مقبول خبریں
راجہ طاہر مسعود کو ملکہ برطانیہ کی طرف سے کمیونٹی کی خدمات پر برٹش ایمپائر میڈل سے نوازا گیا
برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے پاکستانی کمیونٹی کیلئے عید الفطر اوپن ہائوس کا اہتمام
مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کی جانب سے شامی تارکین وطن کیلئے خوراک کا کانوائے روانہ کر نے کی تقریب
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی کروڑوں روپے کے اثاثوں کے مالک
محبوبہ مفتی کی حکومت ختم، صدر رام ناتھ کووند نے گورنر راج نافذ کر دیا
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
پاکستان کشمیر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر پروفیسر فیاض رشید و دیگر کا عید ملن پارٹی کا اہتمام
وصال و ہجر کا قصہ بہت پرانا ہے
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ:سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر
اولڈہم:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے نہتے معصوم اور بے گناہ لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم عالم اقوام اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے،انسانی حقوق کی پامالی زور کا معمول بن گئی ہے کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح سے یہ انکا پیدائشی ہے جو ہر صورت ملنی چاہئے،مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں دہشت گردی سے تشبیح دینا ایک بد ترین مزاح ہے،عالمی میڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ طور پر جو رپورٹ مرتب کی ہے اس میں واضع طور پر کہا گیا ہے مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ایسا گھر موجود نہیں ہے جہاں پر بھارتی جارحیت کی مثال موجود نہ ہو،برطانیہ کی سب سے زیادہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو انکا حق دلوانے کیلئے مرکزی کردار ادا کریں،کیونکہ تقسیم پاک و ہند کے وقت اس اہم ترین مسئلہ کو ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا، ان خیالات کا برملا اظہار آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے زکریا اینڈ کمپنی سالیٹرز کے روح رواں ظفر اقبال سالیٹر کی جانب سے اپنی رہائش گاہ پر انکے اعزاز میں دیئے گئے ایک استقبالیہ کے موقع پر کیا،انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں عدالتوں کا نظام قدرے بہتر ہے،ججوں کی کمی،فریقین کا جانب سے تاخیری حربے اور بعض اوقات وکلا کی جانب سے دانستہ طور پر کیس کو لمبا کرنے کی وجہ سے فیصلے ہونے میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی ہے بلکہ الیکشن ایکٹ کے تحت عبوری آئین ہے جسکا اطلاق کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ قانون کے عین مطابق فیصلہ کرتی ہیں اس میں ذاتی پسند نہ پسند کا عنصر شامل نہیں ہوتا ہے،آزاد کشمیر میں بین الاقوامی قانون کے تحت1971کے ایکٹ میں ترمیم کر کے بنیادی حقوق دیئے گئے اس سے پہلے نہیں تھے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر