مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نوجوان حریت رہنماء برہان مظفر وانی کی شہادت کو 2 سال مکمل ہو گئے
سری نگر: کشمیری قوم کی جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونکنے والے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے اس نوجوان کی زندگی ناصرف درس حریت کا عملی نمونہ بنی ساتھ ہی درندہ صفت بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہادت کے بعد کشمیری قوم کو آزادی کی نئی راہوں پر گامزن کر گئی۔برہان مظفر وانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوانہ کے گاوں شریف آباد میں پیدا ہوئے، اکتوبر 2010 میں 15 سال کی عمر میں بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد آزادی کا آغاز کیا، سوشل میڈیا پر بھارتی پروپیگنڈا کے جواب کا جدید طریقہ اختیار کر کے جدوجہد آزادی کو نئی جدت دی جس کی وجہ سے وہ کشمیری قوم کے نئے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی 6 سال تک نیندیں اڑانے والے اس مجاہد آزادی کو 8 جولائی 2016 کو بمدورہ کو کر ناگ میں شہید کر دیا گیا۔22 سال کی عمر میں وطن کی آزادی کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والا برہان وانی کشمیر میں جاری تحریک کی نئی شمع روشن کر گیا، وانی کے جنازے پر شرو ع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ دو سال بعد بھی نہ تھما، ضلع کلگام میں قابض فوج کی فائرنگ سے 3 کشمیری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے آٹھ جولائی کو کشمیر کے کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے موقعے پر علیحدگی پسندوں نے ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے، تاہم حکام نے پوری وادی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔یاد رہے برہان وانی نے پلواما کے علاقے ترال میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے میں آنکھ کھولی، برہان کے والد مظفر احمد وانی ایک سرکاری سکول میں پرنسپل جبکہ والدہ میمونہ مظفر پوسٹ گریجوایٹ آف سائنس ہیں، برہان وانی خود بھی ایک ہونہار طالبعلم تھا جس نے صرف 15 سال کی عمر میں بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے، برہان وانی سماجی میڈیا پر کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک آئیڈل جبکہ قابض فوج کی آنکھ کا کانٹا بن چکا تھا، 21 سال کی عمر میں برہان وانی نے ایک ویڈیو میں کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کے خلاف مسلح جدوجہد کا حصہ بننے کی دعوت دی۔برہان وانی کی شہادت کے بعد گزشتہ دوسالوں میں ساڑھے چھ سو سے زائد کشمیریوں کو شہید، 24 ہزار سے زائد کو زخمی اور 19ہزار سے زائد کو جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔