مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی پارلیمنٹ کا کشمیریوں کیلئے خاموشی کو توڑنا یادگار گھڑی ہے: صدر آزاد جموں کشمیر
لندن (رپورٹ:عمران راجہ) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے آل پارٹی پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی طرف سے ہائوس آف کامنز میں ’’جموں وکشمیر میں انسانی حقوق‘‘ کے عنوان سے آزادانہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ کے اجراء کا خیرمقدم کیا ہے، سردار مسعود خان کو رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اس موقع پر انہوں نے رپورٹ کی اشاعت کے سلسلے میں بے باک اوربھرپور قیادت پر گروپ کے چیئرمین کرس لیزلی ایم پی کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے برطانیہ میں مقیم کشمیری پاکستانیوں کی کمیونٹی کے ارکان کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو سالہا سال سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو رکوانے اور تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کیلئے برطانوی پارلیمنٹ میں لابی سرگرمیاں کررہے ہیں تقریب میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تیس سے زائد ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں وکشمیر نے کہاکہ یہ ایک یادگار گھڑی ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے ان دو کروڑ کشمیریوں کے موجودہ حالات اور سیاسی مستقبل سے متعلق مسئلے پر اپنی خاموشی کو توڑا ہے جوگزشتہ 71سال سے اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے مصروف جدوجہد ہیں گروپ کی طرف سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین کو منسوخ کرنیکی سفارش کی گئی ہے اور یہاں سے ملنے والی بے نام اجتماعی قبروں میں دفن افراد کی شناخت کیلئے مکمل تحقیقات کی اپیل کی گئی ہے اور بھارتی حکومت سے کہاگیا ہے کہ وہ پیلٹ بندوقوں کے استعمال پر فی الفورپابندی عائد کرے جن کی وجہ سے سینکڑوں کشمیری نابینا ہوچکے ہیں،رپورٹ میں بھارت سے کہاگیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں کو بین الاقوامی معائنہ کیلئے کھولے اور بھارت اورپاکستان دونوں پر زوردیاگیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے آرپارشہریوں کے ویزا کے تحت سفر کو بحال کرنے کیلئے ملکر کام کریں،سردار مسعود خان نے پارلیمنٹری گروپ کی چھ سفارشات کی توثیق کی اورکہاکہ گروپ کی طرف سے جمع کئے گئے شواہد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںاور انسانیت سوزجرائم کو بے نقاب کرتے ہیں انہوںنے کہا کہ اے پی پی کے جی کی سفارش کے مطابق دوکالے قوانین یعنی آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کیاجائے جنہیں قابض افواج کشمیری شہریوں کو دہشت زدہ کرنے اور انہیں وحشت کا نشانہ بنانے کیلئے استعمال کررہی ہیں،یہ دونوں قوانین بھارتی فوجیوں کو طاقت کے بے جا استعمال،لوگوں کو بلاامتیاز قتل کرنے اور شہریوں کو الزام بتائے بغیر طویل عرصے تک حراست میں رکھنے اور طبی وقانونی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھنے کا اختیار دیتے ہیں انہوںنے کہاکہ اس سے قانون سے استثناء کے کلچر کو فروغ ملتا ہے اورقابض افواج کو اپنے گھنائونے جرائم پر قانونی کارروائی سے بچنے کا موقع مل جاتا ہے،زیرحراست افراد کو اذیت کا نشانہ بناکر موت کی نیند سلادیا جاتا ہے ان کیخلاف من گھڑت الزامات عائد کردیئے جاتے ہیں اور انہیں کسی عدالت میں پیش ہی نہیں کیا جاتا، سردار مسعود خان نے کہاکہ رپورٹ میں جواعدادوشمار جمع کئے گئے ہیں وہ بڑے پیمانے پرہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک چھوٹی سی مثال ہیں بڑے پیمانے پر قتل وغارت،لوگوں کو لاپتہ کرنے،من مانی حراست میں لینے،جعلی مقابلے کرنے اور ریپ اور صنفی تشدد کوجنگی ہتھیار اور اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان عام ہے جس پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے کوئی بامعنی احتساب نہیں ہورہا،انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایاکہ لاپتہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور اصل تعداد دس ہزار سے بھی بڑھ چکی ہے کئی بیوائیں آج تک اپنے شوہروں کی واپسی کی منتظر ہیں جبکہ اصل میں انہیں قتل کرکے کسی اجتماعی قبر میں دفن کیا جاچکا ہے،سردار مسعود خان نے کہاکہ رپورٹ کا اجراء اس لحاظ سے بروقت ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی رپورٹ کے بعد منظرعام پر آرہی ہے جس میں بھارتی مظالم کا ہوشربا احوال پیش کیاگیا ہے اور ان دونوں کالے قوانین کی منسوخی کے علاوہ انسانی حقوق کونسل کی طرف سے کشمیریوں کے حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن قائم کرنیکی سفارش کی گئی ہے انہوں نے مزیدکہا کہ انسانی حقوق کی آزاد تنظیمیں اور بین الاقوامی میڈیا اب نئے شواہد سامنے لارہے ہیں یہی وقت ہے کہ کشمیریوں کو بھارتی جبرواستبداد سے نجات دلائی جائے،صدر آزادکشمیر نے کہاکہ اے پی پی کے جی کی رپورٹ ایک ’’لائیوڈاکومنٹ‘‘ ہونی چاہئے جو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو فراہم کی جائے اسی طرح یہ برطانوی وزیراعظم اور برطانوی وزیرخارجہ کو بھجوائی جائے کہ وہ اس پر مزید کارروائی آگے بڑھائیں،انہوں نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ پر زور دیاکہ وہ ہائوس آف کامنز میں اس رپورٹ کو زیربحثلائیں انہوںنے اقوام متحدہ سلامتی کونسل پر بھی زوردیا کہ وہ اس رپورٹ سے رہنمائی حاصل کرے جوبھارت کی طرف سے کشمیری عوام کے حقوق کی کھلی اور پیہم خلاف ورزیوں پر ایک فردجرم ہے،صدر مسعود خان نے حاضرین کی توجہ کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کی بلاامتیاز فائرنگ کی جانب مبذول کرائی جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ان کے گھر،مویشیوں اور فصلوں کو تباہ کیا جارہا ہے انہوںنے کہاکہ بھارت کوچاہئے کہ وہ 2003میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونیوالے سیزفائر معاہدے کی پاسداری کرے،انہوں نے مطالبہ کیاکہ بھارت اور پاکستان کیلئے اقوام متحدہ فوجی مبصر گروپ کی رپورٹیں اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کو جمع کرائی جائیں اورسلامتی کونسل کے ارکان میں تقسیم کی جائیں،صدر آزادکشمیر نے تقریب میں شریک لارڈز اور ایم پیز کو بتایاکہ آزادکشمیر،پاکستان کی مسلح افواج کی مدد سے چالیس ہزار پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کررہا ہے جس کیلئے کسی بین الاقوامی ادارے مثلاً پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ ہائی کمیشن کی جانب سے کوئی امداد نہیںمل رہی انہوںنے کہاکہ پاکستان اور کشمیر مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیںجبکہ بھارت مسئلہ کشمیر کوفوجی طاقت اور دہشت کے ذریعے حل کرنیکی امیدلگائے بیٹھا ہے انہوں نے مزیدکہاکہ حال ہی میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارت اورپاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ایک موقع پیدا ہوا تھا جسے بھارت نے ناکام بنادیا،صدر آزادکشمیر نے برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی صورت میں سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کرنے میں مدد دے۔