مقبول خبریں
یو کے اسلامک مشن یوتھ ونگ لیڈز کی طرف سے عید ملن پارٹی :مسلم و نو مسلم کمیونٹیز کی شرکت
پیغام پاکستان فتویٰ دہشت گردی کیخلاف متفقہ قومی بیانیہ کا کردار ادا کرسکتا ہے: قاری صداقت علی
پیٹر برا کے سابق لارڈ میئر محمد ایوب کا پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت کا اعلان
ٹکٹوں کی تقسیم پر ناراض کھلاڑیوں کا کپتان کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج جاری
مقبوضہ کشمیر: بی جے پی کا اتحاد ختم کرنے کا اعلان، وزیراعلیٰ مستعفی
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کا نو منتخب کونسلروں میڈیا نمائندگان کے اعزاز میں افطار ڈنر
دشمنوں کے درمیان ایک کتاب
پکچرگیلری
Advertisement
اربوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں: ٹرمپ
ورجینیا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ کردیا، کہتے ہیں اربوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، امریکی صدر نے بھارت کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے، افغانستان میں کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کر دی۔ورجینیا کے علاقے آرلینگٹن میں فوجی اڈے پر اپنے خطاب میں امریکی صدر نے افغانستان اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر پاکستان کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ اربوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، اب برداشت نہیں کریں گے، پاکستان کو اپنی کمٹمنٹ دکھانا ہوگی۔ امریکی صدر نے کہا ہم چاہتے ہیں پاکستان افغانستان میں قیام امن میں ہماری مدد کرے۔امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکا کا موقف واضح ہے، افغان حکومت اور فوج کی مدد جاری رکھیں گے، افغان عوام کو ڈکٹیٹ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا افغانستان اپنے مستقبل کا خود تعین کرے گا، افغانستان اور پاکستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ امریکی صدر نے کہا دہشت گرد معصوم شہریوں کو قتل کرتے ہیں۔ جنگ واشنگٹن میں نہیں جیتی جاتی، گراؤنڈ پر موجود فوجی جنگ میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا انسداد دہشت گردی کے لیے فوج کے اختیارات بڑھا رہے ہیں، ہمارے فوجی جیت کے لیے جنگ لڑیں گے۔ امریکی صدر نے کہا چاہتے ہیں نیٹو اتحادی نئی حکمت عملی میں ساتھ دیں، ہماری حکمت عملی میں کوئی ٹائم فریم نہیں ہوگا، دہشت گردوں کو ہمارے منصوبوں کاعلم نہیں ہوناچاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا عراق سے تیز انخلا کا نتیجہ داعش کے تیزی سے پروان چڑھنے کی صورت میں نکلا، اس لئے ایسی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائی جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا ہماری نئی پالیسی میں افغانستان اور پاکستان خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ سفارتی، سیاسی اور فوجی حکمت عملی کو یکجا کر کے اقدام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا صرف فوجی طاقت سے افغانستان میں امن نہیں آسکتا، افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔