مقبول خبریں
صاحبزادہ عا مر جہانگیر کی روہنگیا میں طبیعت خراب، صحت یابی کیلئے دعا کی اپیل
سانحہ قصور:سمائل ایڈ کے زیر اہتمام افضل خان ایم پی اور ناز شاہ ایم پی کے زیر صدارت تقریب
محسن باری گروپ کو برطانیہ کی تنظیم پر مسلط کر کے بھٹو ازم کو نقصان پہنچا:پی پی پی برطانیہ
پارٹی نے وزیر اعظم بنایا تو تمام منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا: شہباز شریف
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ،2زخمی،احتجاج،مظاہرے،انٹر نیٹ بھی معطل
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برطانیہ کے کسی بھی پہلے ڈپٹی مئیر کا دورہ سپین،شاندار استقبال کیا گیا
نورِعین رخسانہ نور
پکچرگیلری
Advertisement
کلبھوشن یادیو کو را کے بڑے بڑے افسروں نے بھرتی کیا: بھارتی اخبار کا انکشاف
نئی دہلی:بھارتی اخبار نے اپنی ہی خفیہ ایجنسی را کے کرتوت بے نقاب کر دیے۔ جاسوس کلبھوشن سے متعلق سچ بولنے پر بھارتی سرکار کو مرچیں لگ گئیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنسی کےا علیٰ افسروں نے بھرتی کیا۔ بھارتی اخبار نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان کا دعویٰ حقیقت قرار دے دیا۔ اخبار نے لکھا کہ کلبھوشن یادیو کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ سطحی افسروں نے ہائر کیا جس کا کام پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرانا تھا۔بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن یادیو کے پاکستان میں پکڑے جانے کے بعد را کے دو اہلکاروں نے ممبئی میں اس کے والدین کو دھمکیاں بھی دیں کہ وہ اپنے بیٹے کے کیس کے بارے میں کسی سے بھی گفتگو نہ کریں، کلبھوشن یادیو کا پاسپورٹ بھی اس کے بھارتی شہری ہونے کا ثبوت ہے۔ حسین مبارک پاٹیل کے نام پر ایک پاسپورٹ اور دوسرا بھارتی شہر تھینی کا پاسپورٹ جس کی مدت 2024 تک تھی۔بھارتی اخبار کے مطابق کلبھوشن کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرانے کے لئے بھرتی کیا گیا جو اپنے اناڑی کاموں کی وجہ سے پکڑا گیا، کلبھوشن "را" کے ایجنٹ اور جاسوس کے طور پرکام کرتا رہا، کلبھوشن کو بطور جاسوس تعینات کرنے پر "را" کے 2 اعلیٰ افسران کو تحفظات تھے۔بھارتی اخبار کے مطابق دونوں افسران کلبھوشن کے بطور جاسوس پاکستان کام کرنے کے مخالف تھے، ایران، پاکستان ڈیسک پر کام کرنیوالے بھارتی افسران تعیناتی میں معاون ثابت ہوئے۔ اخبار نے بھانڈا پھوڑا تو خبر شائع ہوتے ہی ہٹا دی گئی۔