مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دھوکہ دہی اور رقم لیکر فرار ہونے والے پاکستانی مختا راکبر بٹر کے خلاف مقدمہ درج
فرینکفرٹ/جرمنی:جرمن پولیس نے لوگوں سے دھوکہ دہی اور مختلف حیلے بہانوں سے رقم لیکر فرار ہونے والے پاکستانی کے خلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مقیم مختا راکبر بٹر نامی پاکستانی شخص نے اپنی ہی کمیونٹی کے افراد کو جھوٹی دکھ بھری کہانیاں سنا کر لوٹنا شروع کردیا۔ تحصیل فیروزوالہ، ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والاچوہدری مختار اکبر بٹرولد چوہدری اکبر بٹر کافی عرصے سے جرمنی میں مقیم ہے اور جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کو کبھی ذاتی مسائل، کاروبار میں نقصان اور کبھی ازواجی معاملات کے جھوٹے قصے سنا کرادھار پیسے لیتا ہے اور پیسوں کی واپسی کے تقاضے پر لوگوں کوجان سے مارنے کی دھمکیاں دیکر خوف ذدہ کرتاہے۔جس کے باعث کمیونٹی کے لوگ پولیس کے پاس جانے سے گھبراتے ہیں۔ہمارے نمائندے کے مطابق مختاراکبر بٹر نامی شخص کو جب کمیونٹی کے لوگوں نے ادھار دینا بند کر دیا تو اس نے لندن میں مقیم ایک سادہ لوح پاکستانی سہیل احمد لون کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ اسے کاروبار میں کچھ مسائل کا سامنا ہے اور اگر وہ انہیں ساڑھے تین ہزار پونڈ ویسٹرن یونین کے ذریعے بھیج دے تو رقم سمیت اس خرچ ہونے والی فیس بھی دس منٹ بعد واپس بھیج دے گا کیونکہ اس نے انکم ٹیکس آفس کو ایک رسید دکھانی ہے جس میں وہ یہ دکھا سکے کہ اسے انگلینڈ سے پیسے آئے ہیں۔مختار بٹر نے یہ بتایا تھا کہ اس نے اپنے بھانجے کو انگلینڈ رقم بھیجی تھی جس کی پوچھ گچھ انکم ٹیکس آفس نے شروع کردی ۔بھانجا رقم لیکر پاکستان چلا گیا ہے اور اب اس کا کاروبار بند پڑا ہے اور اکائونٹ بھی انکم ٹیکس والوں نے فریز کر دیا ہے۔اگر کوئی اسے انگلینڈ سے رقم بھیج دے تو یہ انکم ٹیکس آفس کو یہ بتا سکتا ہے کہ رقم اسے واپس آگئی ہے ، اسکا بند کاروبار پھر سے چل سکتا ہے۔مختار اکبر بٹر نے قرآن کی قسم اٹھا کر کہا کہ اگر سہیل لون اسے رقم بھیج دے تو زندگی بھر احسان مند رہے گا اور دس منٹ میں واپس کردے گا۔جس پر سہیل احمد لون نے مختار بٹر نامی شخص کو مطلوبہ رقم بذریعہ یسٹرن یونین بھجوا دی۔دس منٹ کی بجائے چھ ہفتے گزر گئے ۔جب سہیل لون نے مختار بٹر سے رقم کا مطالبہ کیا تو وہ آج کل کا بہانہ کرکے انہیں ٹرخاتا رہا۔جب مختار بٹر سے رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں زور دیا گیا تو اس نے سہیل لون کو فون پر دھمکی دی کہ وہ انکے خاندان کے بارے جانتا ہے اور وہ انہیں قتل کرا دے گا۔جس پر سہیل لون خود جرمنی تشریف لے گئے اور وہاں جاکر فون پر اس سے رقم کی ادائیگی کا کہا۔مختار بٹر نے انہیں کہا کہ وہ فرینکفرٹ آجائیں اور رقم لے لیں جس پر سہیل لون نے وہاں جاکر بتایا کہ وہ آچکے ہیں تو مختار بٹر نہ آیا اور فون پر پھر دھمکیاں دیں۔جس پر سہیل لون نے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں اور پولیس میں مقدمہ بھی درج کرادیا ۔پولیس نے جب اس شخص کے کوائف کی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ یہ عادی فراڈیا ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے کئی افراد کو پہلے ہی لوٹ چکا ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے جب اسکی گرفتاری کیلئے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تو وہ اس سے قبل ہی وہاں سے فرار ہوگیا۔پولیس مختار بٹر کو تلاش کر رہی ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کا کہنا ہے مختار بٹر کے اس فراڈ میں اسکا باپ چوہدری اکبر بٹر برابر کا شریک ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے مختار بٹر نہ صرف فراڈ کرتا ہے بلکہ پاکستان سے لوگو ں کو غیر قانونی طور پر جرمنی لانے کے دھندے میں بھی شریک ہے اور پاکستان سے کافی لوگوں کو جرمنی بلانے کے نام پر لاکھوں روپے کا فراڈ کر چکا ہے۔