مقبول خبریں
کونسلر شکیل احمد تیسری بار لیبر پارٹی کی طرف سے مئی 2020ء کے لئے امیدوار نامزد
کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ بھارتی تبدیلی جنوبی ایشیا میں خطرناک بگاڑکا باعث ہوگی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
لوٹن:برطانیہ اور پاکستان میں ایک طرح کا قانون اور عدالتی نظام رائج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی میسر ہے اور ہم آج بھی قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی نے لیوٹن میں اپنے عزاز میں دیے گے عشائیے میں کیا۔کونسلر وحید اکبر نے آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں لیوٹن براہ کونسل کے مئیر پالر میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں لارڈ قربان حسین۔ مئیر آف لیوٹن چوہدری محمد ایوب۔ کونسلر محمد اسلم کونسلر۔ نسیم ایوب مسلم لیگ برطانیہ کے رہنما ذاکر کیانی۔ شبیر ملک۔ معروف کمیونٹی رہنما حسین شہید سرور اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ لارڈ قربان حسین نے جسٹس شیراز کیانی کی عدالتی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اوور سیزکشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے شفاف اور آسان انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جائیگی۔ مئیر آف لیوٹن چوہدری محمد ایوب نے بھی جسٹس شیراز کیانی کو لیوٹن آمد پر خوش آمدید کہا۔ اور لیوٹن کونسل کے ترقیاتی منصوبوں اور اپنی خدمات کے مطلق آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر جسٹس شیراز کیانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا برطانیہ اور پاکستان میں ایک طرح کا قانون اور عدالتی نظام رائج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی میسر ہے اور ہم آج بھی قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے پروسیکیوشن سسٹم میں کافی خامیاں موجود ہیں جس سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ جہاں بر طانیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی اور کشمیری اچھے سیاسی اور دوسرے عہدوں پر فائز ہیں وہاں کرائم میں بھی ہماری شرح کافی ہائی ہے۔ جو قابلِ تشویش ہے اور ہمیں اس پر کنٹرول کرنا چائے۔آخر میں انھوں نے سیاسی اور کمیونٹی رہنماں کا اس پر تکلف عشائیہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ (رپورٹ :شیراز خان)