مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں، وزیرِ اعظم نے امریکی الزامات مسترد کر دیے
سوچی: وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی روس کے شہر سوچی پہنچ گئے ہیں جہاں کراسنودار ریجن کے ڈپٹی گورنر اور اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ وزیرِ اعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے سولہویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس موقع پر دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کونسل کا اجلاس روس کے شہر سوچی میں ہو گا۔بعد ازاں سوچی میں شاہد خاقان عباسی سے چین کے وزیرِ اعظم لی کی کیانگ سے ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنمائوں نے باہمی تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار اور دونوں ممالک کا شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے قریبی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے سیاسی، معاشی، تجارت، دفاع اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس سے قبل ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں عسکریت پسند گروپوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروپ پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان میں ہیں۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگرد گروپ نہیں ہیں۔ حملے افغانستان سے ہو رہے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں گےوزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ حقانی گروپ کے بارے میں ہم سے انٹیلی جنس شیئر کریں، کارروائی ہم کریں گے۔ ہم نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے اڈوں کی نشاندہی کی ہے۔ امریکا کو پاکستان کے خلاف سخت موقف نہیں لینا چاہیے کیونکہ پاکستان وہ ملک ہے جو دہشتگردی کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے۔ ہمیں معلومات دیں۔ ہم کارروائی کریں گے۔ یہ ہماری لڑائی ہے، ان کی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئٹہ میں طالبان رہنما واقعی ہوئے تو کارروائی کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی پالیسی ناکام ہو جائے گی۔ افغان حکومت اور طالبان کو امن کے لئے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ ہم مذاکرات میں ہر طرح تعاون کو تیار ہیں، لیکن وہاں حالات خراب ہیں۔ پاکستان نے دو بار کوشش کی لیکن مذاکرات کو سبوتاژ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت نے صرف الزام لگائے ہیں، ثبوت نہیں دیئے۔ ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت دیں اور حافظ سعید کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلائیں۔