مقبول خبریں
یورپین اسلامک سینٹر کے منتظم اعلیٰ سکالر مولانا محمد اقبال کے والد محترم کی وفات پر اظہار تعزیت
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے پنجاب میں سرمایہ کاری کے منافع بخش مواقع ہیں،افضال بھٹی
پاک برٹش انٹر نیشنل ٹرسٹ کے چیئرمین چوہدری سرفراز کی جانب سے عشائیہ کی تقریب
وزیراعلیٰ شہباز شریف سے وفد کے ہمراہ وانگ زیوتاؤ کی ملاقات،مختلف امور پر تبادلہ خیال
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجوان شہید،مظاہرے،جھڑپیں
لوٹن ٹائون ہال میں ادبی بیٹھک، لارڈ قربان نے صدارت کی معروف شعرا کرام کی شرکت
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
پاکستان کی سیاسی صورتحال، یورپین یونین جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے : ڈاکٹر سجاد کریم
مودی کی سبکی
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج کے ہاتھوں3 شہیدسپرد خاک،ہزاروں افراد کی شرکت
سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونیوالے تین نوجوانوں کو ان کے آبائی علاقوں میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ واقعہ کیخلاف مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے اور قابض فوج کے تشددسے مزید20 افراد زخمی ہوگئے جبکہ مشتعل مظاہرین نے قابض فوجیوں پر پتھراؤ کیا ۔ اس دوران شہدا کے آبائی علاقوں حاجن ،بٹہ پورہ اورسوپور میں لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور قابض فورسز پر نا صرف پتھراؤ کیا بلکہ اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی ۔ بانڈی پورہ، سوپوراور حاجن میں مکمل ہڑتال کی گئی، تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی اور نظام مکمل ٹھپ ہوگیا۔ ضلع بانڈی پورہ کے صدرکوٹ بالامیں تین نوجوان اس وقت شدید زخمی ہوگئے جب سکیورٹی فورسز نے احتجاجیوں پر مبینہ طور پر براہ راست فائرنگ کی، زخمی نوجوانوں کی شناخت لطیف احمد خان، ہلال احمد وانی اور سہیل احمد بٹ کے طور پر ہوئی ۔ بٹہ پورہ میں نوجوان جمع ہوئے اور انہوں نے مظاہرے شروع کئے جس دوران شدید پتھراؤ کیا گیا اور فورسز نے شیلنگ کی، ایک نوجوان کے سر میں شیل لگا اور وہ شدید زخمی ہوا جس کی حالت نازک ہے ۔انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے متعدد علاقوں بالخصوص قصبہ سوپور اور بارہمولہ میں احتیاطی اقدام کے طور پر تمام تعلیمی ادارے بند رکھے ۔ انتظامیہ کے مطابق شمالی کشمیر میں ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کیلئے موبائل ،انٹر نیٹ اور مواصلاتی نظام پر پابندی عائد کر دی گئی ، بارہمولہ سوپور اور بانڈی پورہ میں تمام سکولوں اور کالجوں کو بند کر دیا گیا جبکہ بارہمولہ میں دفعہ 144نافذکر دی گئی ۔ادھر خان پورہ بارہمولہ میں جاوید احمد ڈار کی میت جونہی لائی گئی تو ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے نعرے بازی شروع کی۔بعد میں ایک کھلی جگہ پر انکی نماز جنازہ ادا کی گئی اور جلوس کی صورت میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔حاجن کے عابد حمید میر کی میت جونہی انکے آبائی گھر لائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا۔مختلف مقامات پر نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے جلوس نکال کر آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔نوگام گاؤں گوپالپورہ میں سہیل راٹھور کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں افراد نے شرکت کی ،چوک بائی پاس سرینگر پر سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی گئی جس کے دوران ایک اہلکار زخمی ہوا۔واقعہ کے بعد وسیع علاقے کو محاصرہ میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی گئی جبکہ واردات انجام دینے کے بعد جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے دوسری جانب ریاستی پولیس نے دس جولائی کو ضلع اننت ناگ میں یاتریوں پرحملے میں مدددینے کے الزام میں تین شہریوں کوگرفتارکرلیا۔ریاستی پولیس کے انسپکٹرجنرل نے ا لزام عائدکیاکہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ابواسماعیل نے دیگر ساتھیوں کی مددسے یہ کارروائی کی ۔