مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کئی اعتبار سے منفرد ملک ہے جوصرف تعلیم کی وجہ سے قا ئم ہوا: معروف صحافی سہیل وڑایچ
لندن:یو کے اسلامک مشن برطانیہ اور غزالی ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام تعلیم کیلئے چندہ مہم کے سلسلے میں لندن میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا اور پاکستان کے معروف صحافی اور دانشور سہیل وڑایچ نے پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے انتہا ئیمعلوماتی گفتگو کی۔ جبکہ پنجابی کے معروف شاعر پروفیسر انور مسعود اور شاعری میں اردو اور پنجابی کے استعمال سے ایک نیا انداز متعارف کروانے والے ہر دلعزیز شاعر خالد مسعود نے اپنے کلام سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔سہیل وڑایچ نے کہا کہ پاکستان کئی اعتبار سے منفرد ملک ہے جوصرف تعلیم کی وجہ سے قا ئم ہو سکا۔ کیونکہ مصورِ پاکستان علامہ اقبال اور بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح دونوں تعلیم یافتہ تھے اور جو بالترتیب قیامِ پاکستان کی ضرورت اجاگر کرنے اور اسکے حصول کیلئے اپنی تعلیم کو بروئے کار لائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ہی وہ واحد طاقت ہے جس کی بنا پر پاکستان ایٹمی طاقت بنا اور پچپن اسلامی ممالک میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کے سیاسی نظام میں بیک وقت اسلام اور جدید جمہوریت شامل ہیں۔ یہ ہمارے ہاں تعلیم ہی کا کرشمہ ہے کہ علماےٓ دین جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور دیگر سیاسی کارکنان اور راہنما اسلام کو اپنا دین مانتے ہو ئےاس پر کاربند ہیں۔ پاکستان کی قیادت کے تعلیم یافتہ ہونے ہی کے سبب پاکستان اپنے مغربی ہمسایہ افغانستان میں ہونے والی سوویت مداخلت اور پھر ۲۰۰۱ میں امریکی قیادت میں ہونیوالی دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ جیسے سنگین حالات سے نکلا۔ یہ دوایسے واقعات تھے جو عالمی سیاست پر اثرانداز ہوےٓ، سوویت یونین تو تحلیل ہو کے رہ گیا تھا، لیکن پاکستان جس کے بارڈر پر یہ جنگیں لڑی گئیں، اس بحران سے بھی نکل آیا۔ بعض حلقے انڈونیشیا اور ملایشیا کی ترقی دیکھتے ہوےٓ پاکستان کو انکی نسبت ایک پسماندہ ملک کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے ان دو ممالک کو پاکستان کی طرح ہمساےٓ میں دشمن ممالک سے بھی نبردآزما نہیں ہونا پڑتا۔ جبکہ پاکستان کو اسکے معرضِ وجود میں آتے ہی بھارت سے دشمی ملی، لیکن پاکستان نے اپنے سے کیٓ گنا بڑے دشمن بھارت کا مقابلہ کیا اور ساتھ ساتھ اپنی ترقی کا سفر جاری رکھا۔ ہمارے سول اور ملٹری افسران، سفارتکار، سماجی راہنما سب کا تعلیم یافتہ ہونے ہی کی وجہ سے ایسا ممکن ہو سکا۔ وہ اہداف جو پاکستان کو حاصل کرنا ہیں اور جن چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلیےٓ اپنے نظامِ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ہر بچے کو جدید تعلیم تک رسایٓ دینا بہت ضروری ہو گیا ہے، کیوں کہ تعلیم ہی ہماری ترقی اور تحفظ کی ضامن ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی کاوش قابلِ تحسین ہے جس نے پاکستان کے دور دراز علاقوں تک تعلیم کی شمع روشن کی۔ پروگرام کے میزبان اور غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے ٹرسٹی عامر محمود نے بتایا کہ اس وقت انکے زیرِ انتظام سات سو سکول کام کر رہے ہیں جن میں بلا تخصیص مذہب اور معزوری ایک لاکھ کے لگ بھگ طلبا وطالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انکے سکولوں میں تعلیم پانے والے طلبا و طالبات انتہائی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے ایک کثیر تعداد یتیم بچوں پر مشتمل ہے۔ اس تقریب میں غزالی ٹرسٹ کا حدف دس سکولوں میں ایک ایک جدید تدریسی کمرے کی تعمیر کیلئے مالی معاونت اور زیرِ تعلیم بچوں کیلئے سپانسرز کی تلاش تھی، ایک کمرے کی لاگت پانچ ہزار پا ئونڈ، ایک معزور بچے کا ماہانہ خرچ بیالیس پاوٓنڈ ، اور ایک صحتمند بچے کا ماہانہ خرچہ بارہ پاونڈ بتایا گیا۔ مخیر حاضرین نے یہ اہداف بھی ماضی کی طرح پورے کیےٓ۔ جس سے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستانی قوم ہمدردی، فیاضی اور پہتر پاکستان دیکھنے کے جذبات سے سرشار ہے۔ پہی وہ جذبات ہیں جو قوموں کی ترقی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ غزالی ٹرسٹ اور یو کے اسلامک مشن کی نیک نامی اور انکے اپنے مشن کے ساتھ اخلاص کا یہ واضع ثبوت ہے کہ انکے اس مشن میں انہیں ملک کی مایہ ناز شخصیات کا تعاون حاصل ہے۔ حالیہ مہم میں انکے ساتھ سہیل وڑایچ، انور مسعو اور خالد مسعود شامل ہیں جو برطانیہ کے مختلف شہروں میں جاکے وہاں مقیم اپنے ہم وطنوں سے ملیں گے اور انہیں اس کاوش میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔ انور مسعود جو صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک استاد بھی ہیں ۔ انہوں نے سکول سے لیکر کالج تک کے طلبا کو پڑھایا۔ اب جب وہ تدریسی فرایض سے تو ریٹایر ہوچکے ہیں، لیکن وہ یو کے اسلامک مشن کے کام کو آگے بڑھانے کیلئے انکے ساتھ ہیں۔ وہ نا صرف ہر سال غزالی ٹرسٹ کے پروگرامز میں شامل ہوتے ہیں ، بلکہ انہوں نے تیس بچوں کا ماہانہ خرچہ بھی اٹھا رکھا ہے جو گزشتہ کیٓ سالوں سے جاری ہے۔ روشن پاکستان کیلیےٓ ہر کسی کو غزالی ٹرسٹ کی کاوش میں شامل ہو نے کی دعوت ہے۔ آپ کیسے اس فلاحی کام میں شامل ہو سکتے ہیں، معلومات کیلئےwww.ukim.org ، www.get.org.pkپر وزٹ کریں اور نونہالانِ پاکستان کو تعلیم کے نور سے منور کرنے میں مدد کریں۔رپورٹ اینڈ فوٹو:جہانزیب سیفی