مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
سعودی عرب منشیات سمگلنگ کیس، پاکستانی مجرم کا سر قلم، اس سال 71 لوگ سزا بھگت چکے
جدہ ... دنیا میں جہاں آئے روز سزائوں میں انسانی حقوق کی بنیاد پر کمی کی جارہی ہے وہیں صعدی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جو منشیات کی سمگلنگ، قتل، زنا اور ڈکیتی جیسی وارداتوں میں ملوث افراد کو موت کی سزا دیتا ہے لیکن اس کے باوجود جرائم سے پاک خطہ اسے بھی نہیں کہا جا سکتا۔ گذشتہ روز ہی منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں ایک پاکستانی باشندے کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق جعفر غلام علی کو اس وقت گرفتار کی گیا تھا، جب وہ منشیات کی ايک بڑی مقدار اسمگل کرنے کی کوشش میں تھا۔ واضع رہے کہ سعودی عرب میں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد آباد ہے روزانہ لاکھوں لوگ ملک میں آتے اور جاتے ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے ممکن ہے ایسے میں کبھی کوئی شخص اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب بھی ہوجاتا ہو لیکن ایسی حرکت کرنے سے پہلے ہر شخص کو سو بار سوچ لینا چایئے کہ پکڑے جانے پر اسکا انجام کیا ہو گا کیونکہ عام طور پر مجرم کا سر کھلے میدان میں لوگوں کی موجودگی میں کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔ اس حوالے سے انٹرنیٹ ایسی ویڈیوز سے بھی بھرا پڑا ہے۔ بین الاقوامی نیوز ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں رواں برس اکہتر افراد کے سر قلم کیے جا چکے ہیں۔ سن دو ہزار بارہ میں عصمت دری، قتل، مرتد ہونے، مسلح ڈکیتی اور منشیات کے جرائم میں کم از کم پچھہتر افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔