مقبول خبریں
انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں ہو سکتا: چیئرمین تحریک انصاف
مسئلہ کشمیرتسلیم شدہ بین الاقوامی کیس ، جسے حل کروانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری :راجہ فارو ق حیدر
مسئلہ کشمیر پر سیاستدانوں سے حمایت کیلئے جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کی سرگرمیوں میں تیزی
میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز کی 7 دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد
مقبوضہ کشمیر میں ایک اور نوجوان جعلی مقابلے میں شہید: جگہ جگہ مظاہرے
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
سلائو کی میئر عشرت شاہ کا لاہور میں اوور سیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے دفاتر کا دورہ
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کا ہنگامی آزادی ریاست جموں و کشمیر پلان
خواب جھلستے جاتے ہیں اک معصوم سی لڑکی کے
پکچرگیلری
Advertisement
کیا زرداری کے ساتھ بیٹھیں گے؟ سوال، انسانی مسئلہ ہے کوئی فرق نہیں پڑتا: عمران
لاہور: عمران خان کی سربراہی میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ آنے والے پاکستان تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کے بعد طاہر القادری اور عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کی۔ایک صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کیا آصف زرداری آپ کیساتھ بیٹھیں گے؟ عمران خان نے زوردار قہقہہ لگایا، پھر بولے ہم کوئی سیاسی اتحاد نہیں بنا رہے ہیں، انسانی مسئلہ ہے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم انصاف مانگ رہے ہیں۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القدری نے کہا کہ یقین سے کہتا ہوں کہ قتل عام نواز شریف کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پھر وارننگ دی کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ مستعفی ہو جائیں کیونکہ ان کی موجودگی میں فیئر ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ 30 دسمبر کی اے پی سی پر عمران خان سے مشاورت ہوئی، تحریک انصاف کے وفد کو خوش آمدید کہتا ہوں، عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ اپنا سمجھ کر لڑا ہے اور عمران خان انصاف کے لئے ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔طاہر القادری نے بتایا کہ 31 دسمبر کو لائحہ عمل مشترکہ مشاورت سے اے پی سی میں طے کریں گے، سو فیصد یقین سے کہتا ہوں کہ قتل عام نواز شریف کی مرضی کے بغیر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی موجودگی میں فیئر ٹرائل نہیں ہو سکتا، باقر نجفی رپورٹ نے شہباز شریف کو ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے، کمیشن کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف نے جھوٹ بولا تھا، 45 تھانوں کی پولیس نے آپریشن میں حصہ لیا، صوبہ کے وزیر اعلیٰ کی اجازت کے بغیر اتنا بڑا آپریشن نہیں ہو سکتا۔طاہر القادری نے مزید کہا کہ شہباز شریف بتائیں کہ کس نے حکم دیا اور کس نے لاشیں گرائیں، ساڑھے 3 سال رپورٹ پبلک کروانے میں لگ گئے۔طاہر القادری اور عمران خان کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں بجلی غائب ہوئی تو گو نواز گو کے خوب نعرے لگے۔طاہر القادری نے کہا کہ جان لیں! آپ کی معافی نہیں ہو گی، ایک بھائی پانامہ، دوسرا بھائی ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے جرم پر جائے گا۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے عمران خان بولے، ٹی وی پر سب نے پولیس اور گلوبٹ کو ڈنڈے اور گولیاں چلاتے دیکھا، نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں، انصاف عوامی تحریک نہیں قوم کا مسئلہ ہے، نواز شریف دکھ بھری داستان سنا رہے ہیں، میاں صاحب خدا کے واسطے تحریک شروع کرو! انتظار کر رہے ہیں۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف نکلیں گے تو ان کو انڈے پڑیں گے، ان کو اب کوئی نہیں بچا سکتا، ان کا دوست نریندر مودی بھی نہیں بچا سکتا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ شریف خاندان سیاست نہیں کرتا، یہ مافیا ہے، 30 سال سے شہباز شریف حکومت میں ہیں، کس انقلاب کی بات کر رہے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں جا کر کیا کروں؟ مک مکا کرنے والے بیٹھے ہیں۔