مقبول خبریں
مانچسٹر ایرینا میں خود کش حملہ میں جاں بحق ہونیوالوں کی یا دمیں دعائیہ تقریب منعقد کی جائیگی
اسلامک ریلیف رنگ و نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکرمشن کی جانب گامزن ہے:مقررین
مسجد دارالمنور گمکول شریف راچڈیل میں شب برات پر روحانی محفل کا انعقاد
بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری پرفائرنگ، خاتون اور 3 بچے شہید،10 زخمی
نئی دہلی: انتہا پسندوں نے کشمیری خواتین پر لاٹھیاں اور ڈنڈے برسا دیئے
پیپلزپارٹی نوٹنگھم کے سابق صدر چوہدری علی شان پی پی پی برطانیہ کے نائب صدر منتخب
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
قائد تحریک امان اللہ خان کی دوسری برسی، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کا خراج عقیدت
اولڈ مین کی لالٹین
پکچرگیلری
Advertisement
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
لوٹن:برطانیہ اور پاکستان میں ایک طرح کا قانون اور عدالتی نظام رائج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی میسر ہے اور ہم آج بھی قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی نے لیوٹن میں اپنے عزاز میں دیے گے عشائیے میں کیا۔کونسلر وحید اکبر نے آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں لیوٹن براہ کونسل کے مئیر پالر میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں لارڈ قربان حسین۔ مئیر آف لیوٹن چوہدری محمد ایوب۔ کونسلر محمد اسلم کونسلر۔ نسیم ایوب مسلم لیگ برطانیہ کے رہنما ذاکر کیانی۔ شبیر ملک۔ معروف کمیونٹی رہنما حسین شہید سرور اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ لارڈ قربان حسین نے جسٹس شیراز کیانی کی عدالتی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اوور سیزکشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے شفاف اور آسان انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جائیگی۔ مئیر آف لیوٹن چوہدری محمد ایوب نے بھی جسٹس شیراز کیانی کو لیوٹن آمد پر خوش آمدید کہا۔ اور لیوٹن کونسل کے ترقیاتی منصوبوں اور اپنی خدمات کے مطلق آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر جسٹس شیراز کیانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا برطانیہ اور پاکستان میں ایک طرح کا قانون اور عدالتی نظام رائج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی میسر ہے اور ہم آج بھی قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے پروسیکیوشن سسٹم میں کافی خامیاں موجود ہیں جس سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ جہاں بر طانیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی اور کشمیری اچھے سیاسی اور دوسرے عہدوں پر فائز ہیں وہاں کرائم میں بھی ہماری شرح کافی ہائی ہے۔ جو قابلِ تشویش ہے اور ہمیں اس پر کنٹرول کرنا چائے۔آخر میں انھوں نے سیاسی اور کمیونٹی رہنماں کا اس پر تکلف عشائیہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ (رپورٹ :شیراز خان)