مقبول خبریں
مانچسٹر ایرینا میں خود کش حملہ میں جاں بحق ہونیوالوں کی یا دمیں دعائیہ تقریب منعقد کی جائیگی
اسلامک ریلیف رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکرمشن کی جانب گامزن ہے:مقررین
مسجد دارالمنور گمکول شریف راچڈیل میں شب برات پر روحانی محفل کا انعقاد
بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری پرفائرنگ، خاتون اور 3 بچے شہید،10 زخمی
نئی دہلی: انتہا پسندوں نے کشمیری خواتین پر لاٹھیاں اور ڈنڈے برسا دیئے
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
قائد تحریک امان اللہ خان کی دوسری برسی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کا خراج عقیدت
اولڈ مین کی لالٹین
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر : مزید 3نوجوان شہید ،ریاستی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے
سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں مزید 3نوجوان کو شہید کر دیا گیا ،ریاستی اسمبلی میں ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے ،شوپیاں میں چوتھے روز بھی ہڑتال سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ تفصیلات کے مطابق سرینگر کے علاقے کیرن نگر میں دو روز سے جاری جھڑپوں کے دوران دو نوجوان شہید ہو گئے ، ضلع بڈگام میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے کارکن محمد یوسف ندیم کو گولی مار کر شہید کردیا گیا جبکہ بھارتی پولیس کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف شوپیاں میں چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال جاری رہی،کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیری نوجوانوں کو مظاہروں سے روکنے کیلئے متعد د علاقوں میں سخت پابندیاں عائد کر رکھی ۔گزشتہ روز دکانیں، کاروباری مراکز بند رہے ، سڑکوں پر ٹریفک معطل، پلوامہ اور شوپیاں کے اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی ۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ۔ پاکستا ن کے حق میں نعرے بازی کے معاملہ پراسمبلی کے اندر اور باہر سیاسی گرما گرمی جاری رہی ۔مقبوضہ اسمبلی میں بی جے پی اور نیشنل کانفرنس کے ارکان میں جھڑپ ہوئی ۔ بی جے پی ارکان نے ممبر اسمبلی سونہ واری محمد اکبر لون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ دوسری طرف نیشنل کانفرنس نے کہا کہ انہیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ۔ نیشنل کانفرنسکے علی محمد ساگر، میاں الطاف ، محمد شفیع اوڑی اور الطاف کلو نے محمد اکبر لون کے دفاع میں سپیکر سے کہا کہ ایوان کے ہرممبر نے آئین اور ملک کی سالمیت اور وقار کی سربلندی کا حلف لیا ہے اور اس میں کوئی دورائے نہیں ۔علی محمد ساگر نے کہا سپیکر نے بھی ایسے الفاظ کہے جبکہ مرکز میں آپ کے کچھ دوسرے رہنما بھی ایسے ہی بیان دیتے ہیں جس سے مسلمانوں کے جذبات مجرو ح ہوتے ہیں ان کو کیوں کسی نے کچھ نہیں کہا ۔ انہو ں نے کہا کہ معاملات ایسے ہی رہے تو پھر بھی نعرے لگتے رہیں گے ۔