مقبول خبریں
اولڈہم کونسل کےشعبہ جات میں کام کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز تقریب
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
مدینہ مسجد یو کے اسلامک مشن میں سیرتِ سرورِ کائنات ؐ کا انعقاد ،مہمانان گرامی کا والہانہ استقبال
تم آگ کا دریا ،میں سمندر کی ہوا ہوں!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
میں اور عمران خان
عمران خان کے سیاست میں آنے سے پہلے سن1990میں گورنمنٹ کالج میں فنڈ ریزنگ کیلئے عمران کے آنے کی نوید سنی تو میں بھی ان پرستاروں میں سے ایک ہوں جو عمران خان کو بچپن ہی سے اپنا ہیرو تصور کرتا تھا کیونکہ میں خود کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا اور میری ٹیم کنگز کرکٹ کلب کے نام سے اپنے علاقے کی مشہور ٹیم تھی،جب مجھے علم ہوا کہ عمران خان گورنمنٹ کالج آ رہے ہیں تو میں نے معلوم کیا کہ سٹوڈنٹس اولڈ ہال کے اندر جمع ہو رہے ہیں انہی دنوں میں گورنمنٹ کالج ڈرا میٹیکس کلب کا جنرل سیکرٹری بھی تھا،معلوم نہیں یہ میری خوش بختی تھی یا جو شخص عمران کیلئے انتظامات کر رہا تھا اس کی نا اہلی کہ سٹیج سیکرٹری کیلئے کوئی بھی سٹوڈنٹ تیار نہ تھا اس دوران لگ بھگ ایک گھنٹہ پہلے مجھے کہا کہ میں سٹیج سیکرٹری کا رول ادا کروں،میرے لئے یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ میرا رول ماڈل عمران خان اسی سٹیج پر آنے والا ہے جس کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض مجھے انجام دینے ہیں،رش کی وجہ سے بہت ہوٹنگ ہو رہی تھی،میرے لاکھ کہنے کے باوجود شور کم نہ ہوا لیکن جیسے ہی خبر ملی کہ عمران خان گورنمنٹ کالج کے اندر آ چکے ہیں ایک خاص قسم کی خوشی اور آنکھوں میں چمک دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے بہار آ گئی ہو،لڑکیاں شور مچا رہی تھیں کہ اتنے میں میں نے مائک پر کہہ دیا کہ اپنے دلوں کی دھڑکنوں کو تھام لیجئے اور لڑکیاں سروں پر دوپٹوں سے ڈھانپ لیں کہ عمران بھائی آ رہے ہیں،یقین کریں مجھے بہت ہوٹنگ ہوئی لیکن میں نے جو کہا تھا کہہ گیا اور جیسے ہی عمران خان سٹیج پر ائے تو ہماری خوشی کا حال بتایا نہیں جا سکتا۔ میری دوسری ملاقات سنٹرل لندن کے ایک7سٹار ہوٹل کی ایک پروقار تقریب میں ہوئی جب عمران خان کوLiyodstsbکی طرف سےLife Time Achievmentایوارڈ دیا جانا تھا۔اس تقریب میں لندن پاکستان اور دنیا کی امیر ترین شخصیات سے لے کر ماڈلز سنگرز اور انڈیا پاکستان کے نامور کرکٹر بھی موجود تھے،میرے لئے اس محفل میں داخل ہونا نا ممکن تھا لیکن خدا کی مرضی تھی کہ میرے ایک قریبی دوست اعجاز حسین جو کہ ترقی کی منازل تہہ کرتے ہوئے بلندی کی حدوں کو چھو رہے تھے کے گھر ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے اس محفل میں جانے پر اصرار کیا کیونکہ وہ اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے اس محفل میں جانے سے قاصر تھے،اعجاز نے اپنا سوٹ اور بوٹ مجھے پہنا کر اپنیBMWبھی دی کہ یہ اس محفل میں جانے کیلئے ضروری تھا،جب عمران خان کو یہ ایوارڈ ملا تو مبارک باد دینے کیلئے میں ان کے پاس گیا تو عمران نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہو میں نے بتایا کہ Civil Servicsمیں ہوں اور جاب سنٹر میں کام کر رہا ہوں،عمران خان نے بھلا جھجک مجھ سے کہا کہ آپ پاکستان واپس آئو آپ کی پارٹی اور پاکستان کو ضرورت ہے یہ غالباً2001کی بات ہے مجھے خوشی ہوئی اور میں نے وعدہ کیا کہ میں پاکستان آئوں گا کیونکہ پاکستان کی خدمت کا جذبہ میرے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ 9/11کے بعد جب پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ سر اٹھانے لگی تو میرے والد کا مجھے ہر روز فون آتا تھا کہ آج تمہارے پلاٹ اتنے کہ ہو گئے ہیں تم بآسانی اپنی زندگی گزار سکتے ہو،میرے ابو نے ایک ایک پیسے کی رکھوالی کی جو رقم میں لندن سے بچا کر پاکستان بھیجتا تھا وہ ان پیسوں سے میرے لئے پلاٹ خرید لیتے اور جب ان کی تعداد کافی ہو گئی تو میں نے ابو سے کہا کہ ابا جی ہور پلاٹ رہن دیو کافی ہو گئے ہیں تو ابو بہت ہنستے تھے تہماری دوری میں میری محبتوں میں اضافہ تمہارے نصیب بدل دے گا اور یہ ہی ہوا جب2004اکتوبر میں میں پاکستان آیا تو میرے پاس اتنی دولت تھی کہ میں بآسانی اپنا گھر اور کاروبار کر سکتا تھا۔ میں نے آتے ہی عمران خان کو فون ملایا اور بتایا کہ میں پاکستان واپس آ گیا ہوں اور اب میں تحریک انصاف جوائن کرنا چاہتا ہوں،عمران خان نے مجھے ملنے کیلئے6بجے شام کو اپنے گھر کی دعوت دی جو کسی وجہ سے نہ ہو سکی شاید میں مصروف تھا اور جا نہ سکا اور میں اپنی غفلت کو آج بھی محسوس کرتا ہوں اور شرمندہ ہوں۔ تھوڑے ہی عرصے بعد لاہور میں ایک ضمنی الیکشن تھا اور خوشی قسمتی سے میرا ہی حلقہ تھا میںEMEسوسائٹی میں رہائش پذیر تھا،الیکشن کمپین کے دوران میری ملاقات فرخ حبیب سے ہوئی جو ان دنوں عمران خان کے ساتھ دن رات محنت کر رہا تھا میں نے فرخ سے عمران خان کوEMEمیں جلسہ کی دعوت دی جو خان صاحب نے قبول کر لی اور جب وہ EMEآئے تو میری یہ ان سے تیسری ملاقات تھی اور کافی تفصیل میں بات کرنے کا موقع بھی ملا اور میں نے عمران خان کو یاد کروایا کہ میں وہی امجد وٹو ہوں جس کو آپ نے پاکستان آنے اور تحریک انصاف جوائن کرنے کی دعوت دی تھی،عمران خان کو فوراً یاد آ گیا اور انہوں نے میرا شکریہ ادا بھی کیا،خان صاحب کی پارٹی اور ملک سے کمٹمنٹ دیکھ کر میرا جذبہ آسمانوں کو چھونے لگا اور تب سے اب تک میں پارٹی کیلئے شب و روز ایک کر رہا ہوں آج جب عمران خان وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں تو مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ خان صاحب اپنی انتھک محنت سے آج اس مقام پر پہنچے ہیں کہ ملک کی تقدیر بدلنے کو ہے اور امیدوں کی کرنوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا اکٹھا ہونا جو ایک دوسرے کا منہ تک دیکھنے کو تیار نہ تھے آج ہم پیالہ ہم نوالہ ہوتے نظر آ رہے ہیں،دہائیوں سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ فرینڈلی اپوزیشن کر رہی ہیں،مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی،اچکزئی اور دیگر جماعتوں کا اتحاد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سب اپنے انجام سے ڈر کر ایک آخری کوشش کرنے جا رہے ہیں جو کہ بری طرح ناکام ہو گی اور انشا اللہ آپ دیکھیں گے جیسے ہی عمران خان حلف اٹھا لیں گے اور احتساب اور90دن کی پالیسی پہلے ہی ہفتے سنا دی جائے گی،عوام میں خوشی کی لہر اور ان لیڈروں میں خوف کی ہر انہیں بہا لے جائے گی۔