مقبول خبریں
موومنٹ فار دی رائٹس اوورسیز پاکستانیز کے زیر اہتمام ڈوئل نیشنل کو عزت دو بارے تقریب کا اہتمام
پاکستان مادر وطن ہے اسکی حفاظت ہمارا فرض اولین ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور
دورے پرحکومت پاکستان،حکومت آزاد کشمیر اور راجہ نجابت کی معاونت کے مشکور ہیں:کرس لیزے
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
یورپ میں مسئلہ کشمیر کو مزید تیزی سے اجاگر کیا جائے گا: تحریک حق خودارادیت
زمین پر دیوار چین
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نوجوان نسل کی بہترین تربیت کریں: چوہدری شہباز، محمد ابو بکر
پاکستان سے پاکستانی کئی دہائیوں پہلے برطانیہ آئے،اپنے روزگار کے سلسلے میں مگر برطانیہ میں ہی آباد ہو گئے،وقت گزرتا گیا اولادیں جوان ہوتی گئیں نسلیں پروان چڑھتی رہیں بعض والدین نے اپنی محنت مزدوری کر کے اپنی اولاد کو پڑھایا لکھایا اور ان کی تعلیم و تربیت کرتے رہے مگر بعض والدین کی اولاد بد قسمتی سے پٹری سے اتر گئیں جس کی وجہ سے برطانیہ کی مختلف جیلوں میں قید ہیں،ان خیالات کا اظہار سمائل ایڈ کے چیئرمین چوہدری شہباز سرور اور محمد ابو بکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ برطانیہ کی کل آبادی65ملین ہے،جس میں برٹش مسلم کی تعداد15فیصد ہے،کرسچن کمیوکنٹی61فیصد جبکہ ہندو1.5فیصد اور یہودی0.5فیصد ہے یہ انفارمیشن برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ سالوں میں کی گئی ہے جس میں برطانیہ میں3ملین مسلمان ہیں اور برٹش پاکستانی2ملین ہیں،2ملین مسلمانوں میں پاکستان،عرب ممالک کے دیگر افراد شامل ہیں،انہوں نے برطانوی میڈیا سے انفارمیشن برطانیہ کے جیلوں میں ٹوٹل آبادی کے لحاظ سے13فیصد لوگ قید ہوئے ہیں افسوس ناک بات یہ ہے کہ برٹش پاکستانی تقریباً2ملین برطانیہ میں آباد ہیں جبکہ جیلوں میں15فیصد قید ہیں،ہماری تمام کمیونٹی کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ جیلوں میں جو افراد قید ہیں ان میں خواتین بھی شامل ہیں ان افراد کے کرائم جن میں منی لانڈرنگ،فراڈ،اسلحہ اور دیگر جرائم شامل ہیں،برطانوی نژاد پاکستانی نوجوان کی مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانے انجانے میں چھوٹے بڑے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں بدنامی کا باعث بنتے ہیں برطانیہ میں رہائش پذیر کمیونٹی کو چاہئے کہ کام کاج،کاروبار کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی بہتر تربیت کو بھی اپنی اولین ذمہ داری سمجھنا چاہئے اور برطانیہ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کی صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت کو بھی اہمیت دینی چاہئے تاکہ مستقبل قریب میں یہ نوجوان برطانوی معاشرے میں مثبت کردار ادا رکر سکیں اس سے نہ صرف برطانیہ میں پاکستان کا نام روشن ہو گا بلکہ پاکستانی کمیونٹی کا سر بھی فخر سے بلند ہو گا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر