مقبول خبریں
انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں ہو سکتا: چیئرمین تحریک انصاف
مسئلہ کشمیرتسلیم شدہ بین الاقوامی کیس ، جسے حل کروانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری :راجہ فارو ق حیدر
مسئلہ کشمیر پر سیاستدانوں سے حمایت کیلئے جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت کی سرگرمیوں میں تیزی
میاں محمد نوازشریف اور مریم نواز کی 7 دن کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد
مقبوضہ کشمیر میں ایک اور نوجوان جعلی مقابلے میں شہید: جگہ جگہ مظاہرے
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
سلائو کی میئر عشرت شاہ کا لاہور میں اوور سیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے دفاتر کا دورہ
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کا ہنگامی آزادی ریاست جموں و کشمیر پلان
خواب جھلستے جاتے ہیں اک معصوم سی لڑکی کے
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی فوج کی حراست میں شہید کشمیریوں کی مزید2080گمنام قبریں دریافت
سری نگر:بھارتی فوج کی حراست میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی مزید 2080 گمنام قبریں مقبوضہ پونچھ اور راجوری میں دریافت ہوئی ہیں ۔ اس سے قبل بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں 2126 گمنام قبروں کی نشاندہی ہوئی تھی ۔ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری انسانی حقوق کمیشن نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ گمنام قبروں میں دفن افراد کی شناخت کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کئے جائیں ۔ شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ ، فرانزک ٹیسٹ سمیت تمام طریقے اختیار کئے جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ دفن ہونے والے گمنام شہری کون ہیں ۔ بھارتی فورسز کی حراست میں لا پتہ ہونے والے شہریوں کے لواحقین کی تنظیم اے پی ڈی پی کے سربراہ پرویز امروز نے گمنام قبروں کے حوالے سے ریاستی انسانی حقوق کمیشن میں ایک پٹیشن دائر کی تھی ۔ پٹیشن پر کمیشن نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا تھا ۔ ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ کے سیکرٹری نے گزشتہ روز اپنی رپورٹ انسانی حقوق کمیشن میں جمع کرا دی ہے ۔اے پی ڈی پی کا خیا ل ہے کہ گمنام قبروں میں وہ افراد دفن ہیں جنہیں بھارتی فوج نے حراست کے دوران قتل کر دیا اور ان کی لاشیں دفن کر دی گئیں۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ایک نوجوان کی شہادت پر ضلع پلوامہ میں جمعہ کو مکمل ہڑتال کی گئی۔ اور ریا ستی حکومت کے خلاف مظاہرے کئے گئے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے بدرنامی نوجوان کوجمعرات کی شام ضلع کے علاقے پامپور میں سامبورہ کے مقام پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا تھا۔ضلع پلوامہ میں موبائل فون سروس معطل رکھی جبکہ شمالی کشمیر میں ریل سروس بھی جمعہ کو معطل رکھی گئی۔دوسری جانب ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک بارپھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے داخلی خود مختاری کو بہترین حل قرار دیا ہے ۔