مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اولڈ مین کی لالٹین
مغربی ممالک میں عمر رسیدہ افراد کے لیے بنائے گئے اولڈ ہومز کو دیکھ کر ہمارے ہاں رحم کھانے کا رویہ بھی نہایت عجیب ہے۔ہم مغرب سے اپنا تقابلی موازنہ کرتے ہوئے ان اولڈ ہومز کو مغرب کے زوال کی ایک بہت مضبوط دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ہمارے دانشور اس معاشرے کے بوڑھے لوگوں کی بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بنانے کے لیے وہاں کے اولڈ ہومز کو کینوس کے طور پر استعمال کرتے ہیںمگر حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشرت کے تناظر میں اولڈ ہومز نہ تو کوئی مقام عبرت ہیں نہ ہی کسی حوالے سے باعث شرمندگی۔ وہاں کا سسٹم ہی کچھ ایسا ہے کہ عمومی طور پر ماں باپ اور بچوں کے درمیان توقعات کی رسی ویسی موٹی اور مضبوط نہیں ہوتی جیسی ہمارے معاشرے میں دکھائی دیتی ہے۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اب پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی گنتی کے چند اولڈ ہومز نظر آنے لگے ہیں لیکن یہ اولڈ ہومز اکثر و بیشتر اپنے مکینوں کے منتظر ہی رہتے ہیں، ہمارے ہاں ایسی بد نصیب اولادوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو ماں باپ کو بڑھاپے میں بوجھ سمجھ کر اولڈ ہومز میں داخل کرا دیں۔مگر مغربی ممالک میں معاملات کی صورت بالکل ہی مختلف ہے۔ وہاں والدین کو اپنے بچوں سے ایسی توقعات ہوتی ہی نہیں ہوتیں کہ وہ ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے۔وہاں ہر شخص اپنا کھاتا اپنا کماتا ہے، اور اگر ضعیف العمری کے باعث کسی میں کام کاج کی صلاحیت نہ رہے تو اسے پالنا ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔شاید توقعات کا نہ ہونا زندگی کو آسان بنا دیتا ہے۔ مغربی ممالک میں والدین ذہنی طور پر ابتدا ہی سے اس بات پر تیار ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے بڑھاپے کا زمانہ اولڈ ھومز میں ہی گذارنا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ وہاں کے سینئر سٹیزن اولڈ ہومز میں رہنے کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ وہاں انہیں علاج معالجے،تیمارداری اور خوراک کے ساتھ ساتھ تفریح اور گپ شپ کے بھی بھرپور مواقع ملتے ہیں۔ یہ بوڑھے لوگ اپنے ہم عمر ساتھیوں کی قربت میں خود کو بہت پرسکون محسوس کرتے ہیں، ان کی صحت بھی بہتر رہتی ہے اور انہیں تنہائی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔امریکا اور برطانیہ میں آپ کو ایسے ایسے عمر رسیدہ لوگ ملیں گے جو کروڑپتی ہونے کے باوجود اپنے بڑھاپے کا زمانہ ادلڈ ہومز میں گذارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔مغرب میں زندگی ویسے بھی اتنی تیز اور مصروف ہے کہ کسی شخص کے لیے ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ اپنے وقت کا کوئی ایک لمحہ بھی ضائع کر سکے۔ اگر صبح آٹھ بجے دفتر کا ٹائم ہے تو آٹھ بجے سے پہلے پہنچنا پڑتا ہے۔ وہاں ہماری طرح کا نظام نہیں ہے کہ بینک کا ورکنگ ٹائم نو بجے صبح ہے تو ملازمین ٹھیک نو بجے بنک پہنچ کر اپنے کمپیوٹر آن کرنا شروع کرتے ہیں۔ کئی بنکوں میں تو یہ رواج بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ نو بجے بنک پہنچنے کے بعد کئی ملازمین اگلے دس پندرہ منٹ تک خیر و برکت اور حفظ و امان کے لیے تلاوت کلام پاک میں مصروف رہتے ہیں اور اس دوران لین دین کے لیے آنے والے گاہک خاموشی سے انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یقینا یہ ایک بہت اچھا عمل ہے لیکن اگر یہ اچھا کام نو بجنے میں پندرہ منٹ پر کر لیا جائے تو آنے والے گاہکوں کو بے پناہ آسانی ہوگی۔مغربی معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا،وہاں لوگ مشین کے پرزوں کی طرح کام کرتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی ترقی کی رفتار ہم سے کہیں زیادہ تیز بھی ہے اور مستحکم بھی۔لیکن اس سبک رفتاری کا ایک نقصان بھی ہے کہ وہاں نئی نسل کے لوگوں کے پاس پرانی نسل کے لوگوں کے لیے وقت نہیں ہوتا۔اگر وہاں کے نوجوانوں کے پاس وقت کی فراوانی ہوتی تو وہاں کے اولڈ ہومز اس قدر آباد نہ ہوتے۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز ڈیویلوپمنٹ پروگرامUNDP کے ایک ذیلی ادارے نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں کل آبادی کے64فیصد سے بھی زیادہ وہ لوگ ہیں جو تیس برس سے کم ایج گروپ میں ہیں ، ان میں سے29فیصد کے لگ بھگ وہ ہیں جن کی عمریں پندرہ سے انتیس سال کے درمیان ہیں۔دنیا کے دیگر علاقوں میں نوجوانوں کی شرح کل آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی کا ایک بڑا فائدہ بھی ہے اور ایک بڑا نقصان بھی۔نقصان یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو ان کے جرائم کی طرف بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اور فائدہ یہ کہ اگر سمجھداری کے ساتھ ان نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرلیا جائے تو ہماری قوم دنوں میں ایک سپر پاور بن سکتی ہے۔ کبھی آپ نے سیاسی جماعتوں کے جلسوں پر غور کیا ،جس جلسے میں بھی ہجوم زیادہ ہوگا اس کی وجہ صرف اور صرف نوجوان ہوں گے۔کبھی کہیں کوئی حادثہ ہوجائے یا پھر کسی قدرتی آفت کا سامنا ہو، وہاں بھی ا مدادی سرگرمیوں میں نوجوان ہی آگے آگے دکھائی دیں گے۔ نوجوان دراصل جذبہ ہوتے ہیںاور بڑی عمر کے لوگ اپنی سوجھ بوجھ اور عقل مندی سے کسی ماہر مجسمہ ساز کی طرح ان جذبوں کو تراشنے کا کام کرتے ہیں۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ اگر ہمارے نوجوانوں کو یہ احساس دلا دیا جائے کہ ملک اور قوم کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے تو ترقی اور کامیابی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کا کبھی اختتام دیکھنے کو نہیں ملے گا۔پاکستانی نوجوان چاہے بلوچستان میں ہو یا پھر سندھ، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں، کشمیر میں ہو یا گلگت بلتستان میں، دنیا کی کوئی قوت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ آپ سب نے سنا ہوگا گذشتہ دنوں ایک جلسے میں مبینہ طور پرپاکستان کا جھنڈا لہرانے سے روکنے کی کوشش کی گئی، اگرچہ روکنے کا یہ عمل کسی فرد کا ذاتی جذباتی فعل نظر آتا تھا لیکن اس واقعے کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوابلکہ میں تو کہوں گا کہ وائرل کیا گیا، لوگوں میں خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ اب پاکستان میں پاکستان کا جھنڈا لہرانا مشکل ہو جائے گا، اسی طرح کا خوف کچھ برس قبل بلوچستان کے حوالے سے بھی پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن یہ ویڈیو کلپ دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ اس مجمع میں پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا خواہشمند بھی ایک نوجوان ہی تھا۔ پاکستانی نوجوان شعور بھی رکھتے ہیں اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی۔آج برطانیہ اور امریکا میں بہترین سرجنز اور بہترین ڈاکٹرز پاکستانی نوجوان ہی ہیں۔ کھیل کے میدان سے کمپیوٹر کی دنیا تک، پاکستانی نوجوان ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔پاکستانی نوجوانوں سے خوف ہی بنیادی سبب ہے جس کے باعث دہشت گرد اپنی اکثر کاروائیوں میں نوجوانوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں، چاہے وہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم ہوں یا پھر پولیس اور فوج کے ٹریننگ سکولز میں تربیت کے مراحل سے گذرنے والے نوجوان سپاہی ۔حال ہی میں بلوچستان کے ڈسٹرکٹ خاران میں جن چھ مزدوروں کے خون کی ہولی کھیلی گئی وہ بھی نوجوان ہی تھے۔پاکستان دشمنوں کے لیے ہمارے نوجوان ایک خطرہ ہیں اور ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ اور ہمارے کل کا تحفظ بھی، ہمیں اگر زندہ رہنا ہے تو اپنے اس اثاثے کی حفاظت کرنا ہوگی مگر یاد رہے کہ حفاظت قربانی بھی مانگتی ہے۔