مقبول خبریں
ڈیبی ابراھم کیساتھ ناروا سلوک سے بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ بے نقاب
مہنگائی کی ذمے دار عمران خان حکومت ہے ،شہباز شریف
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
راجہ نجابت حسین کی ڈیبی ابراھام کے ہندوستان میں داخلے پر پابندی کی شدید مذمت
آتش فشاں
پکچرگیلری
Advertisement
کنٹرول لائن پرجہنم زدہ زندگی
سری نگر ... ایک مٹی پر آباد کشمیریوں کی سدا بہار دشمن فوج نے جموں میں کشمیریوں کو جب سے ایک دوسرے سے اور جن پیاروں سے دور کیا ہے وہ کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے لوگ موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر طرف خوف اور بے یقینی کے ڈیرے ہیں۔ کنٹرول لائن ہمارے لیے جہنم بن گئی ہے۔ کشمیریوں کو اس عذاب سے نجات چاہیے۔ یہ الفاظ ہیں کنٹرول لائن کے نزدیکی قصبے لنگیٹ کے رکن اسمبلی اور سماجی کارکن انجینیئر عبدالرشید کے۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن غالباً دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ یہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان غالباً یہ دنیا کا طویل ترین تنازع بھی ہے۔ کسی نہ کسی مرحلے پر تو اسے حل کرنا ہی ہو گا۔ لیکن کنٹرول لائن پر بسے ہوئے لوگوں کے حوصلے اب ٹوٹنے لگے ہیں۔ اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔آوورہ کے محمد اقبال کہتے ہیں کہ بس موت کے سائے میں زندگی بسر ہو رہی ہے نہ گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ باہر جا سکتے ہیں۔ شام کو پتہ نہیں ہوتا کہ سویرا ہو گا اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔تنگڈار کے باشندے نثار احمد لون کہتے ہیں جب گولہ باری ہوتی ہے یا بارودی سرنگ پھٹتی ہے تو کسی کا بازوجاتا ہے، کسی کا پیر جاتا ہے۔ کوئی مارا ہی جاتا ہے۔ یہ سارا بارڈر بہت خطرناک ہے۔ خود لون کے پیر میں لوہے کی چار راڈیں لگی ہوئی ہیں۔ ایم ایل اے عبدالرشید کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی تمنا ہے کہ جنگ بندی ایک بار پھر نافذ ہوجنگ بندی ٹوٹنے سے کشمیریوں کا حوصلہ ٹوٹا ہے۔ ہر طرف بے یقینی ہے۔ جو لوگ سرحدوں پر رہ رہے ہیں وہی وہاں کے مصائب سمجھ سکتے ہیں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے اور کنٹرول لائن کے سوال کو انسانی جذبے سے حل کرنا چاہیے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی سے ہر طرف گھبراہٹ پھیلی ہو ئی ہے۔ اوڑی اور پنچھ کے بعض علاقوں میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ جو لوگ امن کی باتیں کر رہے تھے وہ بھی جوابی کارروائی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔