مقبول خبریں
موومنٹ فار دی رائٹس اوورسیز پاکستانیز کے زیر اہتمام ڈوئل نیشنل کو عزت دو بارے تقریب کا اہتمام
پاکستان مادر وطن ہے اسکی حفاظت ہمارا فرض اولین ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور
دورے پرحکومت پاکستان،حکومت آزاد کشمیر اور راجہ نجابت کی معاونت کے مشکور ہیں:کرس لیزے
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
یورپ میں مسئلہ کشمیر کو مزید تیزی سے اجاگر کیا جائے گا: تحریک حق خودارادیت
زمین پر دیوار چین
پکچرگیلری
Advertisement
خدا کے بندوں سے پیار کرنا ہی زندگی ہے!!!!!
آئیے آج آپ کو ایک ایسے شہر کی سیر کرائیں جہاں انسانوں کو مارنے کے نت نئے ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ ہے بھارت کا شہر چالیکرے(Challakere)۔ بنگلور سے کوئی دو سو کلومیٹر فاصلے پر واقع اس شہر کو ایک زمانے میں آئل سٹی اور سائنس سٹی بھی کہا جاتا تھا مگر آج سے کوئی چھ برس پہلے اس شہر میں اچانک سے بھارتی سائنسدانوں، دفاعی ماہرین اور نیو کلیر ایکسپرٹس کی آمد و رفت شروع ہوگئی، پھر فوجی گاڑیوں کا بھی آنا جانا شروع ہوگیا ٹرکوں پر اجنبی سا سامان بھی آنے لگااور پھر یوں ہوا کہ اس شہر کے کچھ داخلی راستوں کو خاردار تاریں لگا کر عام لوگوں کے لیے بند کردیا گیا۔شاید سمجھدار قومیں اپنی حساس عمارتوں اور دفاعی نوعیت کی تنصیبات کی اسی طرح حفاظت کرتی ہیں۔پھر یوں ہوا کہ عالمی اداروں کو اس شہر کے بارے تشویش شروع ہوگئی۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ماضی کا آئل سٹی اور سائنس سٹی اب نیوکلیر سٹی بن چکا ہے جہاں عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دن رات ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا عمل جاری ہے اور اس پر ہٹ دھرمی یہ کہ بین الاقوامی ادارے کبھی اس شہر کے معائنے کی خواہش ظاہر کریں تو انہیں ٹکا سا جواب دے دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کو ملکی وسائل پر بوجھ قرار دینے والے بھارت کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ایک بھرپور شہر کا قیام بہر حال کوئی معمولی واقعہ نہیں۔بھارتی صاحبان اختیار کا کہنا ہے کہ بھارت کو پاکستان اور چین کی ایٹمی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اس طرح کے اور بھی شہر بسانا ہوں گے۔کسی بھی ملک کواپنے مضبوط دفاع کے لیے اپنی فوج اور جنگی سازوسامان پر اپنی ہمت سے بھی بڑھ کر خرچ کرنا پڑتا ہے، نیوکلیر ہتھیاروں کی تیاری عہد جدید میں کوئی جرم نہیں لیکن یہ حقیقت بہر حال ایک جرم سے بھی بڑھ کر ہے کہ آج بھی ممبئی اور دیگر بڑے شہروں میں لاکھوں گھرانے، ندی نالوں کے کناروں پر، فلائی اوورز کے نیچے، کوڑے دانوں کی اوٹ میں ایسے’ گھروں ‘میں قیام پر مجبور ہیں جنہیں مغربی میڈیا Homes without Wallsکے نام سے پکارتا ہے۔ حال ہی میں غربت کے ستائے ہوئے ممالک کے بارے میں عالمی میڈیا پر ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بھارت کا نام نہایت نمایاں انداز میں جگمگاتا دکھائی دیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں اس وقت 200ملین سے زائد لوگ ایسے ہیں جن کے لیے کسی بھی قسم کی خوراک تک رسائی ممکن نہیں ہوتی، کہیں سے کچھ بچا کچھا مل جائے تو ٹھیک ورنہ رام رام۔ان 200ملین لوگوں میں 61ملین سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔یہ درست ہے کہ ہمارے پاکستان میں بھی وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں لیکن ہمارے ہاں اچھی بات یہ کہ ہمارے لوگوں میں دوسروں کی امداد بذریعہ خیرات زکوۃ اور صدقات کا جذبہ نہایت قوت کے ساتھ موجود ہے۔ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستانی قوم کا نامCharity یعنی صدقات و خیرات کی مد میں خرچ کرنے والی قوموں کی فہرست کے بالکل شروع میں آتا ہے۔ مارچ2018میں شائع ہونے والے Stanford Social Innovation Review کا کہنا ہے پاکستان اپنی GDPکا کم از کم ایک فیصد چیرٹی کے نام پر خرچ کرتا ہے جبکہ برطانیہ میں یہ شرح 1.3فی صد اور کینیڈا میں1.2 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اقتصادی خوشحالی برطانیہ اور کینیڈا سے کئی گنا کم ہے لیکن مدد خیرات اور صدقات کے حوالے سے پاکستان ان خوشحال ترین ممالک کے عین شانہ بشانہ ہے۔ تاہم امریکا بہادر کے لاڈلے Shining Indiaمیں چیرٹی کے نام پر خرچ کی جانے والی رقم پاکستانی قوم کی طرف سے خرچ کی جانے والی رقم کا بھی نصف ہوتی ہے۔یک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی ہر سال 2بلین ڈالر سے زیادہ رقم مصیبت زدہ لوگوں کی مدد پر صرف کرتے ہیں۔پاکستانی تو وہ قوم ہیں کہ اگر انہیں قائل کر لیا جائے اور اعتماد کے ساتھ احساس دلا دیا جائے تو کسی بھی قومی مقصد کے لیے پل بھر میں یک جان ہوجاتے ہیں، حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے شروع کی جانے والی ڈیمز بنانے کی مہم میں عوام نے جس بھرپور طریقے پر شمولیت کی وہ اس حوالے سے بہت بڑی مثال ہے۔ یہی وہ قوت احساس ہے جس نے ہمارے چیف آف دی آرمی سٹاف کی توجہ لاہور کی اس معذور بچی فجر کی طرف مبذول کرائی جس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی جس میں اسے بیساکھیوں کے سہارے چل کر ووٹ ڈالتے جاتا دکھایا گیا تھا۔ چیف آف دی آرمی سٹاف نے حوصلہ افزائی کی غرض سے فجر کو فوج میں ملازمت دے دی۔لیکن اس سب کے باوجود ایک چیز ہے جس سے ہمیں بحیثیت قوم بچنا ہوگا، محفوظ رہنے کی کوشش کرنا ہوگی، وہ چیز ہے بے یقینی میں چھپی ہوئی بدگمانی، وہی بدگمانی جس کا میں خود اپنے ہی معاشرے کے بارے میں چند روز قبل شکار ہوا۔ شاید یہ پچھلے ہفتے کی بات ہے، میں رات دس بجے کے لگ بھگ ڈائیوو بس ٹرمینل پر کچھ سامان پارسل کرانے کے لیے گیا، ابھی سامان کی پیکنگ اور بکنگ کے مراحل طے ہورہے تھے کہ اچانک کسی نے مجھے نہایت محبت اور عقیدت بھرے انداز میں سلام کیا۔’ سر میں امجد ہوں۔وزیر اعلیٰ تقریری مقابلوں میں آپ سے ملاقات ہوئی تھی، آپ وہاںمہمان خصوصی کے طور پر آئے تھے۔ میں نے انگریزی میں تقریر کی تھی‘ ،سلام کرنے والا اٹھارہ بیس برس کا نوجوان جلدی جلدی بڑی بے تابی کے ساتھ اپنا تعارف کروارہا تھا۔ مجھے یاد آگیا۔ چند ماہ قبل وزیر اعلیٰ تقریری مقابلوں کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مجھے مہمان اعزاز کے طور پر شریک ہونے کا موقعہ ملا تھا۔ میں ذاتی طور پر اس نوجوان کے انداز تقریر، تلفظ اور اعتماد سے اتنا متاثر ہوا تھا کہ میں نے اسے اپنی جیب سے بھی حوصلہ افزائی کے لیے کچھ انعام دیا تھا، اس نے اس مقابلے میں پوزیشن بھی حاصل کی تھی۔نیوی بلیو کوٹ، گرے پینٹ اور لال ٹائی میں سجے ہوئے اس نوجوان کو دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ کسی بہت پڑھے لکھے خوشحال گھر کا بچہ ہے۔’ تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو؟‘ میں نے امجد سے پوچھا۔ ’سر میں یہاں لوڈنگ کا کام کرتا ہوں‘ اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ جواب دیا’میری ڈیوٹی شام سات سے صبح تین بجے تک ہوتی ہے، گھر جاتے جاتے فجر کی آذان ہوجاتی ہے۔ کبھی کبھی اوور ٹائم بھی کر لیتا ہوں۔‘ یقین کیجیے یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میری سماعتوں سے امجد کی وہ تقریر ٹکرانے لگی جس میں وہ روسٹرم پر مکے مار مار کر سارے آڈیٹوریم کو اس بات پرقائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ We Can Defeat Fate With Struggle۔ میں دل ہی دل میں سوچنے لگا،کاش ہماری بھی کوئی فلاحی ریاست ہوتی جہاں پڑھنے لکھنے کے خواہشمند باصلاحیت بچوں کو اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بس اڈوں پر لوڈنگ کا کام نہ کرنا ہوپڑتا۔کاش کچھ ایسا ہوتا کہ ڈاکٹر کا نسخہ میڈیکل سٹور پر دکھا کر لاچار مریض یہ سوال نہ کرتا کہ ان دوائوں میں درد ختم کرنے والی دوا کون سی ہے اور کتنے کی ہے،کاش کوئی ایسا ہوتا جو ان بے بس اور لاچار بندوں پر بھی ایک نظر ڈال لیتا جو محض ایک وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں، جن کے گھروں میں وسائل نہ ہونے کے سبب بہنوں بیٹیوں کے سر سفید ہوجاتے ہیں اور جن کے بچوں کی معصوم زندگی دوسروں کی اترن سے تن ڈھانپنے میں بیت جاتی ہے۔میں نے امجد کے کندھے کو آہستہ سے تھپک کر کہا، بیٹا۔۔آگے پڑھنے کی خواہش میں کوئی رکاوٹ ہو تو مجھ سے مل لینا، مجھ سے جو ہوسکا، ضرور کروں گا۔ امجد دھیرے سے مسکرایا اور بولا،’ نہیں سر!!! بہت شکریہ۔۔۔میرا میڈیکل کالج میں داخلہ ہوگیا ہے،ہمارے گھر کے پاس جو مسجد ہے، اس کے امام صاحب نے میرے تعلیمی اخراجات کے لیے نمازی حضرات کے تعاون سے ایک مہم چلائی تو کچھ ہی دنوں میں اتنے پیسے جمع ہوگئے کہ اگلے چار برس مجھے اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے کہیں بھی ہاتھ نہیں پھیلانا پڑیں گے‘۔