مقبول خبریں
یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہیئرنگ کا فیصلہ
بیسٹ وے گروپ کے سربراہ سرانور پرویز کی جانب سے کمیونٹی رہنمائوں کے اعزاز میں استقبالیہ
نبوت بھی اﷲ کی عطا ہے اور صحابیت بھی، نبوت بھی ختم ہے اور صحابیت بھی: ڈاکٹر خالد محمود
ملک دشمن عناصر دہشتگردی کے ذریعے پاکستان میں الیکشن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں:عمران خان
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا ،احتجاج،جھڑپیں
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
مسئلہ کشمیر پرقوم کا نکتہ نظر اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی فوج کی حراست میں شہید کشمیریوں کی مزید2080گمنام قبریں دریافت
سری نگر:بھارتی فوج کی حراست میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی مزید 2080 گمنام قبریں مقبوضہ پونچھ اور راجوری میں دریافت ہوئی ہیں ۔ اس سے قبل بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں 2126 گمنام قبروں کی نشاندہی ہوئی تھی ۔ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری انسانی حقوق کمیشن نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ گمنام قبروں میں دفن افراد کی شناخت کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کئے جائیں ۔ شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ ، فرانزک ٹیسٹ سمیت تمام طریقے اختیار کئے جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ دفن ہونے والے گمنام شہری کون ہیں ۔ بھارتی فورسز کی حراست میں لا پتہ ہونے والے شہریوں کے لواحقین کی تنظیم اے پی ڈی پی کے سربراہ پرویز امروز نے گمنام قبروں کے حوالے سے ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں ایک پٹیشن دائر کی تھی ۔ پٹیشن پر کمیشن نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا تھا ۔ ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ کے سیکرٹری نے گزشتہ روز اپنی رپورٹ انسانی حقوق کمیشن میں جمع کرا دی ہے ۔اے پی ڈی پی کا خیا ل ہے کہ گمنام قبروں میں وہ افراد دفن ہیں جنہیں بھارتی فوج نے حراست کے دوران قتل کر دیا اور ان کی لاشیں دفن کر دی گئیں۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک نوجوان کی شہادت پر ضلع پلوامہ میں جمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی۔ اور ریا ستی حکومت کے خلاف مظاہرے کئے گئے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے بدرنامی نوجوان کوجمعرات کی شام ضلع کے علاقے پامپور میں سامبورہ کے مقام پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا تھا۔ضلع پلوامہ میں موبائل فون سروس معطل رکھی جبکہ شمالی کشمیر میں ریل سروس بھی جمعہ کو معطل رکھی گئی۔دوسری جانب ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک بارپھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے داخلی خود مختاری کو بہترین حل قرار دیا ہے ۔