مقبول خبریں
برطانوی معاشرے میں رہتے ہوئے تمام تہوار میں حصہ لینا چاہئے: افضل خان
سپینش شہریت کے حامل سائنسدانوں کی قدرتی آفات پر ریسرچ
پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل سوکا فیڈریشن کا قیام، ٹرنک والا فیملی کو خراج تحسین
چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان تیسری بار دلہا بن گئے، بشریٰ بی بی سے نکاح ہو گیا
بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، تعلیمی ادارے بند
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
اوورسیز پاکستانیز ویلفیر کونسل کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر پر کار ریلی کا انعقاد
راجہ نجابت اور ان کی ٹیم کامسئلہ کشمیرپر متحرک کردار قابل ستائش ہے: سٹوورٹ اینڈریو
کیا یورپ ٹوٹ رہا ہے ؟
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان سے 90فیصد دہشت گردی پاک فوج کے کامیاب آپریشن سےختم ہوئی: ڈاکٹر طاہر القادری
بر منگھم ... پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے برمنگھم میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی مدد بند کرتا ہے تو اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر قبول کیا جائے، قومی غیرت پرکوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔ قوت ارادی مضبوط ہوتو محتاجی کے بغیر بھی زندہ رہا جاسکتا ہے، پاکستان سے 90فیصد دہشت گردی پاک فوج کے کامیاب آپریشن سے ختم ہوئی، بقیہ 10فیصد دہشت گردی بھی ختم ہو جاتی اگر نواز شریف اور شہباز شریف پنجاب میں فوجی آپریشن کے راستے کی رکاوٹ نہ بنتے ، دہشت گردی کی یہ جنگ پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے تن تنہا لڑی، بین الاقوامی برادری ملکر دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کی طرف متوجہ ہو،دہشت گردی کی جنگ کو عالمی سیاست سے الگ تھلگ رکھا جائے، یہ انسانیت کی بقا کا معاملہ ہے۔اس موقع پر برطانیہ کے صدرسید علی عباس بخاری، ممبر برٹش پارلیمنٹ ناز شاہ، امجد علی(ایم این اے )اور ڈاکٹر زاہداقبال بھی ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ یہ بات ہم دکھ بھرے انداز سے کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں پاکستان کے ایک نااہل شخص کا کردارسوالیہ رہا، جس نے نیشنل ایکشن پلان کو ناکام بنانے میں منفی کردار ادا کیا جو دہشت گردوں کا اتحادی رہاہے اور شاید آج اسی وجہ سے پاکستان کو بیرونی دنیا سے طعنے سننے کو مل رہے ہیں،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے نااہل ثابت ہونے پر نکالا۔سپریم کورٹ نے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کیں اور کک آئوٹ کیا ۔انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کی پانامہ کرپشن کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے دیگ کے چاولوں میں سے ایک چاول نکالا جائے، ابھی پوری دیگ باقی ہے۔کرپٹ اشرافیہ نے پوری دنیا میں اپنی کاروباری ایمپائر قائم کر رکھی ہے، ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ حالات اور انتخابی نظام کے تحت الیکشن کروانے کا مطلب کرپٹ اشرافیہ کو واپس لانا ہوگا۔پہلے میں کہتا تھا ملک چلانے کے لیے اداروں میں اصلاحات لائی جائیں،اداروں کو کرپٹ اشرافیہ نے اس قدر پراگندہ کر دیا اب میں سمجھتا ہوں اداروں کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔بے رحم احتساب اور اداروں کی تشکیل نو ملک کو واپس پتڑی پر لاسکتی ہے۔ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر کا فیصلہ UNOکی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے یا دوسری صورت کشمیریوں کی خواہش ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔مسئلہ کشمیرکے یہی دو حل ہیں اس مسئلہ کو اسی تناظر میں دیکھا جائے ۔