مقبول خبریں
امیگریشن قوانین میں نرمی سے برطانوی معیشت اور سیاحوں کو فائدہ ہو گا: افضل خان
نواز شریف کیخلاف عوام نے فیصلہ رد کر کے ثابت کیا وہی اصلی لیڈر ہیں:ن لیگ برطانیہ
تارک وطن بزرگوں نے محنت کا جو بیج بویا تھا آج اسکے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں
وزیر اعظم گھر درست ضرور کریں، لیکن پاکستان کو تماشا نہ بنائیں: چودھری نثار
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برما میں مسلمانوں کا قتل عام انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے:وہیپ اینڈریو
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
اربوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں: ٹرمپ
ورجینیا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ کردیا، کہتے ہیں اربوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، امریکی صدر نے بھارت کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے، افغانستان میں کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کر دی۔ورجینیا کے علاقے آرلینگٹن میں فوجی اڈے پر اپنے خطاب میں امریکی صدر نے افغانستان اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر پاکستان کی قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ اربوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، اب برداشت نہیں کریں گے، پاکستان کو اپنی کمٹمنٹ دکھانا ہوگی۔ امریکی صدر نے کہا ہم چاہتے ہیں پاکستان افغانستان میں قیام امن میں ہماری مدد کرے۔امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکا کا موقف واضح ہے، افغان حکومت اور فوج کی مدد جاری رکھیں گے، افغان عوام کو ڈکٹیٹ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا افغانستان اپنے مستقبل کا خود تعین کرے گا، افغانستان اور پاکستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ امریکی صدر نے کہا دہشت گرد معصوم شہریوں کو قتل کرتے ہیں۔ جنگ واشنگٹن میں نہیں جیتی جاتی، گراؤنڈ پر موجود فوجی جنگ میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا انسداد دہشت گردی کے لیے فوج کے اختیارات بڑھا رہے ہیں، ہمارے فوجی جیت کے لیے جنگ لڑیں گے۔ امریکی صدر نے کہا چاہتے ہیں نیٹو اتحادی نئی حکمت عملی میں ساتھ دیں، ہماری حکمت عملی میں کوئی ٹائم فریم نہیں ہوگا، دہشت گردوں کو ہمارے منصوبوں کاعلم نہیں ہوناچاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا عراق سے تیز انخلا کا نتیجہ داعش کے تیزی سے پروان چڑھنے کی صورت میں نکلا، اس لئے ایسی غلطی افغانستان میں نہیں دہرائی جائے گی۔ امریکی صدر نے کہا ہماری نئی پالیسی میں افغانستان اور پاکستان خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ سفارتی، سیاسی اور فوجی حکمت عملی کو یکجا کر کے اقدام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا صرف فوجی طاقت سے افغانستان میں امن نہیں آسکتا، افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔