مقبول خبریں
او پی ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین بیرسٹر امجد کا صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ
ہم دھرنوں کے باوجود عوام کی توقعات پر پورا اترے ہیں:میاں نواز شریف
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
چین کی لائٹ انجینئرنگ صنعتوں کی منتقلی سے ڈھائی کروڑ ملازمتیں پیدا ہونگی:وزیر داخلہ
مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے کشمیریوں پر زندگی تنگ کر دی،مزید 3بے گناہ شہید
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
صدر نارتھ زون ضمیر احمد کی زیرصدارت نیل مسجد (یوکے آئی ایم) میں نورانی محفل کا انعقاد
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
مودی کی سبکی
سوویت یونین کے خاتمے کے بعدروسی فوج کاشیرازہ بکھرجانے کے بعدعجلت میں بھارت نے اپنے دیرینہ دوست کوچھوڑکرامریکاکی گودمیں پناہ ڈھونڈ لی لیکن پاک روسی فوجی مشقوں پربھارت نے انتہائی پریشانی میں اسی عجلت کے ساتھ روس کواپنی وفاداریوںکایقین دلانے کیلئے ایک بڑے دفاعی معاہدے کادھوکہ دیکراس کااعتمادحاصل کرنے کیلئے کوشاں ہے کیونکہ روس ایک مرتبہ پھرامریکی استعمارکوآنکھیں دکھانے کی پوزیشن میں آچکاہے۔ ١٩٩١ء سے ٢٠٠٨ء تک یعنی بورس یلسن اورولادی میرپیوٹن کے پہلے دور حکومت میں روس نے سابقہ سوویت ریاستوں میں اپنی فوج نہائت کم کردی تاکہ ان ممالک سے تنازعات میںکمی کی جاسکے یاتنازعات کاخاتمہ کیاجاسکے،لہٰذا٠٩ء کی دہائی میں روسی فوج کی ساری مصروفیات صرف جارجیااورمالدوواکے نسلی فسادات اورتاجکستان کی خانہ جنگی کرنے تک محدودتھی،حتیٰ کہ ١٩٩٤ میں جب صدربورس یلسن نے چیچنیامیں علیحدگی پسندتحریک کوکچلنے کیلئے فوج بھیجنے کااعلان کیاتوروسی فوج کا سربراہ دس لاکھ ہردم تیارفوج میں سے صرف ساڑھے چھ لاکھ فوجی بھیج سکا۔ سابقہ سوویت یونین کی حدودسے باہرروس نے ہمیشہ احتیاط سے کام لیا،کبھی اسے امریکاکاتعاون درکاررہاتوکبھی اس نے نیٹوکے ساتھ عملی تعاون بھی کیا ،جس کی مثال ١٩٩٦ میں بوسنیامیں ہونے والی امن آپریشن میں حصہ لیناہے لیکن نوے کی دہائی کے وسط میں جب نیٹوکی رکنیت معطل کرنے کی امیدیں دم توڑگئیں توروس نے اس اتحادکی مشرق کی طرف ہونے والی وسعت پرشدید احتجاج کیا۔١٩٩٩ میں یوگو سلاویہ پرہونے والی بمباری اور٢٠٠٣ء میں عراق پرقبضے کے خلاف بھی بلندآوازکی لیکن وہ اس وقت اتناطاقتورنہیں تھاکہ کسی حملے کوروک سکتا،پھر کریملن نے ایٹمی صلاحیت میںاضافے کواپناہدف بنالیاکیونکہ وہ جانتاتھاکہ صرف ایٹمی صلاحیت میں اضافہ ہی اس کی سلامتی اورخودمختاری کی ضمانت ثابت ہوگا۔ اب زوال اورانحطاط پذیری کے دن گئے ،٨٠٠٢ ء سے پیوٹن نے اس دل شکستہ فوج میں اصلاحاتی پروگرام کاآغازکیاجس کے تحت دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافہ کیاگیا۔اس پروگرام کی بدولت اب روسی فوج اپنے اہداف حاصل کرنے کے قابل ہوگئی ہے۔ماسکونے فروری ٢٠١٤ء میں پہلی دفعہ بغیرکسی نشان کی وردیوں میں ملبوس اپنے سپاہی یوکرائن کے شہرکریمیاپرقبضے کے حصول کیلئے بھیجے اورساتھ ہی کیف پربڑے حملے کی دہمکی بھی دی۔اس کے بعدیوکرائن کے علاقے 'دنباس'میں روسی حمائت یافتہ باغیوں کواسلحہ ،خفیہ معلومات اورکمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی فراہمی بھی جاری رکھی گئی۔ ٢٠١٥ء میں روس نے تاریخ میں پہلی باراپنی مسلح افواج کوشام میں بشارالاسدکے خلاف لڑنے والے باغیوں پر بمباری کرنے کاحکم دیکرمشرق وسطیٰ میں براہِ راست مداخلت کاآغازکیاباوجوداس کے کہ یہ مہم جوئی ان مہمات سے کہیں چھوٹی ہے جوکبھی تاریخ کاحصہ رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ روس ایک بارپھرقابل ہوگیاہے کہ کسی بھی عالمی طاقت کے مقابلے میں نہ صرف اپنی سرحدوں کابہترطریقے سے دفاع کرسکے بلکہ اپنی حدودسے باہربھی فوج بھیج سکے۔قریباً پچیس سال کاعرصہ کمزورفوج کے ساتھ گزارنے کے بعدروس ایک مرتبہ پھریوریشیامیں بڑی قوت بن کرسامنے آیاہے۔روسی فوج کی جدیدیت کی کہانی ٢٠٠٨ء میں جارجیاکی جنگ سے شروع ہوئی اورروسی فوج نے مغرب کے حمائت یافتہ صدرمیخائل ساکاش ولی کی فوجوں کوشکست سے دوچار کرکے 'انجازیہ'اور 'جنوبی اوسیشیا'کی ریاستیں دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیں۔اس پانچ دن کی مہم میں فتح کے نتیجے میں روس نے نہ صرف نیٹوکے سابقہ سوویت ریاستوں کی جانب پھیلاؤکے آگے بندباندھ دیاجس سے مغربی افواج کی خطے میں مداخلت کی حدودمتعین کرکے اپنے مغربی اور جنوبی پڑوس میں تزویراتی سبقت بھی حاصل کرلی۔ انجازیہ اورجنوبی اوسیشیاکوزیرنگیں کرنے سے جنوبی تفتازکے دواہم علاقوں بشمول سوچی پربھی روس کا کنٹرول بڑھ گیا جہاں اب روسی صدرکی جنوبی رہائش گاہ ہے اوریہ علاقہ روس کاتیسراغیرسرکاری دارلحکومت کہلاتاہے۔ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ روس کی دفاعی صنعت نے بھی فوج کوجدیداسلحہ اورآلات سے لیس کرنے کے کام کاآغازکردیاہے۔قریباًدودہائیوں کے بعداب کریملن نے بڑی مشقوں کیلئے بجٹ بحال کردیاہے اور اب روسی فوج کی تنخواہیں بھی پرکشش کردی گئیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب روسی فوج بغیرکسی پیشگی اجازت کے بڑے پیمانے پرجنگی مشقیں بھی کررہی ہے تاکہ اس کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔ جارجیاکی جنگ کے صرف پانچ سال بعدیوکرائن کاتنازعہ کھڑاہواتو روسی فوج جارجیاکی جنگ میں حصہ لینے والی کمزور،دل شکستہ اورغیرمنظم فوج سے کئی گنا بہترحالت میں تھی۔ کریمیامیں ہونے والاآپریشن ایک مکمل جنگ نہیں تھی۔اصل جنگ توکچھ ہفتے بعددنباس میں لڑی گئی۔ماسکونے اپنی فوج مشرقی یوکرائن میں سرحدپا ر اتارنے کی بجائے کیف کو دہمکی دیکرہی کام چلالیااوریورپ کی مشہوراصطلاح 'ہائبرڈوارفیئر' کی شاطرانہ چال کاستعمال کرتے ہوئے دنباس میں روس نوازعلیحدگی پسندوں کو خفیہ اورلاجسٹک مددفراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحدپرفوجی مشقوں کاآغازکردیاتاکہ کیف کوپریشانی میں مبتلارکھاجائے۔ ماسکونے حاضرسروس فوجی بھی مشرقی یوکرائن بھیجے جوظاہری طورپررخصت پرتھے لیکن یوکرائن میں لڑنے والے زیادہ تراہلکاروں پرمشتمل تھے جس نے سلسلہ وارآپریشن کیا۔ عین اس وقت جب یوکرائن میں روسی کاروائی جاری تھی ماسکونے نیٹوممالک کوخبردارکیاکہ وہ اس تنازعے سے دوررہیںورنہ وہ بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔روسی جنگی طیاروں نے (جو٢٠٠٨ء سے سردجنگ کے زمانے کی طرزپرگشت کرچکے تھے) امریکا، برطانیہ،چنداسکینڈیے نیوین ممالک اورمغربی یورپ میں بحیرۂ اسوداوربحیرہ بالٹک کے قرب وجوار میں پروازیں کیں۔بعدمیں پیوٹن نے اس بات کااعتراف بھی کیا کہ ہم ایک موقع پریوکرائن میں اپنے مفادات کادفاع کرنے کیلئے ایٹمی فوج کوبھی تیاررہنے کاحکم دینے پر غور کیا تھا ۔یوکرائن کی اس جنگ میں کامیابی کے باوجودروسی فوج صرف سابقہ سوویت یونین کی حدودمیں پیش قدمی کرنے والی روایت پرقائم رہی، لیکن پچھلے سال شام کی خانہ جنگی میں کودکرروسی فوج اس تاثرکوبدلنے میں کامیاب ہوگئی۔ماسکونے چنددرجن لڑاکاطیاروں کوداعش اوربشارالاسدمخالف قوتوں کوٹھکانوں پرحملہ کاحکم دیا۔شام میں جدیددفاعی نظام قائم کیا،وسطی روس کے فضائی اڈے سے بمبارطیاروں کوشام میں بمباری کی اجازت دی اورسمندری فوج کوحکم دیاکہ وہ بحیرہ روم سے شامی اہداف پرمیزائل برسائے۔اسی طرح سوویت یونین کے خاتمے کے بعدسے اب تک دنیابھرمیں کہیں بھی فوج کے استعمال کرنے کے حوالے سے امریکاکی جو اجارہ داری قائم تھی،اس کابھی خاتمہ کردیا۔ عالمی سطح پرجوگریٹ گیم اس وقت جاری ہے۔ امریکااس کاپردھان بنابیٹھاہے جبکہ بھارت امریکی بغل بچے کے طورپراستعماری عزائم کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالنے کی فکرمیں ہے۔ امریکااپنے مذموم عزائم کیلئے اپنے بھارتی غلام کی پیٹھ تھپکتارہتاہے۔امریکا اوربھارت دونوں کے استعماری عزائم انہیں عالمی طورپرمسلمہ انسانی حقوق سے آنکھیں بندرکھنے پرمجبور کیے ہوئے ہیں۔جب روس واضح طورپراس گریٹ گیم میں ایک طاقتورفریق کی حیثیت سے شامل ہوچکاہے توبھارت اس سابق عالمی سپرپاورکادم چھلابننے کی کوشش میں ہے مگر یہ بات قابل فہم ہے کہ مودی روس پاک تعلقات بہترہونے پرکیوں سیخ پاہے؟اس خیال کواس خبرسے تقویت ملتی ہے کہ غربت کے خلاف جنگ کاراگ الاپنے والی مودی سرکارروس سے سامانِ جنگ ہتھیانے کے ساتھ ساتھ فی الحقیقت جنگی جنون میں مبتلاہے اوراس جنون میں بھارت ہرگزرتے دن کے ساتھ آگے بڑھتاجارہاہے جس کانیاثبوت یہ ہے کہ اس نے روس سے دیناکاسب سے جدیدمیزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کافیصلہ کیاہے ۔اس سسٹم کوایس٤٠٠ یاٹر سپف(فتح) کا نام دیاگیاہے۔روس نے اسے حال ہی میں شام میں آزمایاہے اوراب حال ہی میں دونوں ملکوں کے سربراہوں نے گوامیں اس معاہدے پردستخط کئے ہیں جوبھارت کے جنگی جنون اور امن عالم کے ایک اوربڑی تباہی کاسامان ثابت ہوگی لیکن مودی اس وقت پھرمات کھاگیاجب ٹرمپ کی حالیہ دہمکی آمیزرویے پرروس نے کھل کرپاکستان کی حمائت کااعلان کردیا۔