مقبول خبریں
راجہ طاہر مسعود کو ملکہ برطانیہ کی طرف سے کمیونٹی کی خدمات پر برٹش ایمپائر میڈل سے نوازا گیا
برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے پاکستانی کمیونٹی کیلئے عید الفطر اوپن ہائوس کا اہتمام
مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کی جانب سے شامی تارکین وطن کیلئے خوراک کا کانوائے روانہ کر نے کی تقریب
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی کروڑوں روپے کے اثاثوں کے مالک
محبوبہ مفتی کی حکومت ختم، صدر رام ناتھ کووند نے گورنر راج نافذ کر دیا
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
پاکستان کشمیر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر پروفیسر فیاض رشید و دیگر کا عید ملن پارٹی کا اہتمام
وصال و ہجر کا قصہ بہت پرانا ہے
پکچرگیلری
Advertisement
نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر کے نظریاتی پہلو سے آگاہ نہ رکھنا خطرناک روش ہے: ڈاکٹر باسط
لندن ... مسئلہ کشمیر کے لئے نئی نوجوان نسل کو شامل کرنا ہوگا۔ جو آج فرنٹ لائن پر نظر نہیں آرہی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کو آگے بڑھانے کیلئے نئی نوجوان نسل کو قیادت میں شامل کرنا ہوگا۔آج تحریک کی قیادت ان افراد کے ہاتھوں میں ہے جو عمر کے آخری حصے میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں تحریک کا سہرا نئی نوجوان نسل کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی جانی مالی قربانیاں دے کر مسئلہ کشمیر کو پھر سے عالمی سطح پر زندہ کیا ہے۔ طاقت کے زور پر آزادی کی تحریکوںکو دبایا نہیں جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی پاکستان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ممتاز قانون دان ڈاکٹر عبدالباسط نے لندن میں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں دوران تقریب جموں کشمیر پیپلزنیشنل پارٹی کے بانی رہنما بیرسٹر قربان علی کی پانچویں برسی پر کیا۔ بیرسٹر قربان علی کو ایک بہترین آزادی پسند، بااصول مارکسٹ، خوشحال و خودمختار کشمیر کے حامل نظریات کا ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرسٹر قربان علی مرحوم کی سائسی نظریات، جمہوری انقلاب کے ذریعے قومی اور طبقاتی جبر کے خاتمے اور استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کا مشن کا قیام آگے بڑھایا جائے۔ عوام میں سیاسی و انقلابی شعور بلند کرنے کا فریضہ ادا کرنے کیلئے آپس میں اتحاد، اتفاق ایک متفقہ سوچ اختیار کرنی ہوگی۔ تاکہ عوام انقلاب کے علم اور فن سے آگہی کرتے ہوئے سیاسی، سفارتی اور انقلابی محاذ پر متحد و منظم ہوکر جدوجہد سے عظیم کامیابی حاصل کرسکیں۔ قوم آزادی کی جنگ لڑتی ہے اور فوج نظریات کے تحفظ کی جنگ لڑتی ہے۔ ممتاز قانون دان ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کہ ہم اپنی نئی نوجوان نسل کو تحریک آزادی کشمیر کے بنیادی مقاصد و نظریات سے آگاہ نہیں کر رہے جو آج یہاں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کوئی قوم مسلح جدوجہد کے بغیر آزاد نہیں ہوسکتی۔ پہلی قومیں ریاستوں میں تبدیل ہوگئین۔ ہم نے وقت اور ہماری قیادت نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تاریخ کا دھارا آگے چلا گیا اور ہم پیچھے رہ گئے۔ جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ نے مرحوم بیرسٹر قربان علی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ان کا مشن جاری رہیگا۔ مقاصد کے حصول تک شہدائے جموں کشمیر کا مشن اور آزاد و خودمختاری کا نعرہ جاری رہیگا۔ کشمیری رہنما غالب بوستان ایڈووکیٹ نے کہا کشمیری سارھے پانچ ہزار سال سے ایک ملک رہا ہے۔ اسکی اپنی تاریخ ہے قیام پاکستان سے کشمیر ایک آزاد و مختار ریاست تھی۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قرارداد 13 اگست 48ء کے تحت اپنی افواج کشمیر سے نکالے جسکا اس نے عالمی برادری کے سامنے وعدہ کیا تھا تاکہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے مرحوم بیرسٹر علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ان کا مشن جاری رکھنے کا عہد کیا۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنما چوہدری محمد صدیق اور کشمیر لبریشن کونسل کے چیئرمین نجیب افسر نے بھی کشمیر کو ایک ڈی ملٹری نائزیشن بنانے اور ایک آزاد ریاست بنانے کا مطالبہ کیا .. این این کے سابق صدر شاہد اعظم، آصف مسعود چوہدری قوم پسند طالب علم رہنما، ظفر حیات، راجہ سکندر، خواجہ حسن عباس ملک، ظفر ایڈووکیٹ، محمد الیاس نے مرحوم بیرسٹر قربان علی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل ایک آزاد و خودمختار کشمیر ہی قرار دیا . (رپورٹ: اکرم عابد)