مقبول خبریں
جموں وکشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات منعقد کریگی
برطانیہ میں اپنی صلاحیتیں منوانے کے جتنے مواقع ہیں کسی اور ملک میں نہیں: رحمان چشتی و دیگر
پاکستان میں فٹبال کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل سوکا فیڈریشن کا قیام، ٹرنک والا فیملی کو خراج تحسین
وزارتِ عظمیٰ کے بعد نواز شریف مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی فارغ
بھارتی ریاستی دہشتگردی کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال، تعلیمی ادارے بند
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے سلسلہ میں پروگرام کا انعقاد
اوورسیز پاکستانیز ویلفیر کونسل کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر پر کار ریلی کا انعقاد
راجہ نجابت اور ان کی ٹیم کامسئلہ کشمیرپر متحرک کردار قابل ستائش ہے: سٹوورٹ اینڈریو
عمران خان مارگریٹ اور میں
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ:سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر
اولڈہم:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی اداروں کی جانب سے نہتے معصوم اور بے گناہ لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم عالم اقوام اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کے لئے لمحہ فکریہ ہے،انسانی حقوق کی پامالی زور کا معمول بن گئی ہے کشمیر سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد افراد کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح سے یہ انکا پیدائشی ہے جو ہر صورت ملنی چاہئے،مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں دہشت گردی سے تشبیح دینا ایک بد ترین مزاح ہے،عالمی میڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ طور پر جو رپورٹ مرتب کی ہے اس میں واضع طور پر کہا گیا ہے مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ایسا گھر موجود نہیں ہے جہاں پر بھارتی جارحیت کی مثال موجود نہ ہو،برطانیہ کی سب سے زیادہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو انکا حق دلوانے کیلئے مرکزی کردار ادا کریں،کیونکہ تقسیم پاک و ہند کے وقت اس اہم ترین مسئلہ کو ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا، ان خیالات کا برملا اظہار آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ سابق چیف جسٹس محمد اعظم خان نے زکریا اینڈ کمپنی سالیٹرز کے روح رواں ظفر اقبال سالیٹر کی جانب سے اپنی رہائش گاہ پر انکے اعزاز میں دیئے گئے ایک استقبالیہ کے موقع پر کیا،انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں عدالتوں کا نظام قدرے بہتر ہے،ججوں کی کمی،فریقین کا جانب سے تاخیری حربے اور بعض اوقات وکلا کی جانب سے دانستہ طور پر کیس کو لمبا کرنے کی وجہ سے فیصلے ہونے میں بہت زیادہ تاخیر ہو جاتی ہے بلکہ الیکشن ایکٹ کے تحت عبوری آئین ہے جسکا اطلاق کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ قانون کے عین مطابق فیصلہ کرتی ہیں اس میں ذاتی پسند نہ پسند کا عنصر شامل نہیں ہوتا ہے،آزاد کشمیر میں بین الاقوامی قانون کے تحت1971کے ایکٹ میں ترمیم کر کے بنیادی حقوق دیئے گئے اس سے پہلے نہیں تھے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر