مقبول خبریں
24 اکتوبر کو 8 لاکھ سے زائد کشمیری نژاد برطانوی شہری یوم تاسیس آزاد کشمیر بھرپور طریقے سے منائینگے
بکھری یادیں اور باتیں کے مصنف ہمارے اپنے بیرسٹر صبغت اللہ قادری کی کتاب کی تقریب رونمائی
دورے پرحکومت پاکستان،حکومت آزاد کشمیر اور راجہ نجابت کی معاونت کے مشکور ہیں:کرس لیزے
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
یورپ میں مسئلہ کشمیر کو مزید تیزی سے اجاگر کیا جائے گا: تحریک حق خودارادیت
زمین پر دیوار چین
پکچرگیلری
Advertisement
ٹروجن ہارس کیس:برطانوی اخبارات نے نسیم اشرف اور انکی اہلیہ سے معافی مانگ لی
لندن:"ٹروجن ہارس" کیس میں برطانوی اخبارات کے پاکستانی نژاد برٹش سابق گورنر ایجوکیشن نسیم اشرف اور انکی اھلیہ حفیظاں زمان سے معافی سابق گورنر ایجوکیشن فیلڈکلارک پرائمری سکول اولڈھم نسیم اشرف 2009ء سے لیکر 2013ء تک فیلڈ کلارک پرائمری سکول کے گورنر ایجوکیشن کے عہدہ پر فائز رہے۔2013ء میں ہی گورنر شپ کے عہدے سے مستعفیٰ ھو گئےانھوں نے بتایا کہ جب میں اس عہدہ پر فائز ھو کر کام کرنا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ سکول میں تعلیمی معیار بہت ناقص ھے۔جس پر میں سکول ٹیچرز اور ہیڈ ٹیچر سے میٹنگز میں دو مضامین ( حساب اور انگلش) پر زیادہ توجہ دینے کے لیے کہتا۔کیونکہ ان دو مضامین میں معیار نہایت ناقص تھا جبکہ ڈانس اور میوزک کے مضامین کو ترجیع دی جاتی اس پر سکول کی ٹیچرPatricia O Donnell اتفاق نہ کرتی۔اسی سکول میں میرے بچے بھی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور میری بیوی حفیظاں زماں بھی آتی رہتی تھیں۔میری اولین ترجیح یہ دونوں مضامین تھے جو نہایت ضروری تھے۔باقی مضامین بھی ضروری اور تعلیم کا حصہ تھے ۔جب میری اس کوشش اور ایڈوائز کو سکول ہیڈ ٹیچر نے مسلسل ماننے اور اس پر عمل نہ کیا تو میں نے 2013ء میں اس عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔میرے بعد اس عہدے پر نئی ایجوکیشن گورنر پاکستانی نژاد برٹش مس صائمہ براجمان ہوئیں۔تو انھوں نے بھی ان دو مضامین میں معیاری اور بنیادی کمزوریوں سے سکول اساتذہ کو آگاہ کیا۔ خصوصاً ہیڈ ٹیچر پٹریسیہ دونل کے نوٹس میں یہ بات لائی کہ اگر ان مضامین پر توجہ نہ دی گئی تو سکول کا تعلیمی معیار مزید گر جانے کے خدشات ھیں۔میرے استعفیٰ دے جانے کے بعد سکول ہیڈ ٹیچر پٹریسیہ دونل نے میرے اور میری اہلیہ کے خلاف اولڈھم کونسل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ان شکایات اور الزامات کے ساتھ تحریری طور پر لیٹر میں لکھ دیا کہ سابق گورنر ایجوکیشن اور اسکی اہلیہ فیلڈکلارک پرائمری سکول اولڈھم اپنے اس عہدے کی عار میں سکول ٹیچرز اور سکول کی بچیوں کو اسلامی نقاب و حجاب کرنے کو کہتے ھیں یہ دونوں اس سکول کو اسلامی سکول بنانا چاہتے ھیں لہذا ان کی تفتیش کی جائے۔ نومبر 2016ء کو اولڈھم کونسل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے سکول ہیڈ ٹیچر کے اس شکایات و الزامات بھرے لیٹر کے جواب میں تمام تر جانچ پڑتال کے بعد تفصیلا اپنے جواب میں لکھا۔کہ مسٹر نسیم اشرف اور مسز حفیظاں زماں پر لگائے گئے تمام الزامات بےبنیاد ہیں۔کیونکہ نسیم اشرف اور انکی اھلیہ حفیظاں زمان پڑھے لکھے ھونے کے ساتھ ساتھ تمام کمیونیٹیز کو مثبت اور ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔لہذا ھم ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو رد کرتے ہیں۔سکول ہیڈ ٹیچر نے اپنے الزامات و شکایات سے لبریز اسی لیٹر کو برطانوی سنئیر صحافیAndrew Gilligan کو پوسٹ کر کے فون پر اطلاع دے دی کہ اس خط کو اخبارات میں شائع کیا جائے۔ جس پر سنئیر صحافی نے بغیر جانچ پڑتال کیے اس خط کو 19 فروری 2017ء برطانوی چھ اخبارات کی ھیڈ لائنز پر مسٹر نسیم اشرف اور انکی اھلیہ حفیظاں زمان کو تصاویر کے ساتھ شائع کر دیا۔اور تمام ٹی وی چینلز پر بھی خبر چلائی گئی ۔جس پر سابق گورنر ایجوکیشن مسٹر نسیم اشرف اور انکی اھلیہ حفیظاں زمان کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔اور انھوں نے 20 فروری2017ء کو پریس کانفرنس کے ذریعے اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کو کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔لندن کی مشہور رحمان لاءفرم کی خدمات حاصل کر کے کورٹ میں ان تمام اخبارات کے خلاف مقدمہ درج کروا کر انکو عدالتی نوٹس جاری کروا دیے۔ابھی ایک سال ھونے میں ایک دن باقی تھا کہ ان چھ اخبارات میں سے دو اخبارات نے اپنی اخباروں میں باقاعدہ تحریری طور پر سابق گورنر ایجوکیشن مسٹر نسیم اشرف اور انکی اھلیہ حفیظاں زماں سے معافی بھی مانگی ھے اور آج تک لیگل ایڈوائزری پر تمام اخراجات ادا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔جن دو اخبارات نے معافی مانگی ھے انکے نامSun اورTelegraph ھیں۔ مسٹر نسیم اشرف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کامیابی پر اپنے رب کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں ان جھوٹے الزامات میں سرخرو کیا ھم لائرز فرم کے ان تمام کمیونیٹیز افراد کے بھی بے حد مشکور ہیں جنھوں نے ھمیں حوصلہ اور ھمت دی اور جھوٹے الزامات کے کیس کو دفاع کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آخر میں انھوں نے تمام کمیونیٹیز کو یہ پیغام دیا ہے کہ اپنے خلاف جھوٹے مقدمات کا ضرور دفاع کرنا چاھیے۔یہاں کی عدالتیں اس ملک میں بسنے والے ہر شخص کو انصاف فراہم کرتی ہیں۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر