مقبول خبریں
کشمیر میں مظالم کیخلاف اقدامات نہ اٹھائے تو تباہی کی ذمہ داری بین الاقوامی کمیونٹی پر ہو گی:نعیم الحق
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
جموں کشمیرتحریک حق خود ارادیت کاسردارمسعود کے دورہ برطانیہ و یورپ کےموقع پرتقریبات کااہتمام
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد: احتساب عدالت میں لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت ہوئی، واجد ضیاء کی جانب سے مختلف دستاویزات پیش کر دی گئیں۔ نواز شریف کی دائر متفرق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق آف شور کمپنیوں کی دستاویزات اور امارات سفارتخانے کا جواب بھی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔مریم نواز کے وکیل نے واجد ضیاء کی دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دستاویزات تو عربی میں ہیں، شاید واجد ضیاء کو عربی سمجھ آئے، انھوں نے عربی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ جے آئی ٹی کے خطوط کے جواب میں برطانوی ایم ایل اے کا جوابی خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ امجد پرویز نے کہا کہ انھیں وہ خط نہیں دیے گئے جن کے جواب میں یہ خط آئے۔ کیسے پتہ لگے گا یہ کون سے خط کا جواب ہے۔مریم نواز کے وکیل نے کہا ہے کہ ریفرنس تین میں ملزمان کو دی جانے والی کاپی میں صفحہ 235، 243 اور والیم تین کے اضافی آٹھ صفحات کیوں غائب ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بائنڈنگ کے وقت کچھ صفحات رہ گئے ہوں گے، اضافی آٹھ صفحات فراہم کر دیں گے۔ مریم نواز کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خط کے بغیر صرف جواب کیسے ریکارڈ کا حصہ بن سکتا ہے؟ نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ بھیجے جانے والے خطوط والیم 10 میں ہیں۔واجد ضیاء نے نیلسن، نیسکال اور کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈ کی فرانزک رپورٹ جبکہ کیپیٹل ایف زیڈ ای میں نواز شریف کی ملازمت سے متعلق اقامہ بھی احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ کیس کی مزید سماعت 22 مارچ کو ہو گی۔