مقبول خبریں
امیگریشن قوانین میں نرمی سے برطانوی معیشت اور سیاحوں کو فائدہ ہو گا: افضل خان
نواز شریف کیخلاف عوام نے فیصلہ رد کر کے ثابت کیا وہی اصلی لیڈر ہیں:ن لیگ برطانیہ
تارک وطن بزرگوں نے محنت کا جو بیج بویا تھا آج اسکے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں
وزیر اعظم گھر درست ضرور کریں، لیکن پاکستان کو تماشا نہ بنائیں: چودھری نثار
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برما میں مسلمانوں کا قتل عام انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے:وہیپ اینڈریو
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
قومی سلامتی کمیٹی: ٹرمپ کا بیان مسترد، پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے نہیں
اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے قرار دیا کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کیا اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہر ملک سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا۔قومی سلامتی کمیٹی نے ایک بار پھر باور کرایا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف استعمال کرنے کا مخالف ہے، پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی۔ اجلاس میں چین کی طرف سے پاکستان کی حمایت کا خیرمقدم کیا گیا۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کیخلاف تمام الزامات یکسر مسترد کرتے ہیں، پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے سے امن نہیں ملے گا، افغانستان میں امن اور استحکام میں پاکستان کا اپنا مفاد پنہاں ہے تاہم، افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف امریکہ کی مؤثر کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں چھپے دہشتگرد اور شر پسند پاکستان میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں، افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی، افغان بحران میں پاکستان نے افغان بھائیوں کی مدد کی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کے عزم پر کاربند ہے اور ہمسایہ ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں۔قومی سلامتی کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اربوں ڈالر امداد دیئے جانے کی باتیں غلط ہیں، پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ادھر، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دورہ سعودی عرب پر کمیٹی کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ سعودی قیادت دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کی معترف ہے۔اس سے پہلے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ٹرمپ کے پالیسی بیان پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دورہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔