مقبول خبریں
موومنٹ فار دی رائٹس اوورسیز پاکستانیز کے زیر اہتمام ڈوئل نیشنل کو عزت دو بارے تقریب کا اہتمام
پاکستان مادر وطن ہے اسکی حفاظت ہمارا فرض اولین ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور
دورے پرحکومت پاکستان،حکومت آزاد کشمیر اور راجہ نجابت کی معاونت کے مشکور ہیں:کرس لیزے
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
یورپ میں مسئلہ کشمیر کو مزید تیزی سے اجاگر کیا جائے گا: تحریک حق خودارادیت
زمین پر دیوار چین
پکچرگیلری
Advertisement
پرواز ہے جنوں: فلم میں ایئرفورس اکیڈمی کی روزمرہ زندگی کو قریب سے دکھایا گیا ہے
لندن (رپورٹ: اکرم عابد) پاکستانی سینما کے بڑے ستارے بڑی تعداد میں لندن میں امڈ آئے جو سب فلم ’’پرواز ہے جنوں‘‘ کے یورپین ریڈکارپٹ پریمیئر کے سلسلے میں یہاں پہنچے ۔ جوانی، ہمت وحوصلے، محبت اور حب الوطنی کی کہانی ’’پرواز ہے جنوں‘‘ پاکستان ایئرفورس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بنائی گئی ایک فلم ہے جو مومنہ اینڈ درید فلمز اور ہم فلمز نے پاکستان ایئرفورس کے ساتھ مل کر بنائی ہے۔ فلم کی کہانی فرحت اشتیاق نے تحریر کی ہے جو اس سے پہلے فلم ’’بن روئے‘‘ بھی تحریر کر چکے ہیں۔ ’’بن روئے‘‘ کے بعد یہ مومنہ درید کی دوسری فلم ہے۔ بن روئے، 2015 میں ریلیز ہوئی تھی جس کا شمار خاص طور پر برطانیہ کی بڑی انٹرنیشنل سپرہٹ فلموں میں ہوتا ہے۔ فلم کی کاسٹ میں ہانیہ عامر، سپرسٹار حمزہ علی عباسی، اور ابھرتے ہوئے ستارے احد رضامیر شامل ہیں جو پریمیئر کے موقع پر پروڈیوسر مومنہ درید کے ہمراہ موجود تھے۔ ریڈکارپٹ کے بعد فلم کی ’’ایکسکلوسو سکریننگ‘‘ ہوئی جسے تمام حاضرین نے بھرپور داد دی۔ پاکستان ایئرفورس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بنائی گئی اس فلم میں ایئرفورس اکیڈمی کی روزمرہ زندگی کو قریب سے دکھایا گیا ہے، جس میں ایئرفورس کے جوانوں کو ہنستے کھیلتے، غلطیاں کرتے ہوئے سیکھنے کی منازل طے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فلم کی کہانی ثانیہ (ہانیہ عامر) کے گرد گھومتی ہے جو ایک نوجوان کیڈٹ ہیں جنہیں صنفی کرداروں سے جڑی عام دقیانوسی باتوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنا پائلٹ بننے کا خواب پورا کرنا ہے۔ فلم کے بارے میں اپنی رائے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ میں جس وقت ’’پرواز ہے جنوں‘‘ کا حصہ بنی تو میری عمر صرف انیس برس تھی اور اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ میری زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ میرے لئے ایک چیلنج تھا کہ مرکزی کردار کے طور پر میں کیسی پرفارمنس دیتی ہوں اور میں مومنہ جی اور پروڈیوسرز کی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ یادگار موقع دیا۔ یہ فلم پاکستان کے بارے میں بیرونی دنیا کے منفی خیالات کو بھی غلط ثابت کرتی ہے اور اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس حوالے سے حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ یہ فلم پاکستان میں ایک انقلاب لائے گی اور اب جبکہ نیا پاکستان بن چکا ہے تو ہماری منزلیں آسمانوں سے بھی آگے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے اندر اور باہر، ہر جگہ رہنے والے لوگ اس محنت کو خراج تحسین پیش کریں گے جو ہم اس فلم کو بنانے کے لئے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہے اب ہماری باری ہے کہ ہم پاکستان کے لئے کچھ کریں۔