مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں غیرقانونی طور پر مقیم خواتین کی بڑی تعداد جسنی استحصال کا شکار
لندن : ترقی یافتہ ممالک میں عام طور پر کسی بھی آئیڈیل صورتحال کیلئے برطانیہ کی مثال دی جاتی ہے، جی ہاں یہ وہی ملک ہے جہاں قتل کی سزا کم اور عورت سے جسنی استحصال کرنے والے کی سزا زیادہ ہے۔ لیکن یہ خصلت انسانی فطرت میں بری طرح سمائی ہوئی ہے اسی لئے سخت سزائوں کے باوجود برطانیہ میں بھی جس کا جہاں دائو لگے عورت کا جنسی استحصال کرنے سے نہیں چوکتا، کچھ کو تو سالوں بعد انصاف مل جاتا ہے لیکن کچھ کیس ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں مظلوم عورتوں کو عمر بھر انصاف نہیں مل پاتا۔اپنے وطن میں جنسی استحصال سے بھاگ کر برطانیہ میں پناہ ڈھونڈنے والی بہت سی خواتین یہاں بھی اس سماجی اور اخلاقی ناسور سے محفوظ نہیں ہیں۔ملک بدری کے خوف سے متاثرہ خواتین پولیس کو بھی ایسے واقعات کے بارے میں بتانے سے ڈرتی ہیں۔البتہ ہاروے وِنسٹن کے انکشافات کے بعد کم سے کم اتنا تو ہوا کہ اب یہ عورتیں آپس میں اپنے تجربات پر بات کرتی ہیں۔اس مضمون میں بیان کردہ واقعات سچے مگر متاثرہ خواتین کے نام فرضی ہیں۔گریس کی عمر 37 برس ہے۔ مگر ان کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی میں کبھی ان کی مرضی شامل نہیں رہی۔خود کو سمیٹے اور نظریں نیچے گاڑے انھوں نے بتایا: میں اکیلی نہیں ہوں۔ میری طرح اور بھی کئی عورتیں ہیں۔ان کے بقول وہ اور ان جیسی دوسری خواتین کا پرسان حال کوئی نہیں اس لیے انھیں جنسی استحصال کا سامنا بھی زیادہ کرنا پڑتا ہے۔گریس بیس سال پہلے جب مغربی افریقہ کے ایک ملک سے، جس کا نام لینا وہ مناسب نہیں سمجھتیں، برطانیہ آئیں تو ان کی عمر سترہ سال تھی۔ان کا خاندان نہایت غریب تھا۔ جب وہ پندرہ سال کی تھیں تو ان کی اور ان کی سترہ سالہ بہن کی شادی ایک ایسے شخص سے کر دی گئی جو عمر میں ان کے والد سے بھی بڑا تھا۔ وہ شہر میں اپنے شوہر کے بڑے سے گھر چلی گئیں جہاں ان کی پانچ بیویاں پہلے سے موجود تھیں۔زندگی میں پہلی بار وہ اگلے کھانے کی فِکر سے بیگانہ ہوگئیں۔مگر گریس کہتی ہیں: یہ کوئی اچھی زندگی نہیں تھی۔ میں نے بہت دکھ سہا۔ان کا شوہر ان پر جسمانی، زبانی اور جنسی تشدد کرتا تھا۔ اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے کے لیے انھیں توہم پرستانہ رسومات میں شرکت پر مجبور کرتا تھا۔دونوں بہنوں نے اس لیے زبان بند رکھی کہ کہیں ان کے گھروالوں کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ان کا شوہر سیاسی طور پر بہت طاقتور تھا۔دو برس تک مسلسل جبر کا شکار رہنے کے بعد انھوں نے اپنے ایک رشتے دار کو اس بارے میں بتایا تو اس نے انھیں برطانیہ بھجوانے کا وعدہ کیا اور چند روز کے بعد ان کے سفر کا انتظام کر دیا۔مذکورہ رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر کوئی انھیں لینے آئے گا اور ان کا خیال رکھے گا۔گریس کہتی ہیں: جب ہم ایئرپورٹ سے باہر آئے تو ہمارے نام کی تختی لیے ایک شخص نظر آیا۔ وہ بہت ہی زیادہ بیمار لگ رہا تھا۔دراصل وہ کیسنر کے آخری درجہ میں مبتلا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ انھیں ایک چرچ لے جائے گا جہاں مغربی افریقہ سے آنے والے دوسرے پناہ گزین بھی موجود ہیں، کیونکہ قریب المرگ ہونے کی وجہ سے وہ ان کا خیال نہیں رکھ سکتا۔تین ہفتے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔دونوں بہنوں کے پاس برطانیہ میں کام کرنے کا اجازت نامہ نہیں تھا۔ اس لیے دونوں بہنوں کو مختلف گھروں میں پناہ لینا پڑی جہاں وہ بچوں کی دیکھ بھال اور کام کاج میں ہاتھ بٹاتیں۔گریس جس گھر میں گئی وہاں انھیں کھانا تو مل جاتا تھا مگر سونے کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا تاکہ تمام گھر والے اپنے اپنے سونے کے کمروں میں چلے جائیں تو وہ بیٹھک میں صوفے پر لیٹ کر اپنی نیند پوری کر سکے۔گریس کہتی ہیں: کچھ روز بعد گھر کے بڑے نے نیچے آکر مجھ سے جنسی لذت حاصل کرنا شروع کر دی۔ اسے معلوم تھا کہ میں قلاش ہوں اور میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی قانون کے بارے میں جانتی ہوں۔ میں اس ڈر سے پولیس کے پاس نہیں جا سکتی تھی کہ مجھے پکڑ کر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ میں اس کے رحم و کرم پر تھی۔ وہ کہا کرتا تھا، تم کسے جا کر بتاؤ گی۔میں اس کی بیوی سے بھی شکایت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ میری بات نہیں مانے کی اور مجھے گھر سے نکال دے گی۔ ایسے میں، میں کر بھی کیا سکتی تھی؟ کچھ بھی تو نہیں!گریس کو معلوم ہوا کہ ان کی بہن کی صورتحال بھی مختلف نہیں تھی۔کچھ عرصے کے بعد گریس کے میزبان کو ان کی ضرورت نہ رہی کیونکہ اب بچے بڑے ہو چکے تھے۔گریس کو پھر اسی چرچ کا رخ کرنا پڑا جہاں کچھ خدا ترس لوگ کھانا فراہم کر دیتے تھے۔ کبھی پارک کی بینچوں پر رات گزاری تو کبھی رات کو چلنے والی بسوں میں صبح ہوئی۔کبھی کچھ عرصے کے لیے کسی گھر کی چھت میسر آئی۔ مگر کسی مستقل جائے پناہ کا بندوبست نہ ہو سکا۔(رپورٹ: مونا بیگ)