مقبول خبریں
یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیئرنگ کا فیصلہ
بیسٹ وے گروپ کے سربراہ سرانور پرویز کی جانب سے کمیونٹی رہنمائوں کے اعزاز میں استقبالیہ
نبوت بھی اﷲ کی عطا ہے اور صحابیت بھی، نبوت بھی ختم ہے اور صحابیت بھی: ڈاکٹر خالد محمود
ملک دشمن عناصر دہشتگردی کے ذریعے پاکستان میں الیکشن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں:عمران خان
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا ،احتجاج،جھڑپیں
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
مسئلہ کشمیر پرقوم کا نکتہ نظر اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پکچرگیلری
Advertisement
آسٹریلیا کی قنطاس ایئرلائن نے آسٹریلیا سے برطانیہ کیلئے ڈائریکٹ پرواز کا آغاز کر دیا
لندن:آسٹریلیا کی قنطاس ایئرلائن نے سنیچر کو آسٹریلیا سے برطانیہ کے لیے اپنی پہلی براہ راست پرواز کا آغاز کر دیا ہے۔یہ پرواز بغیر کہیں رکے 9 ہزار میل کا سفر 17 گھنٹوں میں طے کر کے لندن پہنچی۔ایک صدی سے کم عرصے میں آسٹریلیا سے برطانیہ کا سفر جو سمندر کے راستے کبھی نو دنوں کا ہوا کرتا تھا اب صرف 17 گھنٹوں کی ایک پرواز میں سمٹ گیا ہے۔یہ پرواز 24 مارچ کو پرتھ کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بج کر 45 منٹ پر روانہ ہوئی ہے اور بغیر کہیں رکے 17 گھنٹوں کا سفر طے کر کے لندن کے مقامی وقت کے مطابق اتوار کو صبح سویرے 5 بجے لندن پہنچی۔جب آسٹریلیا سے لندن تک کا یہ روٹ 1935 میں شروع کیا گیا تھا تو اسے ’کینگرو روٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔اس سفر میں طیارہ دس اہم مقامات پر رکا کرتا تھا جس میں روم، طرابلس، قاہرہ، بغداد، کراچی، کلکتہ، سنگاپور، بتاویا، ڈارون اور پھر سڈنی شامل تھے۔اس سفر میں ابتدا میں 21 مقامات پر طیارہ رُک کر ایندھن بھی بھرا کرتا تھا۔قنطاس ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ جب 1947 میں قنطاس نے لندن تک کا یہ کینگرو روٹ شروع کیا تھا تو اس وقت اسے منزل تک پہنچنے میں چار دن لگتے تھے جس دوران اسے نو جگہوں پر رکنا پڑتا تھا۔اس فلائٹ کے لیے بوئنگ کا ڈریم لائنر 787-9 استعمال کیا جا رہا ہے جو ایندھن کے معاملے میں بوئنگ 747 کے مقابلے میں دو گنا باکفایت ہے۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ دنیا کی دوسری طویل ترین پرواز تھی اور فی الحال دنیا کی سب سے طویل ترین پرواز کا اعزاز قطر ایئرویز کے پاس ہے جو دوحہ سے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کا 14 ہزار 529 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔اس کے علاوہ ایمریٹس اور یونائیٹڈ ایئرلائنز بھی بغیر رکے 14 ہزار کلومیٹرسے زیادہ کا سفر طے کر چکی ہیں۔سنگاپور ایئرلائن بھی بغیر کہیں رکے سب سے طویل فلائٹ کا اپنا اعزاز واپس حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔سنگاپور ایئرلائنز سنگاپور سے نیویارک کا 15 ہزار 300 کلومیٹر کا سفر طے کرتی تھی لیکن اس نے 2013 میں یہ سفر روک دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے لیے چار انجن والا جہاز ناکافی تھا۔وہ اس سفر کے لیے ایئربس A340-500s استعمال کرتی تھی۔ایئر بس کے طیارے اے 350 کے تازہ ترین ماڈل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بغیر کہیں رکے 17 ہزار 960 کلومیٹر کا سفر طے کر سکے گا۔ اگر ایسا ہوا تو سڈنی سے لندن تک کا طویل سفر بھی بغیر کہیں رکے ممکن ہو سکے گا۔(رپورٹ: راجہ عمران ظہور)