مقبول خبریں
صاحبزادہ عا مر جہانگیر کی روہنگیا میں طبیعت خراب، صحت یابی کیلئے دعا کی اپیل
سانحہ قصور:سمائل ایڈ کے زیر اہتمام افضل خان ایم پی اور ناز شاہ ایم پی کے زیر صدارت تقریب
محسن باری گروپ کو برطانیہ کی تنظیم پر مسلط کر کے بھٹو ازم کو نقصان پہنچا:پی پی پی برطانیہ
پارٹی نے وزیر اعظم بنایا تو تمام منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا: شہباز شریف
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ،2زخمی،احتجاج،مظاہرے،انٹر نیٹ بھی معطل
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برطانیہ کے کسی بھی پہلے ڈپٹی مئیر کا دورہ سپین،شاندار استقبال کیا گیا
نورِعین رخسانہ نور
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت ہٹ دھرمی ترک کرکے پاکستان کیساتھ مذاکرات کا آغاز کرے: سردار عتیق
لندن:برصغیرجنوبی ایشیاء کا امن مسئلہ کشمیر کیساتھ وابستہ ہے۔ بھارت ہٹ دھرمی ترک کرکے پاکستان کیساتھ مذاکرات کا آغاز کرے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہونا چاہئے۔ امن کے راستے افغانستان سے نہیں کشمیر ہوکر گزرتے ہیں۔ خطے میں امن کے حوالے بھارت کا کوئی کردار نہیں۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اینڈ مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد نے چشمی ٹاؤن میں ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری آفتاب علی کی طرف سے دئے گئے دعوتِ استقبالیہ میں کیا۔ سردار عتیق احمد نے کہا کشمیر کی سنگین ترین صورتحال کا تقاضا ہے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں تمام اختلافات سے بالاتر ہوکر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے متحد ہوکر کام کریں۔ یہ اور زیادہ بہتر ہوگا۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کی پارلیمنٹ میں بحث ہو۔ مسئلہ کشمیر حل ہونے کے باعث کشمیریوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی مسئلہ کشمیر پر عدم دلچسپی سے خطہ کے امن انتہائی خطرے میں ہے کشمیر ایک نیوکلیئر فلش پوائنٹ بنتا جارہا ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کے پائیدار حل کیلئے سہ فریقی کانفرنس کا اہتمام کرے۔ انہوں نے کہا بھارت اگر ایک جمہوری ملک ہے وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کیساتھ مذاکرات کا آغاز کرے۔ بھارت طاقت کے زور پر کشمیریوں کی تحریک کو دبا نہیں سکتا۔سردار عتیق احمد نے کہا برطانیہ میں آباد کشمیری اور یہاں کی جماعتیں نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر مسئلہ کشمیر کے حل کو پایہ تکمیل پہنچانے کیلئے کام کریں ہمیں انا پرستی، علاقائی ازم، قوم پرستی کے خول سے نکل کر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری جماعت ریاست کے اندر قومی تشخص برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا مجھے یقین ہے آئندہ ہونے والے انتخابات میں مسلم کانفرنس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ اس موقع پر ممتاز سماجی و سیاسی شخصیت چوہدری آفتاب علی نے سردار عتیق احمد کے خیالات کی حمایت کرتے ہوئے مسلم کانفرنس ریاست کی پرانی اور ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ جو ریاست کی وحدت اور قومی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی آزاد کشمیر میں ضرورت نہیں ہے۔ اگر یہ جماعتیں بن گئی ہیں وہ ریاست کے آئین کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ریاست کی وحدت اور قومی تشخص کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ چوہدری آفتاب علی نے سردار عتیق احمد سے پوچھا آزاد کشمیر میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی کیوں اجارہ داری ہے مسلم کانفرنس ریاست کی بڑی جماعت ہے اسکو دیوار کیساتھ کیوں لگایا گیا ہے اور کشمیر کے اندر کشمیری اپنی نئی جماعت نہیں بنارہے تاکہ کشمیریوں میں شعور پیدا ہوسکے۔ اس پر انہوں نے کہا مفاد پرستی نے ہمارے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے دور زندگی میں مسلم کانفرنس کو ریاست کے اندر مسلم لیگ کا نعم البدل قرار دیا تھا۔ آج ہم قائد اعظم کی اصولی و نظریاتی سیاسی سیاست اور ان کے دو قومی نظریے کو بھول چکے ہیں۔ چوہدری آفتاب علی نے الیکٹرانک اینڈ پرنٹ میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کریں۔ کشمیری عوام بلاتنخواہ پاکستان کے سپاہی ان کی قربانیاں پاکستان کی بقاء کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔عثمان عتیق احمد خان نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ قومی تعمیر و ترقی میں ہم افواج پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں ہمارا نظریہ پاکستان کی تعمیر و ترقی و خوشحالی ہے۔ بھارت پاکستان کو ایک خوشحال ملک نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی فوراً بند کرے۔ اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کرے۔ سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد نے لندن کے علاقے چیشم میں نواب کورٹ روڈ کا دورہ کیا جو ایک پاکستانی کی خدمات کے صلے میں اسکے نام سے منسوب ہے اس روڈ کا سنگ بنیاد چشم کونسل نے رکھا تھا۔