مقبول خبریں
اولڈہم کونسل کےشعبہ جات میں کام کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز تقریب
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
مدینہ مسجد یو کے اسلامک مشن میں سیرتِ سرورِ کائنات ؐ کا انعقاد ،مہمانان گرامی کا والہانہ استقبال
تم آگ کا دریا ،میں سمندر کی ہوا ہوں!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
20سالوں سے چھائے اندھیرے دور، ملک بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہوگا: شہباز شریف
لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی منصوبوں کی تکمیل سے 20سالوں سے چھائے اندھیرے دورہورہے ہیں اور ملک پہلی مرتبہ بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہوگا۔ایک وقت تھا جب بھارت سے ہمیں بجلی کی آفر آتی تھی لیکن اب وہ وقت بھی دورنہیں جب پاکستان بھارت کو اضافی بجلی فروخت کرنے کے قابل ہوگا۔توانائی بحران کے ختم ہونے سے ترقی اورخوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا، ملک کی صنعت ،زراعت ترقی کرے گی اورہمارے سکول ،ہسپتال اورادارے روشن ہوں گے ۔ طویل عرصے کے بعد پنجاب میں تیل اورگیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں یہ بڑی خوشخبری ہے جس پر ہم سب اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکربجالاتے ہیں۔ یہ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گیس کے ذخائردریافت ہوئے تو وہاں کی حکومت ہائی کورٹ سے سٹے آڈرلے آئی لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ وسائل پوری قوم کی امانت ہیں۔پنجاب ،سندھ،خیبرپختونخوا،بلوچستان،آزاد کشمیراورگلگت بلتستان سے ملکر پاکستان بنتا ہے اورجب یہ تمام اکائیاں ترقی کریں گی تبھی ملک ترقی کرے گا۔وزیراعلیٰ نے ا ن خیالات کا اظہار اٹک میں تیل اورگیس کے منصوبے جھنڈیال ون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ محنت،امانت اوردیانت کیساتھ ان وسائل سے فائدہ لیکر عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی کاانقلاب لانا ہماری ذمہ داری ہے دفاعی لحاظ سے پاکستان مضبوط ملک ہے اوریہ نیوکلیئر طاقت ہے ،اس کیساتھ ساتھ ہمیں معاشی طورپر بھی مضبوط ہونا ہے ا ورمعیشت کو بھی ایٹمی معیشت بنانا ہے ۔ ایک ہاتھ میں نیوکلیئر طاقت اوردوسرے ہاتھ میں کشکول گدائی ہو ،یہ کسی طورپر مناسب نہیں۔کشکول گدائی ہماری قسمت نہ تھی بلکہ یہ ہمارے ا عمال کا نتیجہ ہے ۔