مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بکھری یادیں اور باتیں کے مصنف بیرسٹر صبغت اللہ قادری کی کتاب کی تقریب رونمائی
لندن (خصوصی رپورٹ: اکرم عابد) برطانیہ میں پہلے مسلم کیو سی کو دنیا نجانے کس روپ میں جانتی ہے لیکن میں نے اگر کوئی سچا کھرا وفادار اور محبت کرنے والا کامیاب انسان دنیا میں دیکھا ہے تو وہ بیرسٹر صبغت اللہ قادری ہیں۔ کراچی میں وہ صحافی تھے تو لوگ انہیں ایک غریب محنت کش تصور کرتے تھے، انہوں نے بھٹو سے اپنی محبت کا اظہار کیا تو لوگ انہیں جیالا کہنے لگے اور جب برطانیہ میں انہوں نے اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر شعبہ قانون میں ترقی حاصل کی تو سبھی انہیں برطانوی کوئین کونسل کے رکن کے طور پر جاننے لگے۔ یہی بیرسٹر صبغت اللہ قادری کراچی میں ترقی پسند طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ رہے۔ 1958 کے مارشل لا میں گرفتار اور بعد میں شہر بدر کیے گئے۔ 1960 میں وہ لندن چلے گئے، جہاں کچھ عرصہ بی بی سی سے منسلک رہے اور بعد میں وکالت کا پیشہ اختیار کر لیا۔ ترقی پسندی اور جمہوریت کی حمایت انہیں پیپلز پارٹی کے قریب لے گئی، انھوں نے لندن میں ذوالقفار علی بھٹو کی رہائی کے لیے جدوجہد کی اور ان کا شمار بینظیر بھٹو کے رفقا میں کیا جاتا ہے۔ محترمہ کی وفات کا حقیقی صدمہ سہنے والوں میں ایک نام بیرسٹر صاحب کا بھی ہے جو آج بھی کسی لمحے محترمہ بینظیر بھٹو کی تعریف سے نہیں چوکتے۔ انکی شہادت پر ان سے بڑی عمر کا یہ جیالا پھوٹ پھوٹ کر ایسے رویا کہ اسکی بیوی بھی حیران تھی۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے اپنی زندگی بھر کی یاداشتوں پر مبنی کتاب کی رونمائی کرائی جسکے لیئے اہ خصوصی طور پر لندن سے کراچی گئے تاکہ پرانے ساتھیوں کے ہمراہ ان سچی اور کھری باتوں کا مزہ لیا جائے۔ اس کتاب میں محترمہ کی شہادت کے حوالے سے انہوں نے لاتعداد باتوں کا ذکر کیا ہے جو پڑھنے کے قابل ہے۔ بیرسٹر قادری لکھتے ہیں کہ دبئی سے کراچی جانے والی اس پرواز میں انہوں نے اپنی سیٹ بزنس کلاس میں ٹرانسفر کرانے کی کوشش کی تاکہ بینظیر بھٹو کے ساتھ سفر کر سکیں لیکن بدقسمتی سے بزنس کلاس میں کوئی نشست خالی نہیں تھی۔ اس جہاز میں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے علاوہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے پی پی کے کارکن بھی موجود تھے۔ وہ رقم طراز ہیں کہ ’بینظیر بھٹو بزنس کلاس سے باہر آئیں اور سب سے فرداً فرد اً جا کر ملیں۔ بزنس کلاس ختم ہوتے ہی میری دوسری نشست تھی، بی بی میری طرف آئیں اور مجھ دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قادری صاحب آپ ہمارے ساتھ چل رہے ہیں مجھے اچھا لگا۔‘ ان کے بقول بینظیر نے انھیں بتایا کہ کراچی پہنچنے پر وہ ایک ٹرک پر آگے جائیں گی اور انھوں نے بیرسٹر قادری کو بھی اس ٹرک پر ساتھ سوار ہونے کی دعوت دی اور ناہید خان اور خصوصا رحمان ملک سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ’قادری صاحب ہمارے ساتھ ٹرک پر سوار ہوں۔‘ صبغت قادری کی یادداشت نامے کے مطابق کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد رحمان ملک نے بی بی کی ہدایت کے باوجود انھیں یہ نہیں بتایا کہ ٹرک کہاں کھڑا ہو گا اور وہاں کیسے پہنچنا ہے؟ انھوں نے اپنے دوست کو فون کیا اور پچھلے راستے سے قصرِ ناز پہنچ گئے اور وہاں سے ایک دوست ثاقب سومرو کے گھر چلے گئے۔ بیرسٹر قادری لکھتے ہیں کہ ان کی چھٹی حس انھیں کسی انھونی کے ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔ ’میرے خدشات کی کچھ وجوہات تھیں جنرل پرویز مشرف نے قومی مفاہمتی آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے، آصف زرداری کو بھی رہا کر دیا مگر وہ بینظیر کو پاکستان میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔‘ بینظیر بھٹو کا قافلہ جیسے ہی شاہراہِ فیصل پر کارساز کے قریب پہنچا تو ان کے ٹرک کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔ اس رات ہونے والے دو دھماکوں میں 150 سے زیادہ افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ بیرسٹر قادری کے مطابق انھیں محترمہ کی خیریت معلوم نہیں ہو رہی تھی اور بعد میں علم ہوا کہ وہ بلاول ہاؤس پہنچ گئی ہیں۔ دبئی سے پاکستان واپسی کے اس سفر میں بینظیر کے ہمراہ ان کے شوہر آصف زرداری نہیں تھے۔ اس بارے میں بیرسٹر صبغت اللہ قادری لکھتے ہیں کہ ’گڑھی خدا بخش جاتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ قادری صاحب آپ کو وہ آرٹیکل یاد ہے جو میرے اور آصف کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ میں نے انھیں یاد دلایا کہ وہ آرٹیکل تو آپ کی دوست نے لکھا تھا۔ ’بی بی نے کہا کہ ایسے لوگ کسی کے دوست نہیں ہوتے‘۔ اس مضمون میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری میں علیحدگی کی بات کہی گئی تھی۔ بیرسٹر قادری کے مطابق بینظیر کا کہنا تھا کہ ’آصف میرے ساتھ واپس نہیں آئے۔ اس کی وجہ بچوں کی دیکھ بھال ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ والدین میں سے کسی ایک کو ان کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ آصف جیل میں تھے تو میں بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔ ’میرا پاکستان آنا ضروری تھا اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ آصف بچوں کی دیکھ بھال کریں۔ میں نے آپ سے یہ بات اس لیے کی ہے کہ کل پھر لوگ اس طرح کی افواہیں پھیلائیں گے کہ ہمارے درمیان اختلافات ہیں۔‘ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے حوالے سے کچھ سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرح بینظیر بھٹو کی ہلاکت کو بھی مقامی اور بین الاقوامی گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ بقول ان کے بینظیر بھٹو نے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتے کیے۔ ’امریکہ کا جو یار ہے، وہ غدار ہے‘ جیسے نعروں کی حوصلہ شکنی کی اس کے باجود ملکی اور غیر ملکی قوتوں نے انھیں قبول نہیں کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ بی بی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں۔ فوج کو جمہوریت کا تحفہ پیش کیا، اس کے باوجود انھیں بحیثیت وزیراعظم قبول نہیں کیا گیا۔ ان کے دور میں مرتضیٰ بھٹو کو شہید کیا گیا۔ بینظیر نے انہیں آنے سے روکا تھا، وہ جانتی تھیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے وہ ناپسندیدہ شخص ہیں اور پھر بالاخر بینظیر کو بھی اسی جگہ شہید کر دیا گیا جہاں پاکستان کے پہلے وزیراعظم کو شہید کیا گیا تھا۔