مقبول خبریں
سیاسی ،سماجی کمیونٹی شخصیت بابو لالہ علی اصغر کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے میٹنگ کا انعقاد
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کا کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم کا آغاز ،10ستمبر کو پیش کی جائیگی
کافر کو جو مل جائے وہ کشمیر نہیں ہے!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر:بھارتی فورسز نے گاڑی مظاہرین پر چڑھا دی،ایک نوجوان شہید،ایک زخمی
سری نگر:بھارتی فوجی گاڑی نے سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد کے باہر 21 سالہ نوجوان قیصر احمد بٹ کو گاڑی تلے کچل کر شہید کر دیا۔ جس کے خلاف مقبوضہ کشمیر بھر میں ہڑتال جبکہ سری نگر میں کشیدگی پیدا ہو گئی ، غیر اعلانیہ کرفیو لگا دیا گیا ، انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں تاریخی و مرکزی جامع مسجدکے باہر لوگ نماز جمعہ کے بعدقابض بھارتی فورسز کی طرف سے مسجد کی بے حرمتی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے کہ اس دوران سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے تیز رفتار گاڑی مظاہرین پر چڑھا دی،جس کی زد میں آکر 2 نوجوان شدید زخمی ہوگئے ،جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں 21 سالہ قیصر احمد بٹ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ یونس احمد کی حالت تشویشناک ہے ۔فتح کدل کے رہنے والا 21 سالہ قیصر احمد بٹ یتیم اور دو بہنوں کا واحد سہارا تھا اور 4سال سے اپنی چچی کے ہاں ڈل گیٹ میں رہ رہا تھا ۔دونوں نوجوانوں کی تصاویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہو گئیں جس کے بعد علاقے میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے لوگوں کو شہید نوجوان کی نماز جنازہ میں شرکت اور احتجاجی مظاہروں سے روکنے کیلئے سرینگر میں کرفیو نافذ کر دیا جبکہ وسطی کشمیر کے 3 اضلاع سری نگر، بڈگام اور گاندربل میں موبائل انٹرنیٹ سروس بندکردی تاہم فتح کدل چوک اور بعد میں عید گاہ میں شہید نوجوان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے ۔ بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں نے جنازے کے شرکا کو منتشر کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے پیلٹ گن اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے ،حریت کانفرنس کی اپیل پر کاروباری مراکز بند کر دئیے گئے ۔ بھارت کے خلاف نعروں کی گونج میں شہید کو سپرد خاک کردیاگیاجبکہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو سری نگر میں گرفتار ، میر واعظ عمرفاروق کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا ،سید علی گیلانی پہلے ہی گھر پرنظر بند ہیں، ادھر نئی دہلی ایئر پورٹ پر جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کو گرفتار کر لیا گیا ۔کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ نے نوجوان کی شہادت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا رمضان سیز فائر کا مطلب نوجوانوں کو بندوقوں سے نہیں بلکہ گاڑیوں سے کچل کر ہلاک کرنا ہے ۔پہلے نوجوانوں کو جیپ کے آگے باندھا گیا اور اب انہیں جیپوں سے کچلا جارہا ہے ۔ادھربھارتی فوجیوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں خاص طور پر جنوبی اضلاع میں شہریوں کے بڑھتے ہوئے قتل ، مذہبی مقامات اور شہداکی قبروں کی بے حرمتی اور جبر وا ستبداد کی دیگر کارروائیوں کے خلاف گزشتہ روز مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ہڑتال کی کال سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ ہڑتال کا مقصد جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیریوں کی حالت زار کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا تھا۔