مقبول خبریں
برادری ازم پر یقین رکھتے ہیں اور نہ علاقائی تعصب پر اہلیت کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہد کی حمائت کر رہے ہیں
اسلام میں جسطرح خدمت انسانی کی حوصلہ افزائی کی گئی اسکی مثال نہیں ملتی: الصف چیریٹی کی امدادی تقریب
لالچی اور خودغرض ٹور آپریٹرز ں نے اللہ کے مہمانوں سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے
احتجاج کرنیوالے وزیر اعظم ہائوس آ کر مذاکرات کریں، نواز شریف
کشمیریوں نے بھارت کو بتا دیا وہ جدو جہد آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،علی گیلانی
شیراز خان کی برطانیہ واپسی پر چیئرمین سلطان باہو پیر نیازالحسن سروری قادری کی والدہ کی وفات پر تعزیت
کشمیری اس امر پر متفق ہیں کہ ووٹ انہی کو دیا جائے گا جوحق خود ارادیت کی حمائت کرتے ہیں:کونسلر محبوب بھٹی
برطانیہ میں مقیم کمیونٹی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتی ہے، . لارڈ میئر بریڈفورڈکا چھچھ ایسوسی ایشن تقریب سے خطاب
حکومت پنجاب کا اوورسیز کمشنر آفس
پکچرگیلری
Advertisement
جاسوسی الزام کے سلسلے میں جرمن وزارت خارجہ کی برطانوی سفیر سے پوچھ گچھ
برلن ...جرمن حکومت نے اپنی سربراہ مملکت کی جاسوسی کرنے پر صرف امریکہ سے ہی احتجاج نہیں کیا بلکہ برطانیہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ جرمن حکومت نے برلن میں تعینات برطانوی سفیر سائمن مکڈونلڈ کو طلب کرکے یہ احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ ایسا امریکی سی آئی اے کے جاسوس اور وکی لیکس کے بانی سنوڈن کی اس خصوصی پیشکش کے بعد ہوا جس میں اس نے جرمنی کو پیشکش کی کہ وہ انکی پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہے۔ گزشتہ ہفتے ماسکو میں جرمن پارلیمان کے بزرگ رکن ہنس کرسٹیان شٹروئبلے نے سنوڈن کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں سنوڈن نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے نام جو خط دیا، اُس میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ وہ اصولی طور پر این ایس اے کے جاسوسی اسکینڈل کے سلسلے میں جرمنی میں ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بیان دینے کے لیے تیار ہیں۔ برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کا کہنا ہے کہ برلن میں قائم برطانوی سفارت خانے کو شاید ٹاپ سیکرٹ رابطہ آفس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی کی قومی سلامتی ایجنسی (این ایس اے) کے افشا کردہ دستاویزات کے مطابق برطانوی سفارت خانے کی چھت پر ہائی ٹیک سازو سامان کی مدد سے جاسوسی کی جا سکتی تھی۔ دوسری جانب برلن کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی بین الاقوامی قانون کے خلاف ورزی ہو گی۔ جرمنی کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیرِخارجہ گوئڈو ویسٹرویلے نے برطانوی سفیر سائمن میکڈانلڈ سے کہا ہے ہے کہ وہ ان دعوؤں کا جواب دیں۔ ترجمان کا کہنا ہے یورپی شعبے کے سربراہ سے پوچھا گیا ہے کہ وہ برطانوی میڈیا میں چھپنے والی ان اطلاعات جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ برطانوی سفارتی مشن کے احاطے سے مواصلات کے نظام میں ہونے والے خلل بین الاقوامی اصول کے خلاف ہے، کا جواب دیں۔ خیال رہے کہ برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کی یہ رپورٹ این ایس اے کی افشا کردہ ان دستاویزات پر مشتمل ہے جو امریکہ کے خفیہ راز افشاء کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن سامنے لائے تھے۔