مقبول خبریں
پکچرگیلری
Advertisement
کونسلر علی عدالت کو دوبارہ ڈپٹی لیڈر آف کونسل منتخب ہونے پر ساتھی کونسلرز کی مبارکباد
راچڈیل: راچڈیل کے دوبارہ ڈپٹی لیڈر آف کونسل منتخب ہونے پر کونسلر عدالت علی کو انکے ساتھی کونسلرز اور پارٹی ممبران نے پھولوں کے ہار پہنائے اور مبارکبادیں پیش کیں۔تصویر میں متحرک رہنما لیبر پارٹی صغیر احمد نے پھولوں کا ہار پہناتے ہوئے مبارک باد دی،اس کے علاؤہ کونسلر شکیل احمد،عامر ضیاء،خالد چوہدری،کونسلر پروفیسر افتخار احمد،کونسلر رانا فیصل،کونسلر سلطان علی،کونسلر پروفیسر وزیر شاہ،ڈپٹی مئیر کونسلر محمد زمان،کونسلر علی احمد،کونسلر ثمینہ ظہیر،کونسلر عاصم رشید و دیگر نے مبارک بادیں دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔منتخب ہونے والے ڈپٹی لیڈر آف کونسل عدالت علی نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں اپنے رب العزت کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے ایک بار پھر کامیابی سے ھمکنار کیا،میں اپنی پارٹی کے ورکرز و لیڈرز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے دن رات انتخابی مہم میں حصہ لیا ،گھر گھر جا کر میرے لیے ووٹ مانگے اور آج مجھے اس مقام پر لائے۔میں اپنے ساتھیوں اور ووٹرز کو کبھی مایوس نہیں کرونگا۔انشاءاللہ پہلے سے زیادہ عوام کی خدمت کرونگا۔یہی میری اولین ترجیح ھو گی۔دریں اثنا کونسلر عدالت علی نےدوسری بار ڈپٹی لیڈر آف راچڈیل کونسل کا حلف اٹھا لیا ۔ تقریب حلف برداری کے موقع پر مئیر راچڈیل مسٹر لان ڈوکورتھ نے نئے منتخب کونسلرز اور نئے عہدوں پر منتخب ممبران سے حلف لیا۔ کونسلر عدالت علی،کونسلر سلطان علی،کونسلر ثمینہ ظہیر،کونسلر عاصم رشید،کونسلر رانا فیصل نے حلف اٹھالیا ۔جبکہ ایک بار پھر اگلے چار سالوں کے لیے ڈپٹی لیڈر آف کونسل راچڈیل کونسلر عدالت علی منتخب ہو گئے ہیں۔ یہ اعزاز کسی پاکستانی و کشمیری نژاد برطانوی کو گریٹر مانچسٹر میں پہلی مرتبہ حاصل ہوا ہے۔جس سے راچڈیل میں بسنے والی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کمیونٹی کے سیاسی وسماجی و کاروباری شخصیات کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ جان کر بہت خوشی ہوتی ہے جب کوئی پاکستانی و کشمیری لیڈر کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتا ہے اور اس کے نام کیساتھ کشمیری و پاکستانی نثراد برطانوی شہری لکھا جاتا ھےچاہے وہ برطانیہ کے کسی بھی شہر میں رہتا ہو جب اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتا ہے تو ہمارے سر فخر سے بلند ہوتے ہیں اور دلی خوشی ہوتی ہےکہ ہم میں ایسے قابل لوگ موجود ہیں جو اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچے ہیں۔جن پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔ آج برطانیہ کے کسی بھی سرکاری ادارے میں چلے جائیں۔وہ فوج ھو،پولیس، ایمیگریشن ،عدلیہ،ڈیفنس، ہسپتال، سکیورٹی،پارلیمنٹ،یورپین پارلیمنٹ،ھاوس آف لارڈز و دیگر تمام اداروں میں پاکستانی و کشمیری برطانوی شہریوں کی نمائندگی موجود ہے۔جو اپنے فرائض پوری زمہ داری سے نبھا رہے ہیں۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر