مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دعائیں دل سے نکلتی ہیں التجا بن کر!!!!!!!!!!!
’My name is Khan and I am not a terrorist‘۔۔۔۔آپ سب کو ’مائی نیم از خان ‘نام کی ہندی فلم کا یہ ڈائیلاگ ضرور یاد ہوگا۔ 2010کے ابتدائی دنوں میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو اپنے اچھوتے موضوع کے حوالے سے بالخصوص مسلمان حلقوں میں بہت سراہا گیا تھا، مسلمان سمجھتے تھے کہ ہندوئوں کی بنائی ہوئی اس فلم کے توسط سے دنیا بھر میں مسلمانوں پر لگے دہشت گردی کے الزامات کو دھو نے میں بڑی مدد ملے گی لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوا بلکہ اس کا الٹا اثر ہوگیا۔ لوگوں نے اس ڈائیلاگ کی کچھ یوں تشریح کی کہ دنیا بھر کے مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں لیکن میں ’خان ‘نام کا مسلمان دہشت گرد نہیں ہوں۔اصل میں سارا کمال ہے میڈیا کا۔ میڈیامیں پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، سب ہی شامل ہوتے ہیں۔ اگر آج دنیا بھر میں مسلمانوں کو لڑاکا، جنگجو، انتہا پسند، عسکریت پسند اور دہشت گرد کہا جارہا ہے تو اس بدنامی میں اصل کردار میڈیا کا ہی ہے۔بڑی حد تک قصور وار مسلمان ممالک خود بھی ہیں جنہوں نے اپنے میڈیا کو کبھی اس قابل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ مسلمانوں پر لگے ہوئے الزامات کو زائل کرنے کے لیے بین الاقوامی طور پر کچھ ایسا پیش کر سکیں جس سے عالمی سطح پر ہماری بات سنی جاسکے۔ بدقسمتی تو یہ کہ آج پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک میں امریکا، برطانیہ اور بھارت کی بنائی ہوئی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنتی ہیں اور کاروباری کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہیں۔منظم اشتہاری مہم کے ذریعے لوگوں کو ہر غیر ملکی فلم کے بہترین ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے، ہمارے ملک میں لوگ ویسے بھی تفریحی مواقع کی بدترین قلت کا شکار ہیں۔ انہیں تفریح کا معمولی سا موقعہ بھی مل جائے تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ عوام کی اسی بے بسی اور بے تابی کو انوسٹرز ’کھڑکی توڑ‘ کامیابی کا نام دے کر مزید کامیابیوں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ اب ایسے میں ہم غیر مسلموں بلکہ ہندو بت پرستوں سے یہ توقع رکھیں کہ وہ اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کی عظمت کی کہانیوں کو اپنی فلموں کا موضوع بنائیں گے تو اسے حماقت سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھا جائے گا۔کبھی آپ نے غور کیا کہ گذشتہ دس برسوں میں ہندوستان میں جتنی بھی فلمیں بنائی گئیں ان میں مسلمانوں کو گینگسٹرز اور بے رحم دہشت گردوں کے روپ میں پیش کیا۔کشمیر کے موضوع پر بھی وہاں بہت سی فلمیں بنائی گئی ہیں ، ان میں بھی کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو مجاہدین آزادی کی بجائے عسکریت پسندوں کا نام دیا۔اور پاکستان سے باہر نکل کر دیکھیں تو فلسطین ، عراق حتیٰ کہ افغانستان کے موضوع پر بھی کوئی فلم بنتی ہے تو مسلمانوں کو باعث فساد اور غیر مسلموں کو ردالفساد قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اگر کبھی ہمارے ملک میں بھولے بھٹکے اسلامی یا قومی موضوع پر کوئی فلم بنا بھی دی جائے تو کم ترین بجٹ اور انتہائی بھونڈے انداز میں بنائی جاتی ہے کہ عوام اس فلم کو دیکھنے کی بجائے کسی ایسے سینما گھر کا رخ کر لیتے ہیں جہاں کسی غیر ملکی فلم کی نمائش جاری ہوتی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے تمام مسائل زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔دہشت گردی کے ناسور نے ہماری ثقافتی اور فنکارانہ سرگرمیوں سے لے کھیلوں کے میدان تک ہر دلکش منظر کو بری طرح متاثر کیا۔ہمارے پارک ویران ہو گئے اورکھیل کے میدان سنسان۔ ایک زمانہ تھا کہ سرکاری سکول کالجوں کے میدانوں میں قرب و جوار کے نوجوان شام ہوتے ہی ہاکیاں فٹ بال اور بیٹ لے کر پہنچ جاتے تھے، مغرب تک ایک نہایت مثبت سرگرمی جاری رہتی تھی۔محلے کی کرکٹ ، فٹ بال اور ہاکی ٹیموں کے آپس میں مقابلے ہوتے تھے، باسکٹ بال اور والی بال کا بھی نیا ٹیلنٹ سامنے آتا تھا لیکن اب ان سرکاری تعلیمی اداروں کے ارد گرد خاردار تاروں اور سیکیورٹی کیمروں کا ایسا جال ہے کہ ورکنگ ٹائمز میں داخل ہونے کے لیے بھی دس قسم کے چیک پوائینٹس سے گذرنا پڑتا ہے۔معلوم نہیں یہ کیسا سیکیورٹی تھریٹ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ہمیں اپنے سکول کالجوں کو خوف کی فضا میں لپٹے ہوئے فولادی قلعے بنانے کی بجائے ان راستوں کو بند کرنا چاہیے جہاں سے دہشت گرد ہمارے معاشریتی سسٹم میں داخل ہوتے ہیں، ان کارخانوں کو مسمار کرنا چاہیے جہاں دہشت گرد’ اسمبل‘ Assembleکیے جاتے ہیں۔خوف دیمک کی طرح ہوتا ہے، خوف کا علاج مزید خوف سے نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی آپ نے پلے گروپ، نرسری اور پریپ کلاس کے ان معصوم بچوںکی ذہنی کیفیت کے بارے میں سوچا ہے جن کی ہر صبح اپنے سکول کے گیٹ پر پہلی ملاقات بندوق اور بندوق بردار سے ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ کہ ایک زمانہ تھا کہ پرائیویٹ سکول اپنے تعارفی اشتہارات میں عمدہ ہینڈ رائیٹنگ،تحریر و تقریر کے فن،معلومات عامہ اور کھیلوں پر خصوصی توجہ کا دعوی کیا کرتے تھے مگر اب ہر اشتہار میں سب سے بنیادی خصوصیت سکول کے سیکیورٹی سسٹم کو دی جاتی ہے۔بالخصوص پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنے اشتہارات میں گیٹ پر کھڑے باوردی مسلح سیکیورٹی گارڈز اور سیکیورٹی کیمروں کا اس تواتر سے حوالہ دیتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے کہ یہ سکول ہے یا کوئی میدان جنگ۔ دہشت گردی کے واقعات امریکا اور برطانیہ میں بھی ہوتے ہیں، اب تک وہاں بھی بہت سے لوگ مارے جاچکے ہیں، بے شمار زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن انہوں نے بارود کی بو اور بندوق کے خوف کو خاردار تاروں اور قلعہ نما دیواروں کی صورت اپنے تعلیمی اداروں پر مسلط نہیں کیا۔ وہاں سکولوں پر سیکیورٹی گارڈوں کا پہرہ نہیں ہوتا۔ جگہ جگہ سیکیورٹی کیبن نہیں بنائے جاتے۔امریکا میں گورنمنٹ اکائونٹیبلٹی آفس نام کا ایک ادارہ ہے جسے عرف عام میں GAOکہا جاتا ہے۔ اس ادارے نے حال ہی میں ایک شماریاتی سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق سنہ2001سے سنہ2017تک سولہ برس کے عرصے میں امریکا میں ہونے والے 74%دہشت گرد حملوں میں مقامی امریکی باشندے ملوث تھے۔ اگرچہ امریکی میڈیا ان تمام دہشت گرد کارروائیوں کو مسلمان انتہا پسندوں سے مربوط کرتا رہا ہے لیکن اعدادوشمار کے مطابق ایسا بالکل بھی نہیں۔امریکا اور دیگر مغربی معاشروں میں عیسائی انتہا پسندوں کی موجودگی کے نہایت ٹھوس شواہد ملے ہیں لیکن اس سب کے باوجود دنیا بھر میں صرف مسلمانوں کو ہی اپنے بارے میں صفائی پیش کرنا پڑتی ہے کہ ’ میں مسلمان ہوں مگر میں دہشت گرد نہیں۔‘ آجکل گلگت بلتستان میں ایک نئے سرے سے غیر ملکی دہشت گردوں نے سر اٹھانا شروع کر رکھا ہے۔سوات کی طرح یہاں بھی تعلیمی اداروں کو نذر آتش کیا جارہا ہے، سرکاری اہلکاروں کو اندھی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عالمی میڈیا ان واقعات کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش میں مصروف ہے اور صورت حال کو سیکیورٹی فورسز کی ناکامی بنا کر پیش کیا جارہا ہے لیکن یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں حالات بگاڑنے کی ناکام کوشش میں مصروف لوگ کسی طور بھی مقامی لوگ نہیں، اکثر و بیشتر افغانستان سے آرہے ہیں تاہم مقامی سہولت کاروں کے تعاون کے بغیر یہ غیر ملکی دہشت گرد کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔اس صورت حال میں ہمارے میڈیا کی ذمے داری ہے کہ عوام کو نیشنل ایکشن پلان کی تفصیلات اور اس پلان کے حوالے سے ان کی ذمے داریوں سے آگاہ کرے۔یقینا ہماری سیکیورٹی فورسز بہت جلد اس صورت حال پر قابو پالیں گی لیکن فوج ہو یا پولیس، ایف سی ہو یا پھر انٹیلی جنس ادارے، عوامی تعاون اور ستائش کے بغیر کسی کے لیے بھی کامیابی آسان نہیں ہوتی، سوال یہ ہے کہ پولیس، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے جو لوگ ہمارے لیے اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں، کیا ہماری روزمرہ دعائوں میں ان کے درجات کی بلندی کی دعا بھی شامل ہوتی ہے؟؟؟؟؟؟ باقی نام اللہ کا!!!!