مقبول خبریں
برطانوی معاشرے میں رہتے ہوئے تمام تہوار میں حصہ لینا چاہئے: افضل خان
سپینش شہریت کے حامل سائنسدانوں کی قدرتی آفات پر ریسرچ
پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل سوکا فیڈریشن کا قیام، ٹرنک والا فیملی کو خراج تحسین
چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان تیسری بار دلہا بن گئے، بشریٰ بی بی سے نکاح ہو گیا
بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، تعلیمی ادارے بند
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
اوورسیز پاکستانیز ویلفیر کونسل کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر پر کار ریلی کا انعقاد
راجہ نجابت اور ان کی ٹیم کامسئلہ کشمیرپر متحرک کردار قابل ستائش ہے: سٹوورٹ اینڈریو
کیا یورپ ٹوٹ رہا ہے ؟
پکچرگیلری
Advertisement
مسلم ایڈ کے رضا کاروں کی غربا کیلئے چلائی جانے والی مہم’’ محبت کو بانٹو ‘‘ کامیابی سے جاری
لندن : شیئر دی لو(محبت کو بانٹو)کے عنوان سے چلائی جانے والی مسلم ایڈ کی موسم سرما کی مہم کے تحت تنظیم کے رضاکار ہفتے اور اتوار کو بے گھر ضرورت مندوں میں ضروری سامان کے تھیلے تقسیم کریں گے۔ ہر تھیلے میں سونے کا بیگ، ہیٹ، دستانے، جرابیں، زیرجامے، خشک خوراک اور پلاسٹک کٹلری شامل ہو گی۔ مسلم ایڈ عملہ کے ہمراہ کام کرنے والے ان رضاکاروں میں زیادہ تر یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے طلبہ اور ایسٹ لندن کے مقامی سکولوں کے بچے شامل ہوں گے جنہوں نے دسمبر کے مہینے میں تقسیم کرنے کے لئے 600 تھیلے تیار کرنے میں مدد دی تھی۔ مسلم ایڈ کے والنٹیئرز آفیسر زکریا حسین کے مطابق مسلم ایڈ کے عملہ اور رضاکاروں نے پورے موسم سرما کے دوران لندن کے مختلف علاقوں میں عمررسیدہ اور بے گھر افراد کے لئے انتہائی ضرورت کی اشیاء فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بے گھر افراد سامان لے کر بہت خوش ہوئے اور ہمارے رضاکار بھی ان کے ساتھ باتیں کر کے خوش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ہفتے جبکہ درجہ حرارت ایک بار پھر کم ہو گیا ہے اور کمزور افراد کو بہت مشکل پیش آ رہی ہے تو ہمارے رضاکار ایک بار پھر ایسٹ لندن کا رخ کریں گے۔ کل 600 میں سے باقی بچ جانے والے 60 تھیلے ہفتے اور اتوار کو لیورپول سٹریٹ ٹرین سٹیشن اور سٹریٹ فورڈ، والتھم سٹو اور وائٹ چیپل میں تقسیم کئے جائیں گے۔ دیگر تھیلے سٹریٹ لائٹس اور سینٹ مونگو کے علاوہ بے گھر اور ضرورت مند افراد کے لئے کام کرنے والی تنظیموں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ یہ تھیلا حاصل کرنے والے متوقع افراد میں ایک ستائیس سالہ شخص بھی شامل ہے جو ان دنوں ٹاور ہیملٹس میں ایک پرانی کار میں رہ رہا ہے۔ وہ اپنے بھائی اور گھر والوں کے ساتھ رہتا تھا لیکن کرسمس پر جھگڑے کی وجہ سے اسے نکال دیا گیا۔ وہ اپنے والد اور سوتیلی ماں کے پاس گیا لیکن ان کے گھر میں گنجائش نہیں تھی تو وہ گلی میں ہی رہنے لگا۔ اس شخص کی آمدنی اتنی نہیں کہ اپنا مکان کرائے پر لے سکے۔ دسمبر اور فروری میں چلائی جانے والی ’’شیئر دی لو ‘‘ مہم کے تحت مسلم ایڈ کا عملہ اور رضاکار ان کمزور افراد کی مدد کے علاوہ انہیں گھر کو گرم رکھنے کے طریقے بتاتے ہیں اور ریڈی ایٹر ریفلیلکٹر اور ڈرائوٹ ایکسکلوڈر لگا کر دیتے ہیں۔