مقبول خبریں
انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں ہو سکتا: چیئرمین تحریک انصاف
مسئلہ کشمیرتسلیم شدہ بین الاقوامی کیس ، جسے حل کروانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری :راجہ فارو ق حیدر
مسئلہ کشمیر پر سیاستدانوں سے حمایت کیلئے جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کی سرگرمیوں میں تیزی
میرے ساتھ تب تک وفاداری کی جائے جب تک راہِ حق پر ہوں، عمران خان
مقبوضہ کشمیر :پلوامہ کے علاقے میں کانگریس کے سابق رہنماء غلام نبی پٹیل قتل
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
سلائو کی میئر عشرت شاہ کا لاہور میں اوور سیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے دفاتر کا دورہ
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کا ہنگامی آزادی ریاست جموں و کشمیر پلان
خواب جھلستے جاتے ہیں اک معصوم سی لڑکی کے
پکچرگیلری
Advertisement
کلبھوشن یادیو کو را کے بڑے بڑے افسروں نے بھرتی کیا: بھارتی اخبار کا انکشاف
نئی دہلی:بھارتی اخبار نے اپنی ہی خفیہ ایجنسی را کے کرتوت بے نقاب کر دیے۔ جاسوس کلبھوشن سے متعلق سچ بولنے پر بھارتی سرکار کو مرچیں لگ گئیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنسی کےا علیٰ افسروں نے بھرتی کیا۔ بھارتی اخبار نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان کا دعویٰ حقیقت قرار دے دیا۔ اخبار نے لکھا کہ کلبھوشن یادیو کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ سطحی افسروں نے ہائر کیا جس کا کام پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرانا تھا۔بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد را کے دو اہلکاروں نے ممبئی میں اس کے والدین کو دھمکیاں بھی دیں کہ وہ اپنے بیٹے کے کیس کے بارے میں کسی سے بھی گفتگو نہ کریں، کلبھوشن یادیو کا پاسپورٹ بھی اس کے بھارتی شہری ہونے کا ثبوت ہے۔ حسین مبارک پاٹیل کے نام پر ایک پاسپورٹ اور دوسرا بھارتی شہر تھینی کا پاسپورٹ جس کی مدت 2024 تک تھی۔بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرانے کے لئے بھرتی کیا گیا جو اپنے اناڑی کاموں کی وجہ سے پکڑا گیا، کلبھوشن "را" کے ایجنٹ اور جاسوس کے طور پرکام کرتا رہا، کلبھوشن کو بطور جاسوس تعینات کرنے پر "را" کے 2 اعلیٰ افسران کو تحفظات تھے۔بھارتی اخبار کے مطابق دونوں افسران کلبھوشن کے بطور جاسوس پاکستان کام کرنے کے مخالف تھے، ایران، پاکستان ڈیسک پر کام کرنیوالے بھارتی افسران تعیناتی میں معاون ثابت ہوئے۔ اخبار نے بھانڈا پھوڑا تو خبر شائع ہوتے ہی ہٹا دی گئی۔