مقبول خبریں
پاکستان کے نظریاتی استحکام کیلئے مسلم لیگ کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:فدا حسین کیانی
گوادر چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر گوادر رئیل اسٹیٹ کیلئے اثاثہ ثابت ہونگے: ذیشان چوہدری
کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہےہیں ،یہ انکا پیدائشی حق ہے:چوہدری جاوید ،چوہدری یعقوب
نواز شریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار، شق 203 سینیٹ سے بھی منظور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
ڈاکٹر سجاد کریم کی قیادت میں یورپی پارلیمنٹ کے وفد کا جارحیا پہنچنے پرپرتپاک استقبال
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ:سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر
اولڈہم:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے نہتے معصوم اور بے گناہ لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم عالم اقوام اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے،انسانی حقوق کی پامالی زور کا معمول بن گئی ہے کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح سے یہ انکا پیدائشی ہے جو ہر صورت ملنی چاہئے،مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں دہشت گردی سے تشبیح دینا ایک بد ترین مزاح ہے،عالمی میڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ طور پر جو رپورٹ مرتب کی ہے اس میں واضع طور پر کہا گیا ہے مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ایسا گھر موجود نہیں ہے جہاں پر بھارتی جارحیت کی مثال موجود نہ ہو،برطانیہ کی سب سے زیادہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو انکا حق دلوانے کیلئے مرکزی کردار ادا کریں،کیونکہ تقسیم پاک و ہند کے وقت اس اہم ترین مسئلہ کو ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا، ان خیالات کا برملا اظہار آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے زکریا اینڈ کمپنی سالیٹرز کے روح رواں ظفر اقبال سالیٹر کی جانب سے اپنی رہائش گاہ پر انکے اعزاز میں دیئے گئے ایک استقبالیہ کے موقع پر کیا،انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں عدالتوں کا نظام قدرے بہتر ہے،ججوں کی کمی،فریقین کا جانب سے تاخیری حربے اور بعض اوقات وکلا کی جانب سے دانستہ طور پر کیس کو لمبا کرنے کی وجہ سے فیصلے ہونے میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی ہے بلکہ الیکشن ایکٹ کے تحت عبوری آئین ہے جسکا اطلاق کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ قانون کے عین مطابق فیصلہ کرتی ہیں اس میں ذاتی پسند نہ پسند کا عنصر شامل نہیں ہوتا ہے،آزاد کشمیر میں بین الاقوامی قانون کے تحت1971کے ایکٹ میں ترمیم کر کے بنیادی حقوق دیئے گئے اس سے پہلے نہیں تھے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر