مقبول خبریں
اولڈہم کونسل کےشعبہ جات میں کام کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز تقریب
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
مدینہ مسجد یو کے اسلامک مشن میں سیرتِ سرورِ کائنات ؐ کا انعقاد ،مہمانان گرامی کا والہانہ استقبال
تم آگ کا دریا ،میں سمندر کی ہوا ہوں!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کپتان عمران خان کے نام
عمران خان آپ نے نے ۱۹۹۲ سے لیکر ۲۰۱۱ تک اپنی پارٹی، پاکستان تحریکِ انصاف بنانے کیلیے دن رات ایک کیا، ذلتیں برداشت کیں، حکمران جماعتوں سے ٹکر لی، فوج کا چہیتا، طالبان خان اور یہودی لابی کا مہرہ ہونے کے طعنے سنے۔ کیا روشن خیال کیا قدامت پسند، جاگیردار اور سرمایہ دار المختصر ہر طبقہ کی مخالفت اور الزامات برداشت کیے لیکن آپ مسلسل پی ٹی آیٓ کی آبیاری میں لگے رہے۔ لوگوں کو ایسے ایسے سنہرے اور دلکش خواب دکھاےٓ کہ آپکی مقبولیت میں روز بروا اضافہ ہوتا گیا۔ ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۱کو لاہور میں بڑا جلسہ کیا جس سے سٹیٹسکو کی دیواریں لرزنے لگ گیٓ تھیں۔ انہی لرزتی دیواروں پر بیٹھے کچھ پنچھی اڈاری مار کر آپکی کپتانی میں آنا شروع ہو گیے۔ ایک ماہ کے اندر اندر شاہ محمود قریشی اپنی گدی سمیت، پھر اس سے ایک ماہ بعد مخدوم باغی اپنی بغاوت سمیت اس پارٹی کا حصہ بنے۔ ان ہستیوں کی آمد سے پارٹی لیڈرو لیڈر ہونا شروع ہوگی۔ جلسوں میں سٹیج پر جگہ کم پڑنا شروع ہوگیٓ اور آپکی کی نظر سے وہ لوگ اوجھل ہونا شروع ہوگیےٓ جو پارٹی کے ابتدایٓ زمانہ میں آپکے ساتھ تھے۔ پھر جہانگیرترین اپنے طیارے سمیت آےٓ جس نے پارٹی کو اپنے طیارے میں اڑا کر رکھ دیا۔ انٹرا پارٹی الیکشن میں پارٹی کے قواعدو ضوابط ، جو اس پارٹی کی ایک حسین ترین روایت تھی، جہانگیر ترین کی نذر ہوگی نتیجتاً جسٹس وجیہ کو پارٹی چھوڑ کے جانا پڑ گیا۔ کپتان جی آپکی پارٹی مقبولیت کی منازل طے کرتے کرتے عوام میں جڑیں پکڑتی گیٓ اور ایک تناور درخت بن گی پھر یکا یک آپ کا اعتماد عوام سے اٹھ کر عزت مآب الیکٹ ایبلز کی جانب منتقل ہونا شروع ہوگیا۔ آپ بھول گیےٓ کہ آپکی جماعت کے تاریخی جلسہٓ لاہور تک اس میں کوی نام نہاد الیکٹ ایبل نہیں تھا، نہ گدی تھی نہ مخدومیت اور نہ انکی بغاوت کا کوی نام و نشان اور نہ ہی ملک کا کویٓ امیر ترین شخص ۔ عوام نے تو آپ پر اعتماد کیا تھا کہ آپ واقعی پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیں گے جس کے لوگوں کو روزگار کیلیے پردیس نہیں جانا پڑیگا بلکہ غیر ملکی تلاشِ معاش میں پاکستان آیا کریں گے ۔ پاکستانیوں کو آپ نے یقین دلایا تھا کہ وہ بہت ذہین قوم ہیں۔ پاکستان کے بارے آپ نے انکشاف کیا تھا کہ یہاں بہت سے خزانے مدفون ہیں، یہاں کے موسم، لینڈ سکیپ، محلِ وقوع ایسا ہے کہ اگر آپ جیسی قیادت اسے میسر آ جاےٓ تو یہ ملک دنیا کا عظیم ترین ملک بن جاے گا۔ آپ نے پاکستان کی زبوں حالی کی وجوہات بتاتے ہوے فرمایا تھا کہ بدعنوان حکمرانوں اور جمہوریت میں موروثیت کی وجہ سے پاکستانی قوم غربت، لاقانونیت، بیروزگاری اور جملہ آفات و بلیات کی زد میں ہے۔ لوگوں نے آپ پر یقین کر لیا تھا، آپکے اشاروں پر ناچنا شروع کردیا تھا اور آپکا ہر جلسہ بھی ہاوٓس فل رہا، لوگوں نے آپکی اس بات پر بھی یقین کیا کہ آپ اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں، لیکن خان صاحب اب پتہ چلا کہ آپ کے نزدیک سب کچھ وہ الیکٹ ایبلز ہی ہیں جنہوں نے جماعت جماعت کا پانی پی رکھا ہے۔ آپ کو یہ بھی کہتے سنا ہوےٓ پایا گیا ہے کہ وہ لیڈر ہی کیا، جو اپنے ارد گرد موجود لوگوں کی باتوں میں آکر صحیح فیصلہ نہ کر سکے؟ تو کیا آپ کسی کی باتوں میں نہیں آے ہوے؟ آپ بھول گے خان صاحب کہ وہ الیکٹ ایبلز آپکی مقبولیت دیکھ کر پارٹی میں شامل ہوےٓ تھے، انہیں آپکی ضرورت ہے، لیکن وہ سب آپکو یہ قایل کرنے میں کامیاب ہوگیے کہ آپ انکے بغیر کچھ نہیں۔ خان صاحب آپ اور عوام کے درمیان جو لیڈری پیشہ افراد حایل ہو رہے ہیں انکو پہچانو ورنہ پارٹی کی پے در پے ناکامیوں کے ذمے دار صرف اور صرف آپ ہونگے وہ نہیں۔