مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
فوج کے تمام سربراہوں سے اختلاف کا تاثر درست نہیں، کئی سے اچھی بنی: نواز شریف
لاہور: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کے درمیان تصادم کو روکنے کی ذمہ داری صرف میری نہیں، عوام کے ووٹ کے تقدس کو مجروح نہیں ہونے دوں گا اور اس مقصد کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں عوامی مینڈینٹ کو پامال کیا گیا تو عوام ٹینکوں کے سامنے آ گئے اور فوج کو پیچھے دھیکیل دیا۔ تاہم جب سابق وزیر اعظم سے استفسار کیا گیا کہ کیا پاکستان بھی ایسے ہی ٹکراؤ کی جانب بڑھ رہا ہے تو نواز شریف بولے، اداروں کے درمیان تصادم کے حق میں نہیں ہوں لیکن اس تصادم کے خلاف صرف مجھے ہی نہیں، سب کو ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر تو یہ ہے کہ تصادم کی صورت پیدا ہی نہ ہو مگر یہ صرف میری نہیں، سب کی ذمہ داری ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ تاثر ٹھیک نہیں کہ میری فوج کے سب سربراہوں سے مخالفت رہی، کچھ کے ساتھ بہت اچھی بنی بھی ہے، میں نے کبھی آئین سے انحراف نہیں کیا، جو قانون کہتا ہے اس کے مطابق چلتا ہوں، اگر کوئی قانون کی حکمرانی یا آئین پر یقین نہیں رکھتا تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، آمریت نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ کیا، وہ پاکستان کی تباہی کا نسخہ تھا، جب مشرف نے مارشل لاء لگایا تو وہ اور اس کے کچھ ساتھی میرے خلاف تھے لیکن باقی فوج میرے خلاف نہیں تھی بلکہ باقی فوج کو تو پتہ بھی نہیں تھا کہ مارشل لاء لگ گیا ہے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مرض کی تشخیص کر لی ہے جس کی وجہ سے ملک میں سارے مسائل ہیں، ملک کی ایک سمت کا تعین ضروری ہے اور یہ ووٹ کے تقدس کا احترام یقینی بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے کریں گے، ووٹ کے تقدس کی بحالی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے، یہ احتجاج نہیں بلکہ ایک مہم ہے اور اسے میں دوبارہ منتخب ہونے کیلئے نہیں چلا رہا، وزیر اعظم کی کرسی پھولوں کا بستر نہیں، کانٹوں کی سیج ہے، وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنا تو خود ایک قربانی ہے۔عمران خان سے متعلق سوال پر نواز شریف بولے، ان کی باتوں کا جواب نہ دینا ہی اچھا ہے۔ آصف زرداری کے بارے میں کہا، میں نے ان سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کوئی مانگنے کا ارادہ ہے۔ رضا ربانی کی تجویز پر انہوں نے کہا کہ گرینڈ ڈائیلاگ وقت کا تقاضہ ہے، کچھ دوستوں سے کہا ہے کہ رضا ربانی سے پوچھیں کہ ان کے ذہن میں اس کا کیا خاکہ ہے۔