مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
شریف فیملی کو فوری ریلیف نہ مل سکا، جولائی کے آخر تک سماعت ملتوی
اسلام آباد: نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فوری ریلیف نہیں ملا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب اور تفتیشی افسر کو طلب کرتے ہوئے سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سزا معطل کرنے کی درخواست پر دلائل میں کہا کہ استغاثہ نے لندن فلیٹس کی اصل مالیت جانے بغیر آمدن سے زائد اثاثہ قرار دیا۔ اس پر جسٹس گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا یہ تو آپ نے اپنی اپیل میں بھی لکھا ہے۔خواجہ حارث نے دلیل دی کہ نواز شریف کی ملکیت سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے، فیصلہ پڑھیں اس میں کہیں نواز شریف کی ملکیت کا ذکر نہیں ہو گا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کچھ ٹی وی انٹرویوز کا فیصلے میں حوالہ دیا گیا ہے۔دو رکنی بنچ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب پیش ہو کر قانونی نکات پر معاونت کریں۔ چاروں اپیلوں کی سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی گئی تاہم کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔یاد رہے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو 10 سال قید، ایک ارب 29 کروڑ روپے جرمانہ، مریم نواز کو سات سال قید، 32 کروڑ روپے جرمانہ، شریف فیملی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے کیس کے شریک ملزموں حسین اور حسن نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔