مقبول خبریں
امیگریشن قوانین میں نرمی سے برطانوی معیشت اور سیاحوں کو فائدہ ہو گا: افضل خان
نواز شریف کیخلاف عوام نے فیصلہ رد کر کے ثابت کیا وہی اصلی لیڈر ہیں:ن لیگ برطانیہ
تارک وطن بزرگوں نے محنت کا جو بیج بویا تھا آج اسکے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں
وزیر اعظم گھر درست ضرور کریں، لیکن پاکستان کو تماشا نہ بنائیں: چودھری نثار
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برما میں مسلمانوں کا قتل عام انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے:وہیپ اینڈریو
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
ارفع ٹاور حملے کے ملزم وزیراعلی کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے:ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آپریشن خیبر فور اور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن خیبر فور پاک فوج کے مشکل ترین آپریشنز میں سے ایک تھا جسے مکمل کر لیا گیا ہے اور وادی راجگال اور اس کے قرب و جوار کا 250 مربع کلو میٹر علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں اور اس پورے آپریشن میں 2 سپاہی شہید جبکہ 6 زخمی ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ راجگال وادی میں 91 چیک پوسٹیں بنائی گئیں، سامان ہیلی کاپٹر کے ذریعے فراہم کیا گیا، خیبر ویلی میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، خیبر فور کے دوران افغان فورسز کیساتھ بھی مشاورت کی گئی، شیعہ سنی فساد کا لنک را اور این ڈی ایس سے ملتا ہے، 2017ء میں راولپنڈی میں سنی مسجد پر دہشتگرد حملہ ہوا، حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، وہ سنی ہی تھے مگر انہوں نے شیعہ بھیس میں حملہ کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی ہوئی ہے، پاکستان رینجرز پنجاب نے خفیہ اطلاعات پر 1728 آپریشنز کئے۔کراچی آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی پولیس مضبوط ہو گی تو سٹریٹ کرائمز کم ہونگے لیکن بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ارفعہ کریم ٹاور کے قریب ہونے والے خودکش حملے کا ٹارگٹ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے، اس دن ان کا ارفعہ ٹاور کا دورہ بھی شیڈول تھا لیکن عین وقت پر دہشتگردوں کا منصوبہ تبدیل ہوا اور انہوں نے پولیس کو ٹارگٹ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پر دہشتگردوں کے مزید حملے کا بھی منصوبہ تھا جن تک ہماری ایجنسیاں پہنچ چکی ہیں۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان سب کا ہے، جب تک ہم اکٹھے ہیں پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، سرحد کے اندر رہتے ہوئے اختلافات ہو سکتے ہیں، سرحد کے باہر ہم سب ایک ہیں، مشرف سیاسی بات ذاتی حیثیت سے کرتے ہیں، فوج کے حوالے سے پالیسی بیان آرمی چیف ہی دے سکتے ہیں، امریکہ کی افغان پالیسی کا اعلان کل ہو گا، دفتر خارجہ ہی اس حوالے سے بیان جاری کرے گا، سخت پالیسی آئے گی تو ہم نے پہلے پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے، ضرب عضب میں آپریشن بلاتفریق کیا گیا، تمام علاقوں کو کلیئر کرا لیا گیا ہے، فاٹا کے 95 فیصد لوگ واپس جا چکے ہیں باقی شاید جانا نہیں چاہتے، یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، آئی ڈی پیز کو کیمپوں میں ہر قسم کی سہولت دی، کسی کو زبردستی واپس نہیں بھیجا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا کوئی مسئلہ نہیں، ڈان لیکس رپورٹ پبلک کرنا حکومت کی صوابدید ہے۔