیٓ ایسی باتین جن کو ان کے مخالفین یوٹرن کا نام دے کر ان کا تمسخر اڑانے کی کوشش کیےٓ جارہے ہیں، وہ یو ٹرن نہیں۔ کیونکہ یو ٹرن تو چلتے چلتے مخالف سمت میں چل پڑنے کو کہتے ہیں ۔ آسیہ بی بی کی بریت کے ردِ عمل میں احتجاجی گروہ کو پہلے وارننگ، پھر ان کے ساتھ بات چیت کر کے احتجاج بند کروانا یو ٹرن نہیں تھا بلکہ، یہ تو متبادل راستہ تھا جس پر چل کر خونریزی کو روکا گیا۔ اسی طرح دیگر باتیں جن کو وہ یو ٹرن کہتے ہیں، منزلِ مقصود تک پہنچنے کے متبادل راستے ہی تھے ۔ یہ بھی ایک بدقسمتی ہے کہ ہمارے سیاسی و سماجی راہنما اور ذرایع ابلاغ سے وابستہ شخصیات اپنی گفتگو اور بیانات میں قصداً یا عمداً ایسے الفاظ کا استعمال کرجاتے ہیں جس سے بات کے معانی ہی بدل جاتے ہیں جیسےحکمتِ عملی کی تبدیلی کو یو ٹرن کا نام دے دینا ۔ پاکستان میں سیرت کانفرنس سے اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم عمران خان نے حضورِ اکرم ﷺ کی شخصیت کی معاملہ فہمی کا خصوصی ذکر کیا کہ کیسے انہوں نے مالی وسایل نہ ہونے کے باوجود دنیا کہ پہلی فلاحی ریاست قایم کی جس کے قیام کے تھوڑا عرصہ بعد ہی اس دور کی سپر پاورز سلطنتِ روم اور سلطنتِ فارس کو شکست دے کر اسلامی ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھی جس میں انسانی اقدار، مساوات اور سماجی انصاف کو تحفظ دیا گیا، بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد تو فتح مکہ سے بھی پہلے صلح حدیبیہ کے موقع پر رکھ دی گیٓ جب دوسرے فریق یعنی اہالیانِ مکہ کی ناراضگی دور کرنے کیلیےٓ معاہدہ کے مسودہ میں درج الفاظ،، محمد رسول اللہ ،اپنے دستِ مبارک سے کاٹ کر محمد بن عبداللہ لکھوایا تاکہ معاہدہ طے پا جاےٓ۔۔ اس واقعے کو اللہ نے بھی سورہ فتح میں رسول اللہ کی فتحِ مبین قرار دیا۔ بظاہر یہ مسلمانوں کی شکست تھی، جس میں کفار نے ان کو رسول ماننے سے انکار کیا، اور دیگر شرایط سے بھی عیاں تھا کہ وہ اپنی طاقت کے نشے میں مسلمانوں کو نیچا دکھا رہے تھے۔ لیکن یہ معاہدہ فتحِ مکہ ، فلاحی ریاست اور اس کی توسیع کی دستاویز ثابت ہویٓ۔ یہ حضرت محمد کا قایدانہ تدبر تھا جس نے بیک وقت انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں پر ان مٹ نقوش چھوڑے ۔ اسلام کے ابتدایٓ ایام میں صحابہ کو سیاسی پناہ کیلیےٓ حبشہ بھیجنا، خود اپنا آبایٓ شہر چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر جانا، صلح حدیبیہ کے موقع پر قریشِ مکہ کہ شرایط تسلیم کرتے ہوےٓ لفظ رسول اللہ کا حذف کر دینا رسولِ اکرم کا اپنے موقف سے دستبرداری نہیں تھا، بلکہ حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی میں لچک پیدا کرنا تھا۔ یہی تعلیمات ہیں رحمت اللعلین کی۔ صبر، عفو درگزر اور معاملہ فہمی۔ آج کی اس ترقی یافتہ معاشرت میں بھی کامیابی کے یہی راز مانے جاتے ہیں۔ ان سنہری اصولوں کو اپنا کر مصالحتی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ لیکن اپنے موٓقف پر نظرِ ثانی کو پسپایٓ سے تعبیر کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جاےٓ تو پسپایٓ تو وہ لوگ اختیار کیےٓ ہوےٓ ہیں جو کبھی عمران خان کو سیاستدان ہی نہیں مانتے تھے۔ بعض نامور صحافی تو باقاعدہ نجومیوں کی طرح پیشگوییاں کرتے تھے کہ عمران خان کے ہاتھ میں تو وزراتِ عظمی کی لکیر ہی نہیں۔ اب جب وہ اس منصب پر پہنچ چکے ہیں تو انکی ناکامیوں کی پیشین گوییاں شروع کر دیں، اور بطور فیشن اور اپنے آپکو صحیح جمہوریت پسند ثابت کرنے کیلیےٓ ان کو الیکٹ کی بجاےٓ، سلیکٹ کہنا شروع کر دیا۔ سیاسی تنقید ضرور کی جانی چاہیےٓ، لیکن اگر کویؑ یہ سوچتا ہے کہ وہ اپنی نجومیانہ دانشوری یا شطرنجی سیاستدانی سے ان کی اعصاب شکنی کر لیں گے انکو معلوم ہونا چاہیےٓ کہ عمران خان سیاسی کرکٹر ہیں جو ایک کھلنڈرے پن سے عشقِ رسول کی جانب یو ٹرن لے کر پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی راہ پر گامزن ہیں، جس کیلیےٓ انہیں بلاشبہ کیٓ سمجھوتے کرنے پڑ رہے ہونگے، لیکن وہ منزل تک ضرور پہنچے گا۔